ہزارہ دھرنا: ’کسی بھی ملک کے وزیر اعظم کو اس طرح بلیک میل نہیں کرتے

وزیر اعظم نے ہزارہ برادری کے مظاہرین سے مچھ میں ہلاک ہونے والے کان کنوں کی میتیں دفنانے کی ایک بار پھر درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’دنیا میں کہیں بھی وزیر اعظم کو ایسے بلیک میل نہیں کیا جا سکتا۔‘

0 6

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بلوچستان کے علاقے مچھ میں مارے جانے والے ہزارہ برادری کے دس کان کنوں کے لواحقین ان کی تدفین کر دیں تو وہ آج ہی کوئٹہ چلے جائیں گے۔

عمران خان نے جمعے کو سپیشل ٹیکنالوجی زون اتھارٹی کے اجرا کے موقع پر ایک خطاب میں کہا کہ تدفین کے لیے وزیر اعظم کے آنے کی شرط رکھنا مناسب نہیں ہے۔

انہوں نے وزیراعظم کے کوئٹہ آنے کے مطالبے پر کہا کہ ’پھر ہر کوئی وزیر اعظم کو بلیک میل کرے گا۔’ 

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے اور اتوار کی شب مچھ کے علاقے میں مارے جانے والے ہزارہ برادری کے دس کان کنوں کے لواحقین گذشتہ چھ روز سے کوئٹہ میں میتیں رکھے دھرنا دیے ہوئے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ وزیر اعظم ان سے جا کر ملاقات کریں۔

نامہ نگار عبداللہ جان کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’کسی بھی ملک میں وزیراعظم کو اس طرح سے بلیک میل نہیں کیا جا سکتا۔‘

ان کا کہنا تھا: ’یہ حکومت پوری طرح ہزارہ برادری کے ساتھ کھڑی ہے اور  لواحقین کو یقین دلاتے ہیں کہ انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔‘

’جتنا ظلم ہزارہ برادری پر ہوا پاکستان میں کسی پر نہیں ہوا، نائن الیون کے بعد ہزارہ برادری کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا۔‘

انہوں نے ایک مرتبہ پر بھارت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ’بھارت پاکستان کے خلاف سازش کر رہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’سانحہ مچھ کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’جب ہزارہ برادری کے تمام مطالبات تسلیم کر چکے ہیں تو وزیر اعظم کی کوئٹہ آمد سے متعلق مطالبہ ٹھیک نہیں۔‘

واضح رہے کہ گذشتہ روز ذرائع ابلاغ پر یہ خبریں گردش کرتی رہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے کوئٹہ جانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور وہ جلد ہی وہاں جائیں گے۔ تاہم اب ان کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا ہے۔

اس سے قبل پاکستان ڈٰیموکریٹک موومنٹ کے مرکزی رہنما جن میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو، جمعیت علمائے اسلام کے مولانا غفورحیدری اور دیگر رہنما شامل تھے نے کوئٹہ کا دورہ کیا تھا۔

مریم نوازنے اس موقع پر کہا تھا کہ اگر عمران خان کوئٹہ نہیں آسکتے تو پھر عوام انہیں اسلام آباد میں بھی بیٹھنے نہیں دیں گے جبکہ بلاول نے کہا تھا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں لاش کو بھی احتجاج کرنا پڑتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کے تازہ بیان پر ایک مرتبہ پھر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا پر صارفین ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔

سیاست دان افراسیاب خٹک نے اس حوالے سے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’عمران خان کے لیے ہزارہ برادری کی جانب کئی بار قتل عام کا سامنا کرنے کے بعد جینے کے حق کے لیے احتجاج بلیک میلنگ ہے۔ مگر منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے ان کا اپنا 126 روزہ دھرنا جد و جہد تھی۔‘

صحافی عاصمہ شیرازی نے لکھا: ’گیارہ لاشیں کتنی زندہ لاشوں کو ظاہر کر گئی ہیں۔‘

اس حوالے سے معاون خصوصی براے اطلاعات و نشریات پنجاب فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ ’وزیراعظم عمران خان نے کوئٹہ جانے سے انکار نہیں کیا ہے بلکہ مظاہرین کے ساتھ حکومت وفد کے مذاکرات جاری ہیں۔

انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہزارہ برادری کے مظاہریں کے کچھ مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں جبکہ دیگر پر ان کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔‘

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Comment moderation is enabled. Your comment may take some time to appear.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Privacy & Cookies Policy