ملا برادر افغانستان میں نئی حکومت کی قیادت کریں گے

ایک طالبان عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ 'تمام اعلیٰ رہنما کابل پہنچ چکے ہیں جہاں نئی حکومت کے اعلان کے لیے تیاریاں آخری مراحل میں ہیں'۔

0 3

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جہاں افغانستان میں طالبان وادی پنج شیر میں باغیوں سے لڑائی میں مصروف ہیں اور معاشی تباہی سے بچنے کے لیے جدو جہد کر رہے ہیں وہیں طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان کے شریک بانی ملا برادر نئی افغان حکومت کی قیادت کریں گے جس کا اعلان جلد کیا جائے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق تین ذرائع نے بتایا کہ ملا برادر جو طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ ہیں، ملا محمد یعقوب، جو طالبان کے سابق بانی ملا عمر کے بیٹے ہیں اور شیر محمد عباس ستانکزئی، حکومت میں اعلیٰ عہدوں پر ذمہ داریاں ادا کریں گے۔

ایک طالبان عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ ‘تمام اعلیٰ رہنما کابل پہنچ چکے ہیں جہاں نئی حکومت کے اعلان کے لیے تیاریاں آخری مراحل میں ہیں’۔

طالبان کے ایک اور ذرائع نے بتایا کہ طالبان کے سپریم مذہبی رہنما ہیبت اللہ اخونزادہ مذہبی معاملات اور گورننس پر توجہ دیں گے۔

طالبان، جنہوں نے 15 اگست کو ملک کے بیشتر حصوں پر قبضہ کرنے کے بعد کابل پر قبضہ کر لیا تھا، کو دارالحکومت کے شمال میں پنجشیر وادی میں شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔

علاقائی ملیشیا کے کئی ہزار جنگجو اور حکومتی کی باقی فوجی اہلکار سابق کمانڈر احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود کی قیادت میں ویران وادی میں اکٹھے ہوئے ہیں۔

سمجھوتہ کے لیے مذاکرات کی کوششیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار دکھائی دیتی ہیں اور ہر فریق دوسرے کو ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرارہا ہے۔

انسانی بحران

بین الاقوامی عطیہ دہندگان اور سرمایہ کاروں کی نظر میں حکومت کی قانونی حیثیت خشک سالی اور ایک تنازع کی تباہ کاریوں سے دوچار ہونے والی معیشت کے لیے اہم ہو گی جس نے ایک اندازے کے مطابق 2 لاکھ 40 ہزار افغانیوں کو ہلاک کیا۔

انسان دوست تنظیموں نے آنے والی تباہی کے بارے میں خبردار کیا ہے کہ کروڑوں ڈالر کی غیر ملکی امداد پر برسوں سے انحصار کرنے والی معیشت تباہی کے قریب ہے۔

امدادی ایجنسیوں کا کہنا تھا کہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے بہت سے افغان شدید خشک سالی کے دوران اپنے اہلخانہ کے لیے کھانے کی تلاش میں جدوجہد کر رہے تھے اور اب لاکھوں افراد کو بھوک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

افغانستان میں ورلڈ فوڈ پروگرام کی ڈائریکٹر مریم ایلن میک گراٹی نے کابل سے رائٹرز کو بتایا کہ ’15 اگست کے بعد سے ہم نے اس ملک میں آنے والے معاشی تباہی کے ساتھ بحران کو تیز اور بڑھتے دیکھا ہے’۔

امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کا اربوں ڈالر کا افغانی سونا، سرمایہ کاری اور امریکا میں جمع غیر ملکی کرنسی کے ذخائر جاری کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے جو طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد منجمد کرلیے گئے تھے۔

ایک مثبت پیش رفت میں ویسٹرن یونین کمپنی کے ایک سینئر ایگزیکٹو نے کہا کہ ادارہ انسانی امداد کو جاری رکھنے کے لیے امریکی دباؤ کے مطابق افغانستان میں رقم کی منتقلی کی خدمات دوبارہ شروع کر رہا ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Privacy & Cookies Policy