واٹس ایپ اسٹیٹس: ’مارک زکربرگ کے پاس ہر کسی کا نمبر ہے‘

کمپنی نے کہا تھا کہ وہ واٹس ایپ صارفین کی چیٹس کو اسٹور اور منیج کرنے کے لیے فیس بک کی سروسز استعمال کرے گی۔

0 15

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

رواں ماہ 8 جنوری کو میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ کی انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ فروری 2021 سے وہ اپنی پرائیویسی پالیسی کو تبدیل کر رہے ہیں جس کے تحت صارفین کے ڈیٹا پر کمپنی کا اختیار بڑھ جائے گا۔

کمپنی نے کہا تھا کہ وہ واٹس ایپ صارفین کی چیٹس کو اسٹور اور منیج کرنے کے لیے فیس بک کی سروسز استعمال کرے گی۔

واٹس ایپ کی مذکورہ وضاحت کے بعد اس پر تنقید کی گئی اور اس پر الزام لگایا گیا کہ وہ صارفین کی ذاتی معلومات کو فیس بک کے ساتھ شیئر کرے گا۔

تاہم بعد ازاں واٹس ایپ انتظامیہ نے وضاحت کی تھی کہ وہ صارفین کے ڈیٹا کو نہ تو فروخت کریں گے اور نہ ہی اس تک ان کی رسائی ہے۔

لیکن اس کے باوجود واٹس ایپ پر تنقید جاری تھی اور اب میسیجنگ ایپ انتظامیہ نے مذکورہ تنقید کو کم کرنے کے لیے اپنے اسٹیٹس کا سلسلہ شروع کردیا اور 28 جنوری کی صبح دنیا بھر میں لوگوں کو واٹس ایپ کے آفیشل اسٹیٹس اپنے اکاؤنٹ پر نظر آئے۔

واٹس ایپ کے آفیشل اسٹیٹس کو دیکھنے کے بعد جہاں کئی لوگ حیران رہ گئے، وہیں کئی لوگوں نے اس پر مزاحیہ تبصرے بھی کیے کہ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کے پاس ہر واٹس ایپ صارف کا فون نمبر ہے۔

کئی لوگوں نے اس بات پر غصے کا اظہار بھی کیا کہ واٹس ایپ نے ان کے ذاتی نمبر پر اپنا اسٹیٹس کیوں بھیجا؟ اور کئی لوگوں نے واٹس ایپ اسٹیٹس پر ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ثابت ہوگیا کہ واٹس ایپ انتظامیہ کے پاس ہر کسی کا ذاتی نمبر ہے۔

واٹس ایپ پر واٹس ایپ کے آفیشل اسٹیٹس کا معاملہ پاکستان میں ٹوئٹر پر بھی 28 جنوری کو ٹاپ ٹرینڈ رہا اور ہزاروں لوگوں نے واٹس ایپ اسٹیٹس کے اسکرین شاٹ شیئر کرکے اس پر مزاحیہ تبصرے بھی کیے۔

کئی لوگوں نے واٹس ایپ کی جانب سے اسٹیٹس شیئر کیے جانے کو عوام اور سوشل میڈیا کی طاقت کی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ عوام کے دباؤ کے تحت ہی واٹس ایپ انتظامیہ وضاحتی اسٹیٹس جاری کرنے پر مجبور ہوئی۔

واٹس ایپ نے اپنی ایپلی کیشن میں آفیشل اسٹیٹس کا نیا فیچر شامل کیا، جس کے تحت دنیا بھر کے صارفین کو پہلی بار کمپنی کے اسٹیٹس اپنے واٹس ایپ اسٹیٹس میں دکھائی دیے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Privacy & Cookies Policy