مغلیہ دور کے طرز پر تعمیر پارک "واہ گارڈن” پر پاک ایشیا ویب ٹی وی چینل کی رپورٹ

اس باغ میں بارہ دری بھی موجود ہے جو کہ بارہ دروازے پر مشتمل ہے۔ باغ میں بہت سے فوارے بھی ہیں جو باغ کی خوب صورتی میں مزید اضافہ کرتے ہیں جبکہ پارک میں ایک تالاب بھی موجود ہے جس میں بہت بڑی بڑی مچھلیاں تیرتی ہیں۔

0 7

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تاریخی اہمیت کا حامل باغ "واہ گارڈن” جو کہ ٹیکسلا کے درمیان اور راول پنڈی سے 50 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے، ایک تاریخی مقام کی حثیت رکھتا ہے۔ اس کو مغلیہ گارڈن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس بات کو مغل بادشاہ شاہ جہاں نے تعمیر کروایا تھا۔

اس باغ میں بارہ دری بھی موجود ہے جو کہ بارہ دروازے پر مشتمل ہے۔ باغ میں بہت سے فوارے بھی ہیں جو باغ کی خوب صورتی میں مزید اضافہ کرتے ہیں جبکہ پارک میں ایک تالاب بھی موجود ہے جس میں بہت بڑی بڑی مچھلیاں تیرتی ہیں۔

اس پار ک کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ 1239ء میں شاہ جہان نے کابل جاتے ہوئے یہاں قیام کیا اور یہ جگہ ان کو بہت پسند آئی اس کے علاوہ ایک اور بات بھی بہت مشہور ہے کہ 1881ء سے 1882ء کے درمیان شاہ جۃاں نے اپنے ایک ملازم کو یہاں تعینات کیا۔ جس کا نام راجہ مان سنگھ تھا کیوں کہ اسی دورمیں اٹک شہر پر حملہ ہونے والا تھا اور اس ملازم کو وہاں حملہ روکنے کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔

اس جگہ سے ایک اور روایت بھی منسوب ہے کہ بادشاہ اکبر نے لاہور میں اسی طرز پر "شالامار باغ” کے نام سے ایک باغ تعمیر کروایا تھا۔

مزید تفصیلات دیکھیں پاک ایشیا کے میڈیا رپورٹر "افراز وسیم” کی اس مختصر دستاویزی رپورٹ میں:

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Privacy & Cookies Policy