دنیا کے 63کروڑ خواتین اور بچے جنگی تنازعات کا شکار

انہوں نے کہا کہ آج دنیا کی نصف سے زیادہ خواتین اور بچے تنازعات کا سامنا کرنے والے ممالک میں رہ رہے ہیں، عالمی برادری ان کی حالت زار کو نظرانداز نہیں کرسکتی، انہوں نے مزید کہا کہ اب عالمی ردعمل کی بنیاد پر دوبارہ غور کرنے کا وقت آگیا ہے جو عدم تحفظ، رسائی، سیاست، ہم آہنگی اور خواتین اور بچوں کو سیاسی طور پر غیر مستحکم اور غیر محفوظ علاقوں میں اعلیٰ ترجیحی اقدامات کے تحت رسد کی فراہمی میں درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرسکے۔

0 4

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کراچی: چار صفحات پر مشتمل مقابلے کے مطابق مسلح تنازعات ہر گزرتے دن کے ساتھ پیچیدہ اور لمبے ہوتے جارہے ہیں اور انہیں صحت کی ضروری سروسز تک رسائی رکنے کا خطرہ لاحق ہے جس سے کم از کم 63کروڑ خواتین اور بچے یا دنیا کی آبادی کا 8فیصد حصہ متاثر ہو سکتا ہے۔

پاک ا یشیااخبار کی رپورٹ کے مطابق ماہرین اور تفتیش کاروں پر مشتمل دی لینسیٹ کی جانب سے اتوار کو شائع مقالے میں تنازع کا شکار علاقوں میں عالمی برادری کی خواتین اور بچوں کی صحت کو ترجیح دینے میں ناکامی پر روشنی ڈالی ہے اور انسانی حقوق کے اداروں اور امداد دہندگان سے سیاسی اور سیکیورٹی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی عہد کا مطالبہ کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے کہ سب سے زیادہ خطرات سے دوچار بچوں اور خواتین تک ترجیھی بنیادوں پر پہنچنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔

کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں سینٹر فار گلوب چائلڈ ہیلتھ اور اس تحقیق کی سربراہی کرنے والی آغا خان یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ فار گلوبل ہیلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ کے پروفیسر ذولفقار بھٹہ نے کہا کہ نئے تخمینے جنگ کی وجہ سے آسانی سے روکنے والے متعدی امراض، غذائی قلت، جنسی تشدد، اور خراب دماغی صحت اور ساتھ ہی پانی اور طبی سہولیات جیسی بنیادی سروسز کی تباہی کے ثبوت فراہم کرتے ہیں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Comment moderation is enabled. Your comment may take some time to appear.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Privacy & Cookies Policy