fbpx
پاکستان سیاست عدالت قانون و انصاف نمایاں

’کون سچ بول رہا ہے اور کون جھوٹ، حقائق جلد سامنے آئیں گے‘

واشنگٹن — وزیر مملکت برائے انسداد منشیات شہریار خان آفریدی نے کہا ہے کہ وہ رانا ثنااللہ کے اس مطالبے کو ماننے کو تیار ہیں کہ ان کے کیس سے متعلق جوڈیشل انکرائری کی جائے۔

جمعرات کو مشہور امریکی نشریاتی ادارے ’وائس آف امریکہ‘ کے ’فیس بک لائیو‘ انٹرویو میں بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ جوڈیشل انکوائری سمیت وہ تمام آپشن استعمال کرنے کو تیار ہیں جن سے انصاف تک پہنچا جائے۔ بقول ان کے، رانا ثنااللہ کو اپنے حوالے سے ٹرائل میں تمام ثبوت پیش کرکے بے گناہی ثابت کرنا چاہئے۔

رانا ثنااللہ کے اس بیان کی تردید کرتے ہوئے کہ گرفتار کرتے ہوئے رانا ثنااللہ کو جرم کے بارے میں نہیں بتایا گیا بلکہ اگلے دن ہیروئین سمگلنگ کا کیس بنایا گیا، شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ ’’اینٹی نارکوٹکس فورس ایک پیشہ ورانہ فورس ہے جسے میجر جنرل ہیڈ کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کا منشیات اور جرائم سے متعلق آفس اس کی تعریف کرتا ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’کسی پر بھینس چوری جیسے مقدمات بنا کر‘‘ لوگوں کو ذلیل کرنا ان کی سوچ نہیں ہے؛ اور یہ کہ تمام ادارے آزاد ہیں۔

شہریار آفریدی نے کہا کہ رانا ثنااللہ کو ہائی کورٹ نے ضمانت دی ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ وہ اس کے خلاف سپریم کورٹ جا رہے ہیں۔

وزیر مملکت نے کہا کہ’’ 4 جنوری سے اس کیس کا ٹرائل شروع ہو رہا ہے۔ قوم کے سامنے آ جائے گا کہ کون سچ بول رہا ہے اور کون جھوٹ‘‘۔

انہوں نے کہا کہ پہلے 17 دن میں ہی کورٹ کو تمام ثبوت فراہم کر دئے گئے تھے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ کیس کے سلسلے میں رانا ثنااللہ کی جانب سے تاخیری حربے استعمال کیے گئے۔

ماضی کے حکمرانوں پر تنقید کرتے ہوئے، انھوں نے کہا کہ ماضی کے حکمرانوں نے اینٹی نارکوٹکس فورس کی صلاحیت نہیں بڑھائی۔ یہ فورس صرف 29 سو کی تعداد کے باوجود بہترین نتائج دے رہی ہے۔ انہیں مناسب آلات اور سہولیات نہیں دی گئیں اس لیے اس کیس سے متعلق سوالات جنم لے رہے ہیں۔

شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ چونکہ اے این ایف کے اہلکاروں نے انٹیلیجنس کی موجودگی میں گواہی دی اس لیے اس کیس میں تمام گواہ اے این ایف کے تھے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’’اس پہلے عام لوگوں کو بھی ایسے ہی پکڑا گیا تھا۔ پہلے کسے نے ایسی بات نہیں کی۔ صرف رانا ثنااللہ کے کیس میں ہی کیوں یہ بات کی جا رہی ہے؟‘‘

فوٹیج اور ویڈیو کے تنازع کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا اور اسمبلی سمیت ہر جگہ وہ کہتے رہے ہیں کہ تمام ثبوت عدالت میں پہلے 17 روز میں پیش کر دئے تھے۔ سیف سٹی سمیت دیگر فوٹیجز کے بارے میں دفاعی وکیل نے بھی مانا کہ عدالت میں پیش کی گئی ہیں۔

اس بات کے جواب میں کہ دو دہائیوں کے بعد اس کیس میں ایک فوجی افسر نے کیوں ایف آئی آر درج کروائی، شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ ہم اداروں کے کام میں مداخلت نہیں کرتے۔ اس کی ذمہ داری اے این ایف کی ہے اور وہ اپنے لیگل فریم ورک کے مطابق کام کرتے ہیں۔

کیس کو سیاسی ماننے سے انکار کرتے ہوئے، انھوں نے کہا کہ کسی کے سیاسی پارٹی سے تعلق رکھنے سے کیس سیاسی نہیں ہو جاتا۔

Source link


اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں


لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی“ کے آپشن یا یہاں کلک کریں

About the author

ویب ڈیسک

ہمارا ویب ڈیسک پاکستان اور ایشیاء سمیت دُنیا بھر میں رُونما ہونے والے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتا ہے اور آپ کو باخبر رکھنے کے لیے خبروں کا انتخاب کر کے انہیں موزوں پیرائے اور اسلوب میں ڈھال کر آپ کے پیشِ نظر کرتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

ہماری ٹیم کا حصہ بنیں

اگر آپ پاک اشیا ویب ٹی-وی کے رپورٹر بن کر ویب چینل پر آنا چاہتے ہیں تو ابھی ہماری ٹیم کا حصہ بنیں اور معمولی سی فیس ادا کر کے اپنے کام کا آغاز کریں