گوادر اور کوئٹہ حملوں میں ملوث دہشت گرد افغانستان سے آئے تھے، شیخ رشید

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'مستقبل میں افغانستان کی سیاست کا خطے میں بہت بڑا دخل ہوگا، پاکستان کیا کرنے جارہا ہے یہ عمران خان کا فیصلہ ہے'۔

0 4

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ گوادر اور کوئٹہ میں حال ہی میں ہونے والے حملے میں ملوث دہشت گردون کی شناخت ہوگئی ہے، دونوں افغانستان سے آئے تھے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘مستقبل میں افغانستان کی سیاست کا خطے میں بہت بڑا دخل ہوگا، پاکستان کیا کرنے جارہا ہے یہ عمران خان کا فیصلہ ہے’۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں کوئی مہاجر کیمپ نہیں ہے، بھارت کا پروپگینڈا بے بنیاد ہے، خطے میں سب سے زیادہ بھارت کو منہ کی کھانی پڑی ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘بھارت کی افغانستان میں ساری سرمایہ کاری تباہ ہوگئی ہے، اسے پیٹ میں درد ہے کہ اس نے جو نقشہ بنایا تھا اور جو ان کے 66 کیمپ تھے وہ سب ختم ہوگئے ہیں’۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ‘جنرل فیض حمید بھارت کے میڈیا پر چھائے رہے، ان کے میڈیا کو دیکھا تو ہنسی آرہی تھی جیسے وہ کابل نہیں دہلی گئے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم افغانستان میں امن و استحکام چاہتے ہیں کیونکہ ہماری ترقی ایک دوسرے سے منسلک ہے، افغانستان میں حکومت کے قیام کے بعد ایک تفصیلی پریس کانفرنس کروں گا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘جو لوگ افغانستان سے بغیر دستاویزات کے پاکستان میں آئے ہیں ان کے بارے میں جلد حکومت فیصلہ کرے گی’۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ طالبان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کی زمین ہمارے خلاف استعمال نہیں ہوگی تاہم یہاں بی ایل اے، داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں ہیں ہماری فوج ان سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں۔

پاک چین اقتصادی راہداری میں طالبان کی دلچسپی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ‘سی پیک پاکستان کی معاشی شہہ رگ ہے، اگر طالبان بھی یہی سوچ رکھتے ہیں تو بہت اچھی بات ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے نئے سیاسی حالات ایک حقیقت ہیں، دنیا کے ساتھ مل کر ہمیں معاملات طے کرنا ہے۔

اپوزیشن کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ساری دنیا کی سیاست کا مرکز افغانستان ہونے جارہا ہے تاہم اپوزیشن کی سیاست لاہور لاہور ہے، تک محدود ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Privacy & Cookies Policy