حکومت سندھ نے ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے ’کراچی پراپرٹی سروے‘ کا فیصلہ کرلیا

مالی سال 21 میں حیدرآباد سے 7 کروڑ 33 لاکھ، سکھر سے 3 کروڑ 75 لاکھ، شہید بینظر آباد سے ایک کروڑ 2 لاکھ، لاڑکانہ سے 2 کروڑ 34 لاکھ اور میرپورخاص سے ایک کروڑ 11 لاکھ روپے پراپرٹی ٹیکس کی مد میں وصول کیے۔

0 1

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کراچی: حکومت سندھ 6 بڑے شہروں سے پراپرٹی ٹیکس وصول کرتی ہے تاہم صوبائی حکام نے صرف کراچی میں پراپرٹی سروے کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ زیادہ لوگوں کو پراپرٹی یٹکس نیٹ میں شامل کیا جاسکے۔

پاک ایشیا ویب چینل کی رپورٹ کے مطابق اس وقت سندھ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمںٹ کراچی، حیدرآباد، سکھر، میرپورخاص، شہید بینظیر آباد اور لاڑکانہ سے پراپرٹی ٹیکس وصول کر رہا ہے اور مالی سال 21 میں مجموعی طوپر ایک ہزار 679 ارب روپے وصول کیے جس میں سے صرف کراچی سے ایک ارب 52 کروڑ روپے شامل ہیں۔

مالی سال 21 میں حیدرآباد سے 7 کروڑ 33 لاکھ، سکھر سے 3 کروڑ 75 لاکھ، شہید بینظر آباد سے ایک کروڑ 2 لاکھ، لاڑکانہ سے 2 کروڑ 34 لاکھ اور میرپورخاص سے ایک کروڑ 11 لاکھ روپے پراپرٹی ٹیکس کی مد میں وصول کیے۔

سندھ بھر میں پراپرٹی ٹیکس کا آخری سروے 2001 میں صدر (ر) جنرل پرویز مشرف کے دور میں کیا گیا تھا اور لوکل گورنمنٹ قانون کے تحت پراپرٹی ٹیکس کی وصولی ضلعی حکومت کو سونپ دی گئی تھی لیکن یہ عمل اب بھی صوبائی ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ دے رہا ہے۔

حکومت سندھ کی جانب سے صرف کراچی کے لیے پراپرٹی سروے کی وجہ ورلڈ بینک گروپ کے 24 کروڑ روپے کے معالی تعاون سے چلنے والے پروگرام مسابقتی اور رہائش پذیر شہر کراچی (کلک) ہے جس کا مقصد شہر کے ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات لانا اور مقامی حکومت کی ترسیل کے نظام کی کارکردگی میں اضافہ کرنا ہے۔

کلک منصوبے کے تحت حکومت سندھ نے کراچی عظمیٰ بلدیہ (کے ایم سی)، ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشنز (ڈی ایم سی) اور ڈسٹرکٹ کونسل کراچی کو عالمی مالیاتی ادارے کی مدد سے فعال بنانا ہے جس میں ایک حصہ ’شہری پراپرٹی ٹیکس کے نظام میں بہتری‘ ہے۔

گزشتہ روز وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ایک اجلاس کی صدارت کی اور ورلڈ بینک کے زیر اہتمام اربن پراپرٹی ٹیکس ایڈمنسٹریشن اینڈ سسٹم کی جدید کاری کی منظوری دی۔

وزیراعلیٰ نے اجلاس کو بتایا کہ سروے سے ٹیکس نیٹ کو بہتر بنائے گا اور جیوگرافک انفارمیشن سسٹم (جی آئی ایس) شہری منصوبہ بندی کے حکام کو پائیدار انفراسٹرکچر کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد میں مدد دے گا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ 2021 میں کراچی میں صرف 8 لاکھ پراپرٹی یونٹس پر پراپرٹی کے لیے ٹیکس لگایا جا رہا تھا اور سروے کے بعد کراچی سے پراپرٹی ٹیکس کی وصولی گزشتہ مالی سال کے 1.72 ارب روپے سے بڑھ کر 3.63 ارب روپے ہو جائے گی۔

انہوں نے کے ایم سی اور ڈی ایم سی کو پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کا اختیار دیا ہے اور طریقہ کار پر کام کرنے کے لیے ایک وزارتی کمیٹی تشکیل دی۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Privacy & Cookies Policy