اپوزیشن میری تعریف کرے تو میں اپنی توہین سمجھوں گا، وزیراعظم

اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مینار پاکستان جب لاہور کے لوگ چل کر آتے ہیں تو بھر جاتا ہے تو جب لاہور کے لوگ نہیں نکلیں گے تو پھر باہر قیمے کے نان کھلا کر جتنے بھی لوگوں کو لے کر آئیں نہیں بھرا جاتا۔

0 10

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اگر میری تعریف کریں تو میں اپنی توہین سمجھوں گا۔

پنجاب کے شہر ساہیوال میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں بولیاں لگتی ہیں، صوبائی اراکین اسمبلی کی قیمت لگتی ہے، پیسے اوپر تک جاتے ہیں کیونکہ مجھے بھی سینیٹ الیکشن میں پیسوں کی پیش کش ہوئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ پچھلے سینیٹ انتخابات میں ہم نے اپنی پارٹی کے 20 اراکین کو نکالا کیونکہ ہماری تحقیقاتی کمیٹی نے مجھے رپورٹ دی کہ ان اراکین نے 5،5 کروڑ روپے لیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی قائدین اور سیاست دانوں کو یہ پتا ہے، ابھی سے قیمت لگنی شروع ہوگئی ہیں، ہمیں پتا ہے کہ پیش کش ہو رہی ہے اور کس اسمبلی میں لوگوں کے ضمیر خریدنے کے لیے کتنے پیسے لگ رہے ہیں اور کون سا سیاست دان لوگوں کو خریدنے کے لیے پیسے اکٹھے کر رہا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جب سب کو پتا ہے تو میرا سوال ہے کہ ہم اپنے ملک سے کتنی بڑی غداری کر رہے ہیں، پہلے نمبر میں سینیٹ کا وفاق میں بڑا کردار ہوتا ہے، وفاق میں وہ صوبوں کے نمائندہ ہوتے ہیں اور جب وہ پیسے دے کر آئیں گے تو کس طرح کے لوگ ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی پیسے دے کر آئے گا تو وہ اپنے صوبے کی نمائندگی کیسے کرے گا، یہ کون سی جمہوریت میں ہے، اس لیے پوری کر رہے ہیں، عدالت میں گئے ہیں اور اسمبلی میں بھی جا رہے ہیں، سب کو پتا ہے ہماری اکثریت نہیں ہے اس کے باوجود بل سامنے رکھیں گے۔

‘پی ڈی ایم کو ناکام ہونا تھا’

عمران خان نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے ناکام ہونا تھا، میں نے اپنی پارٹی کے اجلاس، کابینہ اور میڈیا میں یہ بات کہی تھی کیونکہ یہ عوام کو نکالنے کی کوشش کر رہے تھے حالانکہ عوام حکمرانوں کی کرپشن کے خلاف نکلتی ہے جبکہ ان کی کرپشن کو بچانے کے لیے کبھی نہیں نکلتی۔

ان کا کہنا تھا کہ ابھی لبنان میں عوام حکمرانوں کی کرپشن کے خلاف سڑکوں پر ہیں، جنوبی امریکا کے کئی ممالک میں حکمرانوں کے خلاف عوام نکلے ہیں اور عراق میں عوام نکلے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ سمجھ رہے تھے کہ لوگ بے وقوف ہیں لیکن اس سے بڑا بے وقوف کوئی نہیں جو عوام کو بے وقوف سمجھے اور یہ ثابت ہوگیا۔

اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مینار پاکستان جب لاہور کے لوگ چل کر آتے ہیں تو بھر جاتا ہے تو جب لاہور کے لوگ نہیں نکلیں گے تو پھر باہر قیمے کے نان کھلا کر جتنے بھی لوگوں کو لے کر آئیں نہیں بھرا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم نے فلاپ ہونا تھا، سارے ملک کے بڑے ڈاکو اکٹھے ہو کر مجھے بلیک میل کر رہے ہیں کہ اگر ہمیں این آر او نہیں دو گے تو آپ کی حکومت چلنے نہیں دیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ یہ آگے بھی اپنی پارٹی کو اکٹھا رکھتے ہیں کہ حکومت کل، پرسوں اور دو مہینوں میں جا رہی ہے تاکہ ان کی پارٹی اکٹھی رہے کیونکہ نظریہ تو ہے نہیں، کسی پارٹی کا انقلابی بننے کی کوشش کر رہا ہے اور بھاگ کر لندن میں بیٹھا ہوا اور وہاں بیٹھ کر سمجھ رہا ہے انقلاب آئے گا۔

ٹرانسپرنسی کی تازہ رپورٹ پر انہوں نے کہا کہ اپوزیشن پہلے دن سے شروع ہوگئی ہے کہ انتخابات ٹھیک نہیں ہوئے کبھی معیشت کی بات کررہے ہیں حالانکہ وہ خود اس کے ذمہ دار ہیں، پھر ایف اے ٹی ایف پر ہمیں بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح جمہوریت نہیں چلتی ہے اس لیے وہ ٹھیک کہہ رہے ہیں کیونکہ پارلیمنٹ کے اندر جس طرح کی گفتگو اور اتفاق رائے ہونی چاہیے تھی وہ تو ہوئی نہیں۔

‘اپوزیشن کی تنقید ہمارے ارکان کے لیے اعزاز ہے’

مراد سعید، شہزاد اکبر اور شہباز گل کی جانب سے حکومت کے دفاع سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ‘اپوزیشن اور خاص کر ان کے بڑے بڑے نام ور ڈاکو جب کسی کی تنقید کرتے ہیں تو وہ اس کا اعزاز ہوتا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘جب سارے ہر روز شام کو بڑے ڈاکو بیٹھ کر مجھ پر تنقید کرتے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ میں کچھ تو اچھا کام کر رہا ہوں، اگر یہ میری تعریف کریں تو میں اپنی توہین سمجھوں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘انہوں نے 35 سال سے اس ملک کا خون چوسا ہے، اگر وہ ہمارے لوگ فردوس، شہباز اور مراد سعید پر تنقید کرتے ہیں تو یہ ان کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ یہ ان چوروں کے خلاف جہاد کر رہے ہیں’۔

پارٹی کے اندر ایک دوسرے پر تنقید کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے سیاست میں یہ ہوتا ہے، ایک پارٹی کے اندر بھی مقابلہ چلتا ہے، یہ کوئی آمریت نہیں ہے اس لیے اس سے پریشانی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

‘قبضہ مافیا حکومت کے بغیر چل نہیں سکتا’

عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں قبضہ مافیا پھیلتے گئے ہیں اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کے پیچھے سیاسی رہنما اور بڑے بڑے سیاست دان بلکہ سیاست دان خود قبضہ مافیا کا حصہ بن چکے ہیں اور زمینوں پر قبضہ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ‘قبضہ مافیا اس وقت تک چل نہیں سکتا جب تک ان کی پشت پر حکومت کھڑی نہ ہو، کھوکھر پیلس گرایا گیا، مریم نواز وہاں پہنچ کر اس کی قبضہ مافیا کی بڑی حوصلہ افزائی کی، اس سے ایک چیز سامنے آتی ہے کہ مریم سے سوال پوچھنا تھا کہ جو زمین چھڑوائی گئی ہے ان کی اپنی تھی یا حکومت کی زمین پر ناجائز قبضہ کیا ہوا تھا’۔

وزیراعظم نے کہا کہ ‘لینڈ رجسٹری کے اندر واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ جو زمین پکڑی گئی ہے وہ اس کی اپنی نہیں تھی، سوا ارب روپے کی زمین پر اس نے قبضہ کیا ہوا تھا اور جو خود کو ملک کے مستقبل کی قیادت سمجھتی ہیں وہ اس کی حمایت کرتی ہے جس نے حکومت کی سوا ارب کی زمین پر قبضہ کیا ہوا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘اس کا مطلب ہے کہ یہ پہلے قبضہ گروپ کی پشت پر کھڑے ہوتے ہیں پھر اس سے فائدے اٹھاتے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر ملک کا وزیراعظم قبضہ گروپ کے ساتھ کھڑا ہو تو پھر انتظامیہ کا کیا قصور ہے، وہ پھر کیوں نہ اپنے قبضہ گروپ نہ پالے، پولیس نہ اپنے قبضہ گروپ کے ساتھ تعلق رکھے اور پیسہ بنائے، جب ملک کا وزیراعظم پیسہ بنا رہا ہے’۔

‘فارن فنڈنگ میں اپوزیشن پھنس گئی ہے’

فارن فنڈنگ کیس پر انہوں نے کہا کہ فارن فنڈنگ میں یہ تحریک انصاف کو پھنساتے پھنساتے سارے خود پھنس گئے ہیں، مجھے خوشی ہے کہ انہوں نے اس معاملے کو اٹھایا ہے اب ہم چاہیں گے کہ اس کو منطقی انجام تک پہنچائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘الیکشن کمیشن ساری جماعتوں کی اسکروٹنی کرے اور جب اسکروٹنی کریں گے تو آج میں پیش گوئی کر رہا ہوں کہ ایک پارٹی کے سب سے بہترین اکاؤنٹس ملیں گے اس پارٹی کا نام تحریک انصاف ہے، جس نے باقاعدہ سیاسی فنڈ ریزنگ کی ہے، جن لوگوں نے فنڈز دیے ہیں ان کے نام اور ایڈریس معلوم ہیں، 40 ہزار نام ہیں جنہوں نے ہمیں فنڈ دیا’۔

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کو مولانا کہنا عالم دین کی توہین ہے، یہ کرپٹ آدمی ہے جو دین اور مدرسے کے طالب علموں کو بلیک میل کرنے اور پیسہ بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے، یہ بتائے کہ اربوں کی جائیدادیں کہاں سے آئی ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے اندر تاریخی جنگ چل رہی ہے، قانون کی بالادستی کی جنگ چل رہی ہے، یہ صرف ان کو مانتے ہیں جو ان کے حق میں فیصلہ کرے، یہ تاریخی جنگ فیصلہ کرے گی اور ان کا اصل ٹھکانہ جیل میں ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Privacy & Cookies Policy