قندھار میں لوگوں کو گھروں سے بے دخل کرنے پر ہزاروں افراد کا طالبان کے خلاف احتجاج

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق مظاہرے کے عینی شاہد سابق حکومتی عہدیدار کے مطابق تقریباً 3 ہزار خاندانوں کو کالونی چھوڑنے کے کہنے کے بعد مظاہرین قندھار میں گورنر ہاؤس کے سامنے اکٹھے ہوئے۔

0 7

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

ایک سابق حکومتی عہدیدار اور مقامی ٹیلی ویژن فوٹیج کے مطابق افغانستان کے جنوبی شہر قندھار میں ہزاروں افغانوں نے طالبان کے خلاف آرمی کالونی کو خالی کرنے کے احکامات جاری کرنے پر احتجاج کیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق مظاہرے کے عینی شاہد سابق حکومتی عہدیدار کے مطابق تقریباً 3 ہزار خاندانوں کو کالونی چھوڑنے کے کہنے کے بعد مظاہرین قندھار میں گورنر ہاؤس کے سامنے اکٹھے ہوئے۔

مقامی میڈیا کی فوٹیج میں دکھایا گیا کہ لوگوں کا ہجوم نے شہر میں سڑک بلاک کردی ہے۔

متاثرہ علاقے پر بنیادی طور پر ریٹائرڈ آرمی جنرلز کے خاندانوں اور افغان سکیورٹی فورسز کے دیگر ارکان رہائش پذیر ہیں۔

عہدیدار نے بتایا کہ ان خاندانوں میں سے چند تقریبا 30 سالوں سے ضلع میں مقیم تھے اور انہیں خالی کرنے کے لیے تین روز کا وقت دیا گیا ہے۔

طالبان ترجمان نے فوری طور پر انخلا پر رائے دینے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

واضح رہے کہ تقریباً ایک ماہ قبل کابل پر قبضہ کرکے افغانستان میں اقتدار کی باگ دوڑ سنبھالنے والے طالبان کے خلاف سامنے آنے والے مظاہرے جھڑپوں کے بعد ختم ہوئے۔

تاہم آج ہونے والے مظاہرے سے تشدد کی کوئی تصدیق شدہ اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔

طالبان رہنماؤں نے بدسلوکی کے کسی بھی واقعے کی تحقیقات کے عزم کا اظہار کیا ہے تاہم مظاہرین کو احتجاج کرنے سے پہلے اجازت لینے کا حکم دیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ طالبان کا پرامن احتجاج پر ردعمل تیزی سے پرتشدد ہوتا جا رہا ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Privacy & Cookies Policy