چین انڈیا سرحدی تنازع: انڈین اور چینی فوجوں میں ’تازہ جھڑپ‘ اور ’دونوں ممالک کے فوجیوں کے زخمی‘ ہونے کی اطلاعات

بی بی سی ہندی کے مطابق انڈین فوج نے سکم میں چین، انڈیا سرحد کے قریب ناکو لا سیکٹر میں دونوں ملکوں کے فوجیوں کے درمیان جھڑپ کی تصدیق کی ہے۔

3

انڈیا کے مقامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق چین اور انڈیا کی متنازع سرحد پر دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان دوبارہ ایک جھڑپ ہوئی ہے جس میں دونوں اطراف کے فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

بی بی سی ہندی کے مطابق انڈین فوج نے سکم میں چین، انڈیا سرحد کے قریب ناکو لا سیکٹر میں دونوں ملکوں کے فوجیوں کے درمیان جھڑپ کی تصدیق کی ہے۔

ایک بیان میں انڈین فوج نے کہا ہے کہ ’20 جنوری کو انڈیا اور چین کی فوج کے بیچ شمالی سکم میں ایک معمولی جھڑپ ہوئی تھی اور اصولوں کے مطابق یہ معاملہ مقامی کمانڈروں نے سلجھا لیا ہے۔‘ انڈین آرمی نے میڈیا کو کہا ہے کہ وہ اس حوالے سے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے سے گریز کریں۔

نمائندہ بی بی سی شکیل اختر کے مطابق اس جھڑپ میں فوجیوں نے ایک دوسرے کو گھونسوں اور مکوں سے نشانہ بنایا جس کے باعث متعدد فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ اس جھڑپ میں دونوں جانب کے کم ازکم ڈیڑھ سو فوجی ملوث تھے۔

انڈین ذرائع ابلاغ کے مطابق اس واقعہ میں 20 چینی جبکہ چار انڈین فوجی زخمی ہوئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس متنازع سرحدی علاقے میں جھڑپوں کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھی ہے۔

گذشتہ سال جون میں وادی گلوان میں ایک جھڑپ کے نتیجے میں کم از کم 20 انڈین فوجیوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی تھی جبکہ چین نے اس حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا تھا کہ اس کے کتنے فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے تھے۔

انڈین میڈیا کے مطابق یہ حالیہ جھڑپیں سکم میں ’ناکو لا پاس‘ کے قریب پیش آئیں ہیں۔ سکم کا علاقے بھوٹان اور نیپال کے بیچ میں واقع ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مبینہ طور پر چند چینی فوجیوں نے شمالی سکم میں ناکو لا بارڈر پار کر کے انڈیا کے علاقے میں آنے کی کوشش کی جس پر یہ تنازع کھڑا ہو گیا۔

انڈیا اور چین کے درمیان دنیا کی طویل ترین متنازع سرحد ہے۔ دونوں ملکوں کا دعویٰ ہے کہ دراصل یہ علاقہ ان کے ملک کا حصہ ہے۔

اس 3440 کلومیٹر طویل سرحد پر دریا، جھیلیں اور برف سے ڈھکی چوٹیاں ہیں اور اسی وجہ سے سرحد کی جگہ وقت کے ساتھ تبدیل ہو سکتی ہے۔ کئی موقع ایسے آتے ہیں جب دونوں ملکوں کے فوجی آمنے سامنے ہوتے ہیں جس سے کبھی کبھار جھڑپ کے امکان پیدا ہوتے ہیں۔

انڈیا چین تعلقات

دونوں ملکوں کے درمیان صرف ایک باقاعدہ جنگ سنہ 1962 میں لڑی گئی تھی جس میں انڈیا کو بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ریاست سکم کے اس متنازع علاقے میں دونوں فوجوں کے درمیان تصادم کوئی نئی بات نہیں ہے۔ گذشتہ سال مئی میں بھی فوجیوں کے درمیان مار پیٹ ہوئی تھی۔ سنہ 2017 میں ڈوکلام کے علاقے میں دونوں افواج دو مہینے تک ایک دوسرے کے مقابل کھڑی تھیں اور تقریبآ جنگ جیسی صورتحال پیدا ہو گئی تھی ۔ چینی فوج نے اب اس خطے میں بڑے پیمانے پر ایک مستقل فوجی اڈہ تعمیر کر لیا ہے۔

گذشتہ دنوں ارونا چل پردیش سے یہ خبر آئی تھی کہ چین نے انڈیا کی سرحد کے کئی کلومیٹر اندر ایک پورا گاؤں تعمیر کر لیا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ وہ ارونا چل پردیش کو اپنا خطہ مانتا ہے۔

تجزیہ، وکاس پانڈے

انڈیا اور چین کے درمیان تناؤ اور جھڑپوں کی خبریں اب بھی زیر بحث ہیں۔ انڈین فوج کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ملک مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنا چاہتے ہیں اور ان جھڑپوں سے بات چیت کے عمل کو خراب نہیں ہونے دینا چاہتے۔

تاحال دونوں ملکوں کے درمیان کئی بار فوجی سطح پر رابطے اور بات چیت ہوئی ہے لیکن ان سے تعلقات میں کوئی بڑی بہتری نہیں آسکی۔

انڈیا اور چین کے فوجی اس متنازع سرحد پر اب بھی کئی مقامات پر آمنے سامنے ہوتے ہیں جس سے کسی جھڑپ کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

سابق انڈین افسران کا کہنا ہے کہ جب صورتحال غیر مستحکم ہو تو ایسی جھڑپوں کو روکا نہیں جاسکتا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دونوں ملکوں کو بات چیت جاری رکھنی چاہیے کیونکہ کوئی بھی جنگ نہیں چاہتا، محدود انداز میں بھی نہیں۔

کور کمانڈرز کی سطح کے مذاکرات

یاد رہے کہ ڈھائی ماہ کے وقفے کے بعد انڈیا اور چین کی افواج نے اتوار کو کور کمانڈر کی سطح پر مذاکرات کا نواں دور شروع کیا ہے جس میں دونوں فریقین نے اس حوالے سے بات چیت کی کہ مشرقی لداخ کی سرحدوں سے فوجوں کی آپس کی جھڑپوں کو کم کیا جائے۔

انڈیا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ نواں دور لائن آف ایکچوئل کنٹرول میں چین کی سرحد پر واقع مولڈو سرحدی پوائنٹ پر منعقد ہوا ہے۔

مذاکرات کے اس دور میں بالخصوص توجہ اس بات پر تھی کہ مختلف طریقہ کار کا جائزہ لیا جائے جن کی مدد سے اُس پانچ نکاتی معاہدے پر عمل کیا جائے جو کہ گذشتہ سال 10 ستمبر کو انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور چینی ہم منصب وانگ یی کے مابین طے پایا گیا تھا۔

ماسکو میں کیے گئے اس معاہدے میں دونوں ممالک کے درمیان یہ طے پایا گیا تھا کہ دونوں افواج کو ہدایات دی جائیں گی کہ وہ ایسے کسی بھی قدم سے دور رہیں جس کی وجہ سے کوئی جھڑپ شروع ہو اور تنازع دوبارہ کھڑا ہو جائے، اور سرحد کے انتظامی امور کے قواعد اور پروٹوکول کا پورا لحاظ کیا جائے۔

ان مذاکرات کا آٹھواں دور گذشتہ سال نومبر میں ہوا تھا۔

انڈیا مسلسل اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ ان مذاکرات میں چین پر ذمہ داری ہے کہ وہ اختلافات کو بڑھنے نہ دیں۔

گذشتہ سال اکتوبر میں ہونے والے ساتویں دور کے مذاکرات میں چین نے مطالبہ کیا تھا کہ انڈیا اپنی فوجیں پانگونگ جھیل کے جنوبی کنارے کے پاس سے ہٹائے۔ لیکن انڈیا اس بات پر مصر رہا کہ فوجیں ہٹانے کا عمل ایک ساتھ ہی شروع ہوگا۔

لداخ کے پاس انتہائی بلندی پر دونوں ملکوں نے کم از کم 50 ہزار فوجی تعینات کر رکھے ہیں جہاں پر اکثر اوقات درجہ حرارت صفر سینٹی گریڈ سے بھی کم ہوتا ہے۔

متواتر ملاقاتوں کے باوجود ابھی تک انڈیا اور چین کسی متفقہ فیصلے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ موسم سرما میں چین ایسی کوئی کارروائی نہیں کرے گے جو انڈیا کو حیران کر سکے، لیکن اپریل کے مہینے میں پگھلتی برف کے ساتھ کارروائیاں بڑھنے کا خدشہ ضرور ہے۔

انڈیا چین تعلقات

گذشتہ برس پندرہ اور سولہ جون کی درمیانی شب لداخ کی گلوان وادی میں ایل اے سی پر ہونے والی ایک جھڑپ میں انڈین فوج کے ایک کرنل سمیت 20 جوان ہلاک ہو گئے تھے۔

انڈیا کا دعویٰ ہے کہ چینی فوج کا بھی نقصان ہوا ہے تاہم اس کے بارے میں چین کی جانب سے کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ چین نے اپنی فوج کے کسی بھی طرح کے نقصان کی بات تسلیم نہیں کی ہے۔ اس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور دونوں ہی ایک دوسرے کے خلاف جارحیت کا الزام لگا رہے ہیں۔

بتایا جارہا ہے کہ وادی گلوان میں انڈیا اور چین لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر دونوں طرف سے فوجیوں کے مابین جھڑپ میں، لوہے کی راڈز کا استعمال کیا گیا جن پر کیلیں لگی ہوئی تھیں۔

انڈیا چین سرحد پر موجود انڈین فوج کے ایک اعلیٰ افسر نے بھی بی بی سی کو یہ تصاویر بھجوائیں اور بتایا کہ چینی فوجیوں نے اس ہتھیار سے انڈین فوجیوں پر حملہ کیا تھا۔

چین اور انڈیا کی فوج کے مابین پرتشدد جھڑپوں میں انڈین فوج کے 20 فوجی ہلاک ہوئے۔ یہ سب بہار رجمنٹ کے 16 جوان تھے۔ پہلے تین جوانوں کی ہلاکت کی خبر آئی لیکن بعد میں خود انڈیا کی فوج نے بھی ایک بیان جاری کیا کہ 17 دیگر فوجی جو شدید زخمی ہوئے تھے وہ بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔

دوسری جانب چین کبھی بھی کسی جنگ میں ہلاک ہونے والے اپنے فوجیوں کی تعداد نہیں بتاتا ہے۔ 17 جون کو یہی سوال چینی وزارت خارجہ کی پریس کانفرنس میں خبر رساں ادارے پی ٹی آئی نے پوچھا کہ انڈین میڈیا چینی فوجیوں کے جانی نقصان کی بات کر رہا ہے کیا آپ اس کی تصدیق کرتے ہیں؟

اس سوال کے جواب میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان چاو لیجیان نے کہا کہ ’دونوں ممالک کے فوجی، مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میرے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہے جو میں بتا سکوں۔ مجھے یقین ہے اور آپ نے بھی دیکھا ہو گا کہ جب سے ایسا ہوا ہے فریقین بات چیت کے ذریعے تنازع کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ امن بحال ہو سکے۔‘

تبصرے