fbpx
پاکستان عدالت

اسلام آباد ہائیکورٹ: غداری کیس کا فیصلہ روکنے کا تحریری حکم نامہ جاری

اسلام آباد ہائیکورٹ نے غداری کیس کا فیصلہ روکنے کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا 

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے غداری کیس کا فیصلہ روکنے کی وجوہات 24 صفحات پر جاری کیں ہیں۔ تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ غداری کیس میں منفرد، غیر معمولی اور بے مثال حالات ہیں۔

تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ غداری کیس میں وفاقی حکومت اور پراسیکیوشن کا اہم کردار ہے۔ وفاقی حکومت کو پراسیکیوٹر اور پراسیکیوشن ٹیم کے تقرر کا مکمل اختیار ہے۔ فیئر ٹرائل ملزم کیساتھ ساتھ پراسییکیوشن کا بھی حق ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے 1999ء کی بغاوت کے بجائے صرف 2007ء کی ایمرجنسی کی شکایت کی۔ اس عمل نے عدلیہ پر فیئر ٹرائل کو بوجھ مزید بڑھا دیا۔

عدالت عالیہ کی جانب سے کہا گیا کہ غداری کیس کے آغاز سے اختتام تک ٹرائل پراسیکیوشن پر انحصار کرتا ہے۔ خصوصی عدالت پراسیکیوٹر کو سنے بغیر غداری کیس کا فیصلہ نہیں کر سکتی۔ غداری کیس کے فیصلے سے قبل وفاقی حکومت کو دلائل کے لیے مناسب وقت دیا جائے۔

اس کے علاوہ تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ پرویز مشرف کو اشتہاری ہونے کے باوجود دفاع کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے عدالت کو مشرف کی بریت کی درخواست پر فیصلے سے نہیں روکا۔ اگر پرویز مشرف پیش نہیں ہوتے تو صفائی کا بیان ریکارڈ نہیں کیا جا سکتا۔


پاک ایشیاء ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ ہماری صحافت کو سرکاری اور کارپوریٹ دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیے  مالی تعاون کیجیے نیز اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں اور شیئر کر کے ہماری حوصلہ افزائی کریں

About the author

عدیل رحمان (معاون مُدیر)

عدیل رحمان پاک ایشیاء میں بطور معاون مُدیر کے طور پر اپنی خدمات ادا کر رہے ہیں- یہ پاک ایشیاء کے ابتدائی ساتھیوں میں سے ایک ہیں اور انتہائی جانفشانی سے کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں منفرد تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے جس کا اظہار اکثر اُن کی خبروں کی سُرخیوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.