ملک بھر میں یوم دفاع بھر پور قومی جوش و جذبے سے منایا جارہا ہے

6 ستمبر 1965 وہ دن تھا جب بھارتی افواج نے رات کے اندھیرے میں بین الاقوامی سرحد عبور کر کے پاکستان پر حملہ کیا لیکن قوم نے دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا۔

0 5

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

وطنِ عزیز کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا اور جانوں کی پرواہ نہ کرنے والے غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ملک بھر میں یومِ دفاع بھرپور ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جارہا ہے۔

6 ستمبر 1965 وہ دن تھا جب بھارتی افواج نے رات کے اندھیرے میں بین الاقوامی سرحد عبور کر کے پاکستان پر حملہ کیا لیکن قوم نے دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اس سال کے یوم دفاع و شہدا کا موضوع ‘ہمارے شہدا ہمارا فخر، غازیوں اور شہیدوں سے تعلق رکھنے والے تمام رشتہ داروں کو سلام’ ہے۔

یومِ دفاع کا آغاز نمازِ فجر کے بعد ملک کی ترقی و خوشحالی اور مقبوضہ جموں و کشمیر کو بھارت کے ظالمانہ چنگل سے آزاد کرانے کے لیے مساجد میں فجر کے بعد خصوصی دعائیں مانگ کر کیا گیا جبکہ شہدا کے لیے فاتحہ خوانی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

نیول ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں یاد گارِ شہدا پر تقریب منعقد ہوئی—تصویر: ڈان نیوز

اس سلسلے میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دن کا آغاز 31 جبکہ صوبائی دارالحکومتوں میں21 ،21 توپوں کی سلامی سے ہوا۔

کراچی میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار پر گارڈ کی تبدیلی کی پُروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستان ایئرفورس اکیڈمی کے چاک و چوبند کیڈٹس نے مزارِ قائد پر گارڈ کے فرائض سنبھالے۔

اس موقع پر مہمان خصوصی کو جنرل سیلوٹ پیش کیا گیا، تقریب کے مہمان خصوصی ایئر آفیسر کمانڈنگ اصغر خان اکیڈمی ایئر وائس مارشل قیصر خان جنجوعہ نے مزار پر پھول چڑھائے، فاتحہ خوانی کی اور مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات قلمبند کیے۔

اس کے علاوہ نیول ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں یادگار شہدا پر پُر وقار تقریب منعقد ہوئی، ملک کے استحکام اور شہدا کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

دورانِ تقریب چیف آف نیوزل اسٹاف ایڈمرل امجد خان نیازی نے یادگار پر پھول رکھے اور شہدا کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی۔

صدر و وزیراعظم کے یومِ دفاع کے موقع پر پیغامات

یوم دفاع اور شہدا کے موقع پر صدر ملکت عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان نے اپنے علیحدہ علیحدہ پیغامات میں اس عہد کی تجدید کی کہ بہادر پاکستانی قوم اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان اپنے ہمسایے میں ہونے والی پیش رفت سے مکمل طور پر باخبر ہے اور امن کے قیام کے لیے پرعزم جبکہ امن میں رکاوٹ ڈالنے والی کسی بھی سازش کو ناکام بنانے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے خفیہ سرگرمیاں انجام دینے والے دشمن کو بے نقاب کرنے کے لیے سیکیورٹی اداروں کی انتھک کوششوں کو سراہا۔

ڈاکٹر عارف علوی نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان، مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر اپنے اصولی مؤقف سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ بہادر سپاہیوں اور افسروں، پائلٹس اور سیلرز بے جگری سے لڑے اور اپنی جانوں کی پرواہ نہیں کی اور بڑی قربانی دے کر ملکی سرحدوں کا دفاع کیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت آج خاص طور پر پاکستان کے حوالے سے عالمی برادری کے سامنے خطے میں امن کو متاثر کرنے کی کوشش کے لیے بے نقاب ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری حکومت کی فعال سفارتکاری کی وجہ سے بین الاقوامی برادری اب مان چکی ہے کہ بھارت بھر میں اقلیتوں پر ظلم و ستم اور مقبوضہ کشمیر میں معصوم کشمیریوں پر جاری مظالم فوری طور پر ختم ہونے چاہئیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بھارت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دینا ہوگا جو جتنی جلد ہو اتنا بہتر ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Privacy & Cookies Policy