جو بائیڈن افغان انخلا کے ساتھ امریکا کے عالمی کردار کے خاتمے کے خواہاں

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق جو بائیڈن عالمی سطح پر امریکی اقدار کو مسلط کرنے کے لیے وسیع فوجی وسائل کا استعمال روکنے میں بہت زیادہ دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔

0 3

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکہ واپس آگیا ہے، تاہم ان کا افغانستان سے انخلا ظاہر کرتا ہے کہ امریکا معمول کے مطابق عالمی کردار میں واپس نہیں آئے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق جو بائیڈن عالمی سطح پر امریکی اقدار کو مسلط کرنے کے لیے وسیع فوجی وسائل کا استعمال روکنے میں بہت زیادہ دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔

جو بائیڈن نے کہا کہ ‘افغانستان کے بارے میں یہ فیصلہ صرف افغانستان کے بارے میں نہیں ہے، یہ دیگر ممالک کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے بڑی فوجی کارروائیوں کا دور ختم کرنے کے بارے میں ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘انسانی حقوق ہماری خارجہ پالیسی کا مرکز ہوں گے تاہم یہ فوجی تعیناتیوں کے ذریعے نہیں ہوگا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہماری حکمت عملی کو تبدیل کرنا ہوگا’۔

اٹلانٹک کونسل کے یورپ سینٹر کے ڈائریکٹر اور ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کے ماہر بینجمن حداد نے اس تقریر کو ‘گزشتہ دہائیوں میں کسی بھی امریکی صدر کی جانب سے بین الاقوامی لبرل ازم کی سب سے واضح تردید قرار دیا۔

ان امریکیوں کے لیے جو اپنے ملک کو ایک منفرد، ناقابل تسخیر سپر پاور تصور کرتے ہیں، یہ ایک بہت بڑا صدمہ ہے۔

تاہم ظاہر کرتے ہیں کہ زیادہ تر لوگوں میں جو بائیڈن کا بیانیہ مقبول ہونے کا امکان ہے۔

ٹرمپ، بائیڈن کن باتوں پر متفق ہیں؟

جو بائیڈن کی صدارت کو عام طور پر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی تردید کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

یہ سچ ہے کہ بہت کچھ 20 جنوری کو جو بائیڈن کے اوول آفس میں داخل ہونے کے بعد ہی تبدیل ہوچکی ہیں۔

تاہم جو بائیڈن کا امریکی فوجی مہم جوئی کو ترک کرنا، جسے ‘دنیا کی پولیس’ کہا جاتا ہے، ٹرمپ کی سوچ تھی۔

مارکوٹ لا اسکول کے پروفیسر اور مارکویٹ رائے شماری کے ڈائریکٹر چارلس فرینکلن نے کہا جب جو بائیڈن نے افغانستان کے بارے میں اعلان کیا کہ ‘اب وقت آگیا ہے کہ یہ ہمیشہ کی جنگ ختم ہوجائے، یہ اعلان ٹرمپ بھی با آسانی کرسکتے تھے’۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ آج عوام بڑے بین الاقوامی کردار کے لیے پرعزم نہیں ہیں، یقینا اس طرح کے نہیں جو امریکا نے 1950 سے 1990 کے درمیان میں ادا کیا۔

خاص طور پر افغانستان کے بارے میں واشنگٹن پوسٹ-اے بی سی نیوز کے سروے کے مطابق 77 فیصد انخلا کے لیے مضبوط حمایت دکھاتے ہیں یہاں تک کہ جو بائیڈن انخلا کے جلد بازی پر لڑ رہے ہیں۔

اتحاد خطرے میں؟

جہاں جو بائیڈن تنہائی پسند ڈونلڈ ٹرمپ سے یکسر مختلف ہیں، وہ اتحاد قائم کرنے کے جوش میں ہیں۔

جو بائیڈن کا نظریہ ہے کہ امریکا ایک بڑھتا ہوا عالمی پولیس نہیں ہو سکتا تاہم یہ ایک دوستانہ کمیونٹی لیڈر ہو سکتا ہے۔

ان کی انتظامیہ نے واشنگٹن کو بڑی قوتوں اور ایران کے درمیان اپنی ایٹمی پالیسی، ماحولیاتی معاہدے اور نیٹو جیسے روایتی اتحاد کے حوالے سے سخت مذاکرات کے مرکز میں ڈال دیا۔

جی 7 اور نیٹو کے اجلاسوں کے لیے جون میں یورپ کا دورہ، جو بائیڈن کا اب تک کا واحد غیر ملکی دورہ ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب ان میں سے چند اتحادی گھبرائے ہوئے ہیں۔

امریکی یونیورسٹی کے قانون کے شعبے میں انسداد دہشت گردی کی ماہر ٹریشیا بیکن نے اے ایف پی کو بتایا کہ اتحادی افغانستان سے امریکا کی روانگی میں ہم آہنگی کے فقدان پر ‘کافی حد تک مایوسی’ محسوس کرتے ہیں۔

واشنگٹن میں عرب سینٹر کے ریسرچ ڈائریکٹر عماد ہارب نے کہا کہ صرف یورپی شراکت دار اکیلے حیرت میں نہیں ہیں۔

انہوں نے تھنک ٹینک کی ویب سائٹ پر لکھا کہ ‘امریکا کے ساتھ قریبی تعلقات کے عادی عرب حکومتوں کو پریشان ہونا چاہیے کہ افغانستان میں کیا ہوا’۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Privacy & Cookies Policy