نیپرا کا بجلی کے نرخوں میں ساڑھے 3 روپے فی یونٹ اضافے کا عندیہ

کیس افسران نے یہ بات نیپرا کے رکن ٹیرف سیف اللہ چٹھہ کی جانب سے وضاحت کے مقصد کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہی۔

0 5

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اسلام آباد: نیشنل پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے آئندہ کچھ روز میں بجلی کی قیمت میں ساڑھے 3 روپے فی یونٹس اضافہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

پاک ایشیا  کی رپورٹ کے مطابق سابق واپڈا کی تقسیم کار کمپنیوں کے لیے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (ایف پی اے) کی عوامی سماعت میں نیپرا کے کیس افسران نے وضاحت کی کہ آئندہ چند روز میں ملک بھر میں بیس ٹیرف میں ایک روپے 95 پیسے فی یونٹ اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے گا جبکہ مزید ایک روپے 30 پیسے سے ایک روپے 60 پیسے فی یونٹ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اس بیس پرائس اضافے کے اوپر ہوگی۔

کیس افسران نے یہ بات نیپرا کے رکن ٹیرف سیف اللہ چٹھہ کی جانب سے وضاحت کے مقصد کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہی۔

بیس ٹیرف میں ایک روپے 95 پیسے کے اضافے سے تقریباً 2 کھرب روپے سالانہ حاصل ہوں گے اور اس کا اطلاق کے-الیکٹرک کے صارفین پر بھی ہوگا۔

دوسری جانب دسمبر 2020 کے لیے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سے ایک ماہ میں 9 سے 10 ارب روپے حاصل ہوں گے جس کا اطلاق کے-الیکٹرک کے سوا دیگر تمام تقسیم کار کمپنیوں پر ہوگا۔

کیس افسران نے یہ بھی واضح کیا کہ ٹیرف میں اضافے کا اطلاق فروری کے بل سے ہوگا جبکہ ناکافی شواہد کی بنا پر چند ماہ سے زیر التوا 51 ارب روپے کی گزشتہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ بھی مناسب وقت پر صارفین کو منتقل کردی جائے گی۔

عوامی سماعت کی صدارت کرنے والے توصیف ایچ فاروق نے کہا کہ ریگولیٹر ایندھن کے مرکب سے متعلق اعداد و شمار کی جانچ پڑتال کرے گا لیکن امید ظاہر کی کہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ ایک روپے 30 پیسے سے ایک روپے 60 پیسے کے درمیان ہی ہوگی اور حتمی فیصلہ آئندہ چند میں کرلیا جائے گا۔

فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی بنیاد پر ٹیرف میں اضافے کی درخواست سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈِسکوز) کی جانب سے 13 ارب روپے اضافی ریونیو پیدا کرنے کے لیے دائر کی تھی۔

سی پی پی اے نے دسمبر کے مہینے کے لیے ایک روپے 81 پیسے فی یونٹ کی اضافی لاگت کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

سماعت میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ بجلی کی پیداواری کمپنیوں کو دسمبر کے مہینے میں گیس اور ایل این جی کی سنگین قلت کی وجہ سے فرنس آئل استعمال کرنا پڑا اور تخمینے سے کم ایل این جی کی دستیابی کی وجہ سے دسمبر میں 7 ارب 90 ارب روپے کی اضافی لاگت آئی تاہم کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں نے اس اثر کو کہیں زیادہ بڑھنے سے روکا۔

ریگولیٹر کو بتایا گیا کہ فرنس آئل کا معاملہ نہ ہوتا تو فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ ایک روپے 60 پیسے کے بجائے صرف 18 پیسے ہوتی۔

دسمبر میں تمام ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی کی مقدار 7.879 گیگا واٹس ریکارڈ کی گئی جس پر 4 روپے 78 پیسے فی یونٹ کے حساب سے 37 ارب 70 کروڑ روپے کی لاگت آئی۔

اس میں ترسیلی نظام کی خامی کی وجہ سے 3.26 فیصد نقصان کے بعد7.564 گیگا واٹس آور بجلی ڈسکوز کو 6 روپے 27 پیسے فی یونٹ کے حساب سے دی گئی جس کی لاگت 47 ارب 40 کروڑ روپے بنی۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Comment moderation is enabled. Your comment may take some time to appear.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Privacy & Cookies Policy