حکومت اور تحریک لبیک میں ضمنی معاہدہ، 20 اپریل تک مطالبات پارلیمنٹ میں رکھنے پر اتفاق

نجی ٹی وی چینل اے آر وائی سے گفتگو میں وزیراعظم نے کہا کہ ہماری ٹیم تحریک لبیک سے بات کر رہی تھی اور ان سے ہمارا ایک معاہدہ ہوگیا ہے۔

0 10

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

وفاقی حکومت اور تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے درمیان ناموس رسالت ﷺ کے معاملے پر ایک ’ضمنی‘ معاہدہ طے پاگیا ہے جس کی تصدیق وزیراعظم اور وفاقی وزیر مذہبی امور نے بھی کردی ہے۔

نجی ٹی وی چینل اے آر وائی سے گفتگو میں وزیراعظم نے کہا کہ ہماری ٹیم تحریک لبیک سے بات کر رہی تھی اور ان سے ہمارا ایک معاہدہ ہوگیا ہے۔

عمران خان کا کہا تھا کہ ٹی ایل پی نے جو فروری کی تاریخ دی تھی وہ 20 اپریل تک چلی گئی ہے اور ہم معاہدے کے تحت ان کے مطالبات پارلیمنٹ میں رکھ دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ میں ٹی ایل پی اور اپنے لوگوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ کسی حکومت نے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی پر اتنا واضح مؤقف نہیں اپنایا جو ہماری حکومت نے اپنایا۔

انہوں نے کہا کہ میں فخر سے کہتا ہوں کہ ہماری حکومت نے بین الاقوامی سطح پر یہ مؤقف اپنایا اور وہ اس لیے نہیں لیا کہ ہمیں کسی سے خوف تھا یا ہم نے ووٹ لینی تھی بلکہ یہ میرا عقیدہ ہے کہ مغربی ممالک میں ایک فتنہ بیٹھا ہے جو منصوبے کے تحت نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا ہے، وہ یہ سب اس لیے کرتا ہے کہ مغرب میں انہیں سمجھ نہیں ہے کہ ہمارے نبیﷺ ہمارے دل میں کس طرح بستے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں نے پہلے دن سے یہ معاملہ او آئی سی اور اقوام متحدہ میں اٹھایا ہے اور ہم کامیاب تب ہوں گے جب دیگر مسلم ممالک کے سربراہان اس پر نہیں بولیں گے، اس وقت صرف میں نے اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے بات کی ہے۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب تک 20 سے 25 مسلم ممالک کے سربراہان اس پر بات کریں گے تب اس کا اثر ہوگا، ہم سب کا مقصد ہے کہ یہ جو نبی ﷺ کی بے حرمتی کرتے ہیں اس پر سب مل کر کارروائی کریں لیکن یہ اثر مؤثر تب ہوگا جب دیگر مسلم ممالک کے سربراہان ہمارے ساتھ مل کر کریں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ ہوگا اور ہونے والا ہے، او آئی سی کا بیان آگیا ہے اور اقوام متحدہ میں بھی بات آگئی ہے لیکن یہ جیسے جیسے یہ تیز ہوگی تب مؤثر ثابت ہوگی۔

حکومت اور تحریک لبیک میں معاہدہ

دوسری جانب حکومت اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کے معاملے پر ایک اور معاہدہ طے پاگیا۔

اس حوالے سے معاہدے کی دستیاب نقل کے مطابق ’تحریک لبیک یارسول اللہ پاکستان اور حکومت پاکستان کے درمیان ناموس رسالت کے معاملے پر 16 نومبر 2020 کو ایک معاہد ہوا تھا جس پر تاحال عمل نہ ہوسکا‘۔

اس میں کہا گیا کہ ’اس مسئلے پر حکومت پاکستان اور تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ کے درمیان گزشتہ ایک ماہ سے مذاکرات جاری تھے، جس میں حکومت نے اپنے عزم کو دوہرایا اور معاہدے کی شقوں کو 20 اپریل 2021 تک پارلیمنٹ میں پیش کردیا جائے گا اور فیصلے پارلیمنٹ کی منظوری سے طے پائیں گے‘۔

دونوں فریقوں کے درمیان ہوئے معاہدے کے مطابق ’تحریک لبیک پاکستان کے جو لوگ فورتھ شیڈول پر ڈالے گئے ہیں ان کے نام نکال دیے جائیں گے، مزید یہ کہ 20 اپریل 2021 تک معاہدے کی روح کے منافی کوئی سرگری پر معاہدہ منسوخ سمجھا جائے گا‘۔

سامنے آنے والے تحریری معاہدے کے مطابق ’اس ضمنی معاہدہ کا اعلان وزیراعظم پاکستان کریں گے جس کے بعد یہ معاہدہ نافذ العمل ہوگا اور اس پر عمل درآمد کیا جائے گا‘۔

واضح رہے کہ مذکورہ معاہدے پر حکومت کی طرف سے وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری اور وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کے دستخط موجود ہیں جبکہ تحریک لبیک کی طرف سے ان کے شوریٰ کے نمائندگان غلام غوث بغدادی قادری رضوی، ڈاکٹر محمد شفیق امینی اور غلام عباس فیضی شامل ہیں۔

تحریک لبیک نے اسلام آباد مارچ مؤخر کردیا، وفاقی وزیر

علاوہ ازیں وفاقی وزیر پیر نورالحق قادری کے مطابق حکومت اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے اور تحریک لبیک نے 16 فروری کو ہونے والا اسلام آباد مارچ مؤخر کردیا ہے۔

ایک بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت 20 اپریل تک فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کا معاملہ پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ تحریک لبیک پاکستان کی شوریٰ نے حکومت کے ساتھ اچھے انداز میں بات کی، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ تحفظ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت کے حوالے سے ہمارا مؤقف بالکل واضح اور دو ٹوک ہے۔

پس منظر

خیال رہے کہ 2020 میں فرانس میں سرکاری سطح پر پیغمبر اسلام ﷺ کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر مسلم دنیا میں سخت ردعمل آیا تھا خاص طور پر پاکستان میں بھی اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی تھی اور تحریک لبیک پاکستان نے اسلام آباد میں احتجاج کیا تھا جسے حکومت کے ساتھ 16 نومبر کو معاہدے کے بعد ختم کردیا گیا تھا۔

اس معاہدے کے 2 روز بعد 19 نومبر 2020 کو ٹی ایل پی کے سربراہ خادم حسین رضوی انتقال کرگئے تھے۔

نومبر میں ہوئے اس معاہدے میں حکومت فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق 3 ماہ میں پارلیمنٹ سے فیصلہ لے گی، فرانس میں اپنا سفیر مقرر نہیں کرے گی اور ٹی ایل پی کے تمام گرفتار کارکنان کو رہا کرے گی، مزید یہ کہ حکومت دھرنا ہونے کے بعد ٹی ایل پی رہنماؤں یا کارکنان کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کرے گی۔

اگرچہ آخری 2 مطالبات فوری طور پر مان لیے گئے تھے لیکن پہلا مطالبہ زیر التوا تھا۔

بعد ازاں ٹی ایل پی نے جنوری میں خبردار کیا تھا کہ حکومت نے اگر 17 فروری تک توہین رسالت ﷺ کے معاملے پر فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کا اپنا وعدہ پورا نہیں کیا تو وہ اپنا احتجاج دوبارہ شروع کرے گی۔

خادم حسین رضوی کے چہلم پر ان کے صاحبزادے اور ٹی ایل پی کے نئے سربراہ سعد رضوی نے حکومت کو خبردار کیا تھا کہ ’اگر آپ اپنا معاہدہ بھول گئے ہیں تو ہماری تاریخ دیکھ لیں، اب ہم (حضور ﷺ کی ناموس کے لیے) مرنے کو مزید تیار ہیں، آپ کے پاس فرانسیسی سفیر کو نکالنے کے لیے 17 فروری تک کا وقت ہے‘۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Comment moderation is enabled. Your comment may take some time to appear.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Privacy & Cookies Policy