بڑے موضوعات کیا ہیں؟

سفارتکاری

امید کی جا رہی ہے کہ دونوں فریق سفیروں کو واپس بلانے کے معاملے پر بات کریں گے۔ امریکہ حالیہ برسوں میں درجنوں روسی سفارت کاروں کے ملک سے نکالنےکے علاوہ روسی سفارت خانے کے دو احاطوں کو بند کر چکا ہے ۔ اسی طرح روس نے بھی امریکی سفارت خانے پر مقامی لوگوں کو بھرتی کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی اور امریکی سفارتی عملے کو کم ویزے جاری کیے تھے۔

تخفیف اسلحہ

حکام کا خیال ہے کہ تخفیف اسلحہ کے معاہدےکے حوالے سے کچھ معاملات پر پیشرفت ہو سکتی ہے۔ روس نے رواں برس فروری میں جوہری اسلحہ کے حوالےسے معاہدے میں توسیع کی تھی۔ روس چاہتا ہےکہ اس میں مزید توسیع کر دی جائے۔

سائبر حملے

توقع کی جا رہی ہے کہ صدر جو بائیڈن روسی ہیکروں کے سائبر حملوں کے حوالے اپنے خدشات کا اظہار کریں گے۔ صدر پوتن ان حملوں میں روس کے ملوث ہونے سے انکار کر چکے ہیں۔

انتخابات

امریکی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت پر بھی بات چیت متوقع ہے۔ صدر پوتن اس کی تردید کرتے ہیں۔

قیدیوں کا تبادلہ

روسی جیلوں میں قید دو امریکی شہریوں کے خاندانوں نے سربراہ ملاقات سے پہلے قیدیوں کی رہائی کے لیے دباؤ بڑھایا ہے۔ جب صدر پوتن سے پوچھا گیا کہ کیا وہ قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے بات چیت پر تیار ہوں گے تو ان کا جواب تھا: ’یقینا`۔

الیکسی نوالنی

روس اپوزیشن رہنما نوالنی کو زہر دینے اور اسے قید کرنے کو اندارونی معاملہ قرار دیتے ہیں جبکہ ایک سینئر امریکی اہلکار نے نوالنی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ تمام معاملات مذاکرات کی میز پر موجود ہوں گے۔

یوکرین

2014 میں روس کی طرف سے یوکرین کے علاقے کرائمیا کو اپنے ملک میں شامل کرنے کے بعد دونوں ملکوں کے مابین تعلقات خراب ہو گئے تھے۔ حالیہ مہینوں میں ایک بار کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہو گیا تھا جب ایسی رپورٹس سامنے آئیں کہ روس کرائمیا میں اپنی فوجی طاقت کو بڑھا رہا ہے۔

روسی صدر نے یوکرین کے نیٹو اتحاد میں شمولیت کو تسلیم کرنے پر اپنی ہچکچاہٹ کا اظہار کیا تھا۔

شام

توقع کی جا رہی ہے کہ صدر بائیڈن روسی صدر کو کہیں گے کہ شام میں امداد پہچانے کے لیے اقوم متحدہ کا واحد راستہ بند نہ کیا جائے۔ اقوام متحدہ میں اس حوالے سے ووٹنگ ہونا ہے جہاں روس کو ویٹو کی طاقت حاصل ہے۔