مسلم لیگ (ن) نے نواز شریف کی واپسی کے متعلق جاوید لطیف کا دعویٰ مسترد کردیا

پاک ایشیا ویب چینل کی رپورٹ کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں پیش ہونے کے بعد جاوید لطیف نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ نواز شریف اس سال وطن واپس آرہے ہیں۔

0 7

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

لاہور: مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی جاوید لطیف کے سابق وزیر اعظم و پارٹی قائد نواز شریف کے رواں سال پاکستان واپس آنے کے دعوے کو جماعت نے فوری طور پر یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ وہ صرف واپسی کی فلائٹ اس وقت بک کروائیں گے جب لندن میں ڈاکٹر انہیں صحت کے حوالے سے کلین چٹ دیں گے۔

پاک ایشیا ویب چینل کی رپورٹ کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں پیش ہونے کے بعد جاوید لطیف نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ نواز شریف اس سال وطن واپس آرہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان میں بحرانوں کی وجہ سے نواز شریف مزید بیرون ملک نہیں رہ سکتے، وہ اس سال واپس آئیں گے اور عمران خان کی منتخب حکومت کے پیدا کردہ بحرانوں پر قوم کی رہنمائی کریں گے یہاں تک کہ اگر ان کا علاج مکمل نہ بھی ہو’۔

ریاست کے خلاف لوگوں کو اکسانے کے کیس میں چند مہینوں قبل رہائی پانے والے جاوید لطیف نے دعویٰ کیا تھا کہ ‘نواز شریف چوتھی مرتبہ وزیر اعظم بنیں گے’۔

بعد ازاں مسلم لیگ (ن) کی مرکزی ترجمان مریم اورنگزیب سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ‘مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی واپسی کے حوالے سے جب ڈاکٹر انہیں صحت کے حوالے سے کلین چٹ دیں گے اور سفر کرنے کی اجازت دیں گے تو پارٹی فیصلہ کرے گی’۔

گزشتہ مہینے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے پارٹی سربراہ کی مکمل صحت یابی تک ملک واپس آنے کو مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ قانونی طور پر برطانیہ میں اس وقت تک رہ سکتے ہیں جب تک کہ برطانوی امیگریشن ٹریبونل، محکمہ داخلہ کے انکار کے خلاف اپیل پر فیصلہ نہیں کر لیتا۔

خیال رہے کہ نواز شریف علاج کے لیے ملک سے جانے کی اجازت ملنے کے بعد نومبر 2019 سے لندن میں مقیم ہیں۔

نیب کی جاوید لطیف سے پوچھ گچھ

نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے جاوید لطیف سے تقریباً دو گھنٹے تک پوچھ گچھ کی اور ان کے اور ان کے رشتہ داروں کے ناموں پر بھاری جائیداد بنانے کے ذرائع کے بارے میں جوابات طلب کیے لیکن مبینہ طور پر وہ تفتیش کاروں کو مطمئن نہیں کر سکے۔

نیب نے الزام لگایا کہ جاوید لطیف نے سیاست میں آنے کے بعد اپنے بہن بھائیوں کے نام پر اربوں روپے کے اثاثے حاصل کیے۔

نیب کا کہنا تھا کہ سیاست میں آنے سے قبل وہ مبینہ طور پر حبیب کالونی، شیخوپورہ میں وراثت میں ملنے والے 12 مرلے کے گھر میں رہتے تھے اور انہوں نے مبینہ طور پر اپنے ‘کالے دھن’ کو چھپانے کے لیے اپنے رشتہ داروں کے نام پر اپنے اکثر اثاثے حاصل کیے۔

جاوید لطیف نے کہا کہ نیب نے ان سے اثاثے بنانے کے اختیارات کے مبینہ غلط استعمال کے بارے میں سوال کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب کے سوالات کا جواب دینے کے باوجود بیورو کی جانب سے میرے خلاف تحقیقات ختم نہیں کی جارہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ‘میں گزشتہ تین سالوں سے اس طرح کی تحقیقات کا سامنا کر رہا ہوں اور میرے خلاف اختیارات کا غلط استعمال یا بدعنوانی ثابت نہیں ہوئی ہے’۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Privacy & Cookies Policy