احتیاط نہ کی تو خطرے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اسد عمر کا انتباہ

پیر کو ٹوئٹس کے ایک سلسلے میں وفاقی وزیر نے کہا کہ جب دوسری لہر میں تیزی آئی تو ہم نے نومبر کے آخری ہفتے میں اپنے تجزیے کے تحت زیادہ خطرے کے حامل علاقوں کو بند کردیا تھا۔

0 10

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

وزیر منصوبہ بندی، ترقیات اور خصوصی اقدامات اسد عمر نے ایک بار پھر قوم سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحت کے نتائج ہمارے فیصلوں اور ذاتی انتخاب سے بھرپور طریقے سے منسلک ہیں۔

پیر کو ٹوئٹس کے ایک سلسلے میں وفاقی وزیر نے کہا کہ جب دوسری لہر میں تیزی آئی تو ہم نے نومبر کے آخری ہفتے میں اپنے تجزیے کے تحت زیادہ خطرے کے حامل علاقوں کو بند کردیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ دسمبر کے پہلے ہفتے میں ہسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں کی تعداد انتہا پر پہنچ گئی تھی، دوسرے ہفتے میں آکسیجن/ وینٹی لیٹر کے مریضوں کی تعداد انتہا پر تھی، تیسرے ہفتے میں اموات میں اضافہ ہوا اور پھر کمی آئی، فیصلے اور نتائج انتہائی حد تک باہمی ربط رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اعدادوشمار واضح کرتے ہیں کہ کووڈ۔19 کے نتائج ذاتی انتخاب اور فیصلوں سے کس طرح سے منسلک ہیں، لہٰذا یہ ضروری ہے کہ ہم سب ذمہ داری لیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں، اگر ہم صحیح کام کرتے ہیں تو ہم زندگی اور معاش کا تحفظ کرتے رہیں گے۔

وزیر مملکت نے یہ انتباہ ملک میں کورونا کے کیسز میں 5 لاکھ سے تجاوز کرنے کے ایک دن بعد دیا ہے، اب تک پاکستان میں 5 لاکھ 4 ہزار 293 افراد کورونا کیسز کا شکار ہو چکے ہیں اور 10ہزار 676 اموات ہو چکی ہیں جبکہ اس بیماری سے 4 لاکھ 58ہزار 371 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Privacy & Cookies Policy