قطری وزیر خارجہ کا طالبان کی حکومت قبول کرنے سے انکار

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم نے ہمیشہ اور گزشتہ روز بھی طالبان اور افغان حکومت پر زور دیا ہے کہ افغان شہریوں بشمول خواتین کے حقوق کی حفاظت لازمی ہے اور افغانستان کی ترقی میں خواتین کا اہم کردار ہے'۔

0 5

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

قطر کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ خلیجی ملک نے افغانستان کے نئے طالبان حکمرانوں پر زور دیا ہے کہ وہ خواتین کے حقوق کا احترام کریں جبکہ ان کی حکومت کو تسلیم کرنے پر غور کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔

پاک ایشیا ویب چینل  کی رپورٹ کے مطابق دوحہ میں فرانسیسی ہم منصب جین یوز لی ڈرین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب میں قطر ی وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی کا کہنا تھا کہ درجنوں فرانسیسی شہری اب بھی افغانستان میں ہیں اور پیرس، قطر کے ساتھ مل کر انہیں نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے ہمیشہ اور گزشتہ روز بھی طالبان اور افغان حکومت پر زور دیا ہے کہ افغان شہریوں بشمول خواتین کے حقوق کی حفاظت لازمی ہے اور افغانستان کی ترقی میں خواتین کا اہم کردار ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے انہیں قطر سمیت متعدد مسلم ممالک کی مثالیں دیں، ایسا ملک جو اسلامی نظام کے ماتحت ہے، جہاں خواتین کو ان کے تمام حقوق حاصل ہیں’۔

1996 سے 2001 تک سابق اقتدار میں طالبان نے تعلیم و ملازمت سمیت خواتین کے دیگر حقوق پر پابندی عائد کردی تھی، اور خدشہ ہے کہ گزشتہ ماہ غیر ملکی فوجی انخلا اور مغربی حمایت یافتہ حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار میں واپس آنے کے بعد وہ یہ سب دہرائیں گے۔

قطر، جہاں مکمل بادشاہت اور سیاسی جماعتوں پر پابندی ہے، خود خواتین کے حقوق کے حوالے سے انسانی حقوق واچ اور دیگر کی تنقدی کی زد میں ہے۔

اگرجہ خلیجی ملک میں خواتین کو نسبتاً آزادی حاصل ہے تاہم وہ اب بھی سرپرستانہ نظام میں ہیں جو انہیں بنیادی حقوق جیسے شادی، سفر اور ذاتی صحت تک رسائی کے حوالے سے مرد سرپرست کی منظوری کے بغیر آزاد فیصلوں سے روکتا ہے۔

اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی کمشنر مشل بیچلیٹ کا کہنا تھا کہ طالبان حقوق کے متعلق عوامی وعدے کی خلاف ورزی کر چکے ہیں جس میں خواتین کو گھروں میں رہنے، نو عمر بچیوں کے اسکول جانے پر پابندی اور سابق دشمنوں کی گھر گھر تلاشی شامل ہیں۔

خیال رہے کہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن نے اتوار کو طالبان حکومت کے وزیر اعظم اور دیگر سینیئر عہدیداران سے ملاقات کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے قطری حکام سے کہا ہے کہ وہ عالمی برادری کے ساتھ مل کر چلنا چاہتے ہیں اور ان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد کابل میں بند کیے جانے والے سفارت خانے دوبارہ کھلوانا چاہتے ہیں۔

قطری اور فرانسیسی وزرا نے کہا کہ عالمی برادری، گروپ کی جانب سے وعدے پورے کیے جانے کی منتظر ہے اور کابل میں نئی حکومت کو تسلیم کرنے سے متعلق بات کرنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔

شیخ محمد بن عبدالرحمٰن نے کہا کہ ‘ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت افغان حکومت کو تسلیم کرنے کے معاملے پر اصرار کسی کے لیے بھی سودمند نہیں ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘قطر کی بطور ثالث پہلی جگہ غیر جانبدار رہی ہے، ہم کہہ چکے ہیں کنارہ کشی کبھی جواب نہیں ہوگی، تسلیم کرنا ترجیح نہیں ہے لیکن بات چیت ہم سب کے لیے آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے’۔

قطر کا طالبان پر کافی اثر و رسوخ ہے اور اس نے اپنے شہریوں، دیگر غیر ملکی شہریوں اور مغربی ممالک کی مدد کرنے والے افغان شہریوں کے انخلا کے لیے امریکی قیادت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

قطر کا دارالحکومت دوحہ طالبان کے سیاسی دفتر کا میزبان ہے جس نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی نگرانی کی جس کے نتیجے میں افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا ہوا۔

جین یوز لی ڈرین کا کہنا تھا کہ فرانس کو افغانستان میں مزید جامع حکومت کی توقع تھی لیکن طالبان اسے بنانے میں ناکام رہے، گروپ نے گزشتہ ہفتے اپنی کابینہ کا اعلان کیا جو ان کے اعلیٰ رہنماؤں پر مشتمل ہے اور اس میں دیگر افغان فریقین شریک نہیں ہیں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Privacy & Cookies Policy