گزشتہ سال پاکستان میں کرپشن بڑھی، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل

اس کے ساتھ ملک کا اسکور بھی 100 میں سے گزشتہ برس کے 32 کے مقابلے کم ہو کر 31 ہوگیا جبکہ ۔

1

اسلام آباد: ٹرانپیرنسی انٹرنیشنل کی جاری کردہ کرپشن پرسیپشن انڈیکس(سی پی آئی)برائے سال 2020 میں پاکستان 180 ممالک میں 124ویں درجے پر موجود ہے۔

اس کے ساتھ ملک کا اسکور بھی 100 میں سے گزشتہ برس کے 32 کے مقابلے کم ہو کر 31 ہوگیا جبکہ ۔

سال 2019 میں پاکستان کا اسکور 180 ممالک میں 120 تھا، اس کے علاوہ پاکستان نے 2 ذرائع رول آف لا انڈیکس اور ورائٹی آف ڈیموکریسی سے متعلق شعبے میں بھی کم اسکور کیا جس کی وجہ پاکستان کے مجموعی اسکور میں سی پی آئی 2020 کے مقابلے ایک درجے کی کمی ہوئی۔

عالمی انصاف پروگرام (ڈبلیو جے پی) رول آف لا اینڈ ورائیٹیز آف ڈیموکریسی کی جانب سے پوچھے گئے سوالات سرکاری افسران، قانون سازوں، ایگزیکٹوز، عدلیہ، پولیس اور فوج کی کرپشن کے بارے میں تھے جس کی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے چیئرمینسہیل مظفر نے وضاحت کی۔

انہوں نے زور دیا کہ حکومت نے ان چاروں شعبوں میں اپنی کارکردگی بہتر بنائی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیب کی جانب سے گزشتہ 2 برسوں کے دوران 3 کرب 63 ارب روپے برآمد کرنے اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے 3 کھرب روپے کی برآمدگی کے دعووں اور غیر معمولی کوششوں کے باوجود رینکنگ اور اسکور کم ہوا۔

خطے کے دیگر ممالک میں بھارت، ایران اور نیپال کا اسکور ایک درجے جبکہ ملائیشیا کا 2 درجے کم ہوا البتہ افغانستان کا اسکور 3 درجے اور ترکی کا ایک درجہ بہتر ہوا۔

تبصرے