دو بہنوں سمیت ایف آئی اے کے 7 اہلکار گرفتار

0 7

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

راولپنڈی: وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے ادارے میں شامل ہونے یا پروموشن لینے کے لیے غیر منصفانہ ذرائع استعمال کرنے، جعلسازی اور دھوکہ دہی میں ملوث پائے جانے پر 2 بہنوں سمیت 7 اہلکاروں کو گرفتار کرلیا۔

پاک ایشیا کی رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے نے کہا کہ اس کے انسداد بدعنوانی سرکل (اے سی سی) نے ان عہدیداروں کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیا جنہوں نے ایجنسی میں غیر منصفانہ ذرائع، دھوکہ دہی کے ذریعہ ملازمت حاصل کی۔

ایک سینئر عہدیدار نے تصدیق کی کہ ساتوں عہدیداروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

ایف آئی اے نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ‘سوشل میڈیا پر اوپن ٹیسٹنگ سروس (او ٹی ایس) کے ذریعہ ایف آئی اے کی بھرتی کے عمل میں بے ضابطگیوں سے متعلق متعدد شکایات موصول ہوئی تھیں’۔

ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے مبینہ بے ضابطگیوں کا نوٹس لینے کے بعد اے سی سی اسلام آباد نے غیر قانونی ذرائع، دھوکہ دہی کے ذریعے ایف آئی اے میں ملازمت حاصل کرنے والے افراد کے خلاف انکوائری شروع کی۔

پہلا مقدمہ مردان کے رہائشی شاہوم خان اور طاہر امین کے خلاف درج کیا گیا جنہوں نے ایف آئی اے میں سب انسپکٹر کی حیثیت سے دھوکہ دہی، جعلسازی اور دیگر غیر منصفانہ ذرائع استعمال کرکے ملازمت حاصل کی۔

وہ فعال او ٹی ایس عملے کی ملی بھگت سے نظام کو نظرانداز کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

تفتیش کے دوران او ٹی ایس عملہ اور دیگر کے کردار کا پتہ لگایا جائے گا، سب انسپکٹر اون عباس کو تفتیشی افسر مقرر کیا گیا ہے۔

ایک اور کیس کائنات ممتاز اور اس کی بہن رمشا ممتاز کے خلاف اے سی سی میں درج کیا گیا جو ایف آئی اے کے ساتھ کانسٹیبل کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی تھی اور دھوکہ دہی، جعلسازی اور دیگر غیر منصفانہ ذرائع استعمال کرکے سب انسپکٹر کے عہدے پر ترقی حاصل کیں۔

ایف آئی آر کے مطابق انہوں نے بھی او ٹی ایس عملہ کی ملی بھگت سے نظام کو نظرانداز کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

سب انسپکٹر میمونہ کوثر کو دونوں بہنوں کے خلاف درج مقدمے کی تحقیقات کا کام سونپا گیا ہے۔

ایک اور ایف آئی آر نثار کالونی فیصل آباد کے رہائشی محمد عظیم کے خلاف درج کی گئی جس نے دھوکہ دہی، جعلسازی اور غیر منصفانہ ذرائع استعمال کرکے خود کو ایف آئی اے میں بطور سب انسپکٹر مقرر کیا۔

ایک محکمہ جاتی تفتیش کے نتیجے میں کرک سے حماد احمد کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیا گیا جس نے او ٹی ایس کے ذریعے ستمبر 2019 میں کیے جانے والے سب انسپکٹر کے عہدے کے لیے اپنے تحریری امتحان میں 79 نمبر حاصل کیے تھے۔

انکوائری کے دوران دوبارہ تشخیصی ٹیسٹ کیا گیاجس میں وہ صرف 42 نمبر حاصل کرسکا۔

دوبارہ تشخیصی ٹیسٹ کا اصل جوابی پرچہ اور اس کی ہینڈ رائٹنگ ایف آئی اے کے ٹیکنیکل ونگ کو ارسال کی گئی جو گزشتہ سے مماثلت نہیں رکھتی تھی۔

بعد ازاں اس کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیا گیا جس کی وجہ سے اس کی گرفتاری عمل میں آئی۔

نثار کالونی فیصل آباد کا رہائشی حمزہ سعید نے دھوکہ دہی، جعلسازی اور غیر منصفانہ ذرائع استعمال کرکے خود کو ایف آئی اے میں بطور سب انسپکٹر مقرر کیا گیا۔

انہوں نے او ٹی ایس عملہ کے ساتھ ملی بھگت سے یہ نظام نظر انداز کرنے میں کامیاب ہوئے۔

تاہم سب انسپیکٹر امانت علی کی جانب سے کی جانے والی تفتیش کے دوران دیگر کے کردار کا تعین کیا جائے گا۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Comment moderation is enabled. Your comment may take some time to appear.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Privacy & Cookies Policy