پاکستان نے ’مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جنگی جرائم’ کا ڈوزیئر جاری کردیا

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں مظالم رپورٹ نہیں ہورہے، حقائق منظر عام پر کچھ نہیں آرہے۔

0 7

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر مشتمل ڈوزیئر جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ معروف کشمیری حریت رہنما کے انتقال کے بعد نئی دہلی انتظامیہ اور اس کی فوج کی انتہائی منفی سوچ مزید واضح ہوگی، سید علی گیلانی کے کفن و دفن سے متعلق امور میں بھی تعصب کا مظاہرہ کیا گیا جس کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ سب سے بڑے جمہوری ملک ہونے کا دعویٰ کرنے والے ملک کا چہرہ بے نقاب کریں گے۔

اسلام آباد میں وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری، قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عالمی برادری کو باور کرانا ہوگا کہ بھارتی حکومت کہتی کیا ہیں اور کرتی کیا ہے، مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ کی سروس جزوی طور پر معطل ہیں، نگران اداروں یا صحافیوں کو آزادی حاصل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں مظالم رپورٹ نہیں ہورہے، حقائق منظر عام پر کچھ نہیں آرہے۔

شاہ محمود قریشی نے ایک ڈوزیئر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق ڈوزیئر 131 صفحات پر مشتمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ کتابچے کی صورت میں موجود ڈوزیئر کا پہلا حصہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جنگی جرائم، مقبوضہ وادی میں متحرک تحریک اور تیسرے حصے میں سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزیوں کا تفصیل سے تذکرہ ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ تیار کردہ ڈوزیئر محض قیاس پر مبنی نہیں ہے بلکہ اس میں بھارتی مظالم کے 113 حوالہ جات ہیں، ان حوالہ جات میں پاکستان کے ریفرنس انتہائی محدود ہیں۔

اس ضمن میں انہوں نے مزید بتایا کہ 26 حوالہ جات انٹرنیشنل میڈیا، 41 بھارتی اور 32 حوالہ جات بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے ہیں۔

فراہم کردہ معلومات کے مطابق بھارتی فورسز کی جانب سے استعمال کی گئی پیلٹ گن سے ایک ہزار 253 نوعمر لڑکے نابینا اور 15 ہزار 438 بدترین زخمی ہوئے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز نے محاصرہ اور سرچ آپریشن کے نام پر 6 ہزار 479 املاک کو تباہ کیا اور ایسے آپریشن کی تعداد مجموعی طور پر 15 ہزار 495 رہی۔

پریس کانفرنس میں ڈوزیئر میں شامل چیدہ چیدہ معلومات شیئر کی جانے کے بعد وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے اقوام متحدہ سے متعلق سوال اٹھایا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خواتین اور بچوں کے حقوق سے متعلق کی جانے والی خلاف ورزیوں پر عالمی ادارہ نئی دہلی پر پابندیاں نافذ کیوں نہیں کرتا؟

انہوں نے مزید کہا کہ یہ امر قابل غور ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری بھارت پر دباؤ ڈالنے میں ناکام رہی ہیں کہ نئی دہلی آزاد اداروں کے رہنماؤں اور انسانی حقوق کے سماجی کارکنوں کو مقبوضہ کشمیر میں جانے کی اجازت نہیں دے رہا۔

شیریں مزاری نے کہا کہ برطانیہ نے یورپی یونین سے علحیدہ ہونے کے بعد انسانی حقوق سے متعلق سخت قوانین تشکیل دیے لیکن شاید مالی فوائد کے پیش نظر بھارت پر دباؤ نہیں ڈال رہا۔

انہوں نے یورپی یونین پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ انسانی حقوق کے علمبردار بنتے ہیں لیکن بھارتی تسلط پر آپ کا کوئی مؤثر مؤقف سامنے آتا اور نہ نئی دہلی پر دباؤ ڈالا جاتا ہے، جس کے بعد یورپی یونین کے کردار پر سوال اٹھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جینیوا کنوینشن کے تحت غیر قانونی الحاق شدہ علاقے میں اس کی جغرافیائی حیثیت کو تبدیل کرنا جنگی جرائم کے مترادف ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ بھارت، مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کررہا ہے لیکن کوئی نوٹس نہیں لے رہا۔

شیریں مزاری نے کہا کہ اب بھارت کو اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی صدارت دے دی گئی، ایسا نہیں ہوگا کہ یورپی ممالک اپنی مرضی اور ایما پر کسی بھی ملک پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر پابندی لگائے جبکہ بھارت کو ہر قسم کی پابندی سے آزاد رکھے۔

اب دنیا ہمارے مؤقف کو تسلیم کرتی ہے، معید یوسف

علاوہ ازیں قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے بھارت کے حوالے سے کہا کہ کچھ عرصے قبل تک دنیا ہماری بات پر یقین نہیں کرتی تھی لیکن اب تمام دروازے کھلے ہیں کیونکہ جو کچھ بھارت میں ہورہا ہے وہ بہت ظالمانہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’آج کوئی بھی نہیں کہہ سکتا ہے کہ بھارت سے متعلق پاکستان کا مؤقف غیر واضح یا سچ پر مبنی نہیں ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ عالمی برادری کے مالی فوائد سے جوڑے مفاد کو توڑنا ہوگا کیونکہ یہ عمل نہ صرف پاکستان کے لیے بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی ضروری ہے۔

معید یوسف نے کہا کہ حال ہی میں افغانستان میں پاکستانی طیارے سے متعلق بھارت نے پروپیگنڈا کیا، جس پر دہلی کو شرم آنی چاہیے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Privacy & Cookies Policy