دھرنا منتظمین اور حکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب، میتیں دفن کرنے کا اعلان

بلوچستان کے علاقے مچھ میں مارے جانے والے ہزارہ برادری کے دس کان کنوں کے لواحقین اور حکومتی ارکان کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں جس کے بعد لواحقین نے دھرنا ختم کرنے اور میتیوں کو دفن کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

2

بلوچستان کے علاقے مچھ میں گذشتہ ہفتے قتل کیے جانے والے ہزارہ برادری کے دس کان کنوں کے لواحقین اور حکومتی ارکان کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں۔

رات گئے مذاکرات کی کامیابی کے بعد لواحقین نے دھرنا ختم کرنے اور میتوں کو دفن کرنے کا علان کر دیا ہے۔

اس اعلان کے بعد ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے اعلان کیا کہ جیسے ہی میتوں کی تدفین کا عمل مکمل ہوگا وزیراعظم عمران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ہمراہ کوئٹہ کے لیے روانہ ہو جائیں گے۔

دھرنا منتظمین کے ساتھ مذاکرات کے لیے آنے والے حکومتی ارکان میں وفاقی وزیر علی زیدی، وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری، وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال سمیت دیگر عہدیدار شامل تھے۔

دھرنے کے مقام سے حکومتی ارکان میں شامل وفاقی وزیر علی زیدی نے مذاکرات کے بعد دھرنے کے شرکا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’شہدا کمیٹی کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پہلی مرتبہ حکومت کی جانب سے تحریر معاہدہ کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے وزیر داخلہ کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیشن بھی تشکیل دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جن افسران کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا ان کے حوالے سے بھی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

علی زیدی نے بتایا کہ نادرا اور پاسپورٹ کے مسائل کو بھی حل کرنے کا مطالبہ تسلیم کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ جو مطالبات تسلیم کیے گئے ہیں ان کے مطابق مرنے والوں کے شرعی وارث کو سرکاری ملازمت دی جائے گی۔

اس موقع پر دھرنا منتظمین نے دھرنا شرکا سے خطاب کرتے ہوئے پرامن انداز میں دھرنا ختم کرنے کی درخواست کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ ان کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ یہ واقعہ گذشتہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب مچھ کے علاقے میں پیش آیا تھا جس میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے دس کان کنوں قتل کر دیے گئے تھے جس کے بعد ان کے لواحقین اور ہزارہ برادری کا کوئٹہ شہر کے باہر مغربی بائی پاس پر شدید سردی میں دھرنا چھ روز تک جاری رہا۔

مظاہرین نے حکومت کے سامنے دس مطالبات رکھے تھے وہ چاہتے تھے کہ وزیر اعظم متاثرین سے ملنے آئیں ورنہ وہ میتوں کی تدفین نہیں کریں گے۔

تاہم جمعہ کی صبح وزیراعظم عمران خان نے سپیشل ٹیکنالوجی زون اتھارٹی کے اجرا کے موقعے پر ایک خطاب میں کہا تھا کہ بلوچستان کے علاقے مچھ میں مارے جانے والے کان کنوں کے لواحقین ان کی تدفین کر دیں تو وہ آج ہی ان سے ملنے کوئٹہ چلے جائیں گے۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اس بیان پر ہزارہ برادری، اپوزیشن اور پاکستان میں انسانی حقوق کمیشن نے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میتوں کی تدفین کے لیے وزیر اعظم کے آنے کی شرط رکھنا مناسب نہیں کیونکہ اس طرح ’ہر کوئی وزیر اعظم کو بلیک میل کرے گا۔

وفاقی وزیر علی زیدی نے وزیراعظم کے اس بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان جس کے بارے میں بات کر رہے تھے وہ آئندہ دنوں میں معلوم ہو جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کے ’عمران خان احساس رکھنے والے انسان ہیں مگر اب وہ صرف عمران خان نہیں بلکہ وزیراعظم ہیں۔

تبصرے