جنوری میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر 5.65 فیصد رہی، ادارہ شماریات

بیورو نے ایک بیان میں کہا کہ سبزیوں، دالوں، انڈوں اور چکن کی قیمتوں میں کمی سے کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کم کرنے میں مدد ملی۔

3

پاکستان بیورو آف شماریات (پی بی ایس) نے کہا ہے کہ جنوری میں مہنگائی کی شرح کی شرح گزشتہ ماہ کی 8 فیصد کے مقابلے میں کم ہو کر 5.65 فیصد رہی۔

بیورو نے ایک بیان میں کہا کہ سبزیوں، دالوں، انڈوں اور چکن کی قیمتوں میں کمی سے کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کم کرنے میں مدد ملی۔

بیان میں کہا گیا کہ اربن سی پی آئی میں اعشاریہ 16 اور رول سی پی آئی میں اعشاریہ 29 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جولائی 2020 سے جنوری 2021 کے دوران مہنگائی کی شرح 8 اعشاریہ 19 فیصد تھی جبکہ گزشتہ برس اسی دوران یہ شرح 13 اعشاریہ 79 فیصد تھی۔

گزشتہ برس کے اوائل میں مہنگائی کی شرح 14 فیصد کی بلند شرح کو چھونے کے بعد نئے سال کے پہلے مہینے میں پہلی مرتبہ مہنگائی کی شرح کی اس سطح پر آئی جہاں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کو اگست 2018 میں ملی تھی۔

وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز اپنے بیان میں کہا تھا کہ ‘مہنگائی کو کم کرنے کی ہماری کوششیں اب رنگ لارہی ہیں، کنزیومر پرائس انڈیکس اور مہنگائی دونوں اس شرح سے بھی کم ہے جب ہم نے حکومت بنائی تھی’۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی معاشی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ وہ محتاط رہیں اور مہنگائی پر قابو برقرار رکھنے کو یقینی بنائیں۔

وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا تھا کہ مہنگائی مسلسل کم ہورہی ہے، جنوری میں سی پی آئی کم ہوکر 5.7 فیصد جبکہ بنیادی مہنگائی 5.4 فیصد ہوگئی۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے حکومت سنبھالنے سے قبل سی پی آئی 5.8 فیصد اور بنیادی مہنگائی 7.6 فیصد تھی اور آج یہ شرح ہماری حکومت کے آنے سے قبل کی شرح سے نیچے آگئی۔

دوسری جانب اپوزیش حکومت پر تنقید کرتی ہے کہ حکومت کی معاشی بدانتظامی کی وجہ سے جی ڈی پی کی اعشاریہ 4 فیصد تک گر گئی ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں یہ شرح 5 اعشاریہ 8 فیصد تھی۔

اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت نے مہنگائی کی شرح 4 فیصد سے بڑھا کر 14 فیصد تک پہنچا دیا ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے رواں برس پاکستان کی معاشی شرح نمو ایک اعشاریہ 5 فیصد کی پیش گوئی کی ہے جبکہ حکومت نے مالی سال 2021 کے لیے ہدف دو اعشاریہ 3 فیصد رکھا ہے۔

تبصرے