ٹی ایل پی پر عائد پابندی ہٹانے کا کوئی ارادہ نہیں، وزیراعظم

وزیراعظم نے یہ اعلان پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کیا

0 7

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

حکومت کی جانب سے فرانسیسی سفیر کی بے دخلی سے متعلق قرار داد قومی اسمبلی میں پیش کرنے اور کالعدم تنظیم کے دھرنے ختم کرنے کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا ہے کہ حکومت کا تحریک لبیک پاکستان ( ٹی ایل پی) پر لگائی گئی پابندی ہٹانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ٹی ایل پی کو حکومت کی جانب سے لگائی پابندی ختم کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کرنا ہوگا۔

وزیراعظم نے یہ فیصلہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارلیمانی پارٹی کے ایک اجلاس کی سربراہی کرتے ہوئے کیا۔

حکومت نے ٹی ایل پی پر پابندی گزشتہ ہفتے اس وقت لگائی تھی جب کالعدم تنظیم نے گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر فرانسیسی سفیر کے مطابے کے ساتھ ملک بھر میں پر تشدد احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔

اجلاس میں موجود ایک فرد نے ڈان کو بتایا کہ وزیراعظم کا نقطہ نظر یہ تھا کہ اگر پاکستان فرانسیسی سفیر کو بے دخل کردے تو یورپی یونین کی جانب سے سخت ردِ عمل آسکتا ہے اور مغربی ممالک میں موجود پاکستان کے 27 سفیروں کو واپس آنا پڑ سکتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہر مسلمان نبی ﷺ سے محبت کرتا ہے اور ان کی توہین برداشت نہیں کرسکتا لیکن حکومت کی جانب سے مذمت کا طریقہ ٹی ایل سے قدرے مختلف تھا، کوئی یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ وہ نبیﷺ کو سب سے زیادہ محبت کرتا ہے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ مغربی ممالک اس وقت تک دباؤ میں نہیں آئیں گے جب پوری امت مسلمہ مشرکہ طور پر گستاخی کے عمل کی مذمت نہ کردے اور مغرب کو یہ احساس دلائے کہ یہ آزاد اظہار رائے نہیں ہے بلکہ اس سے دنیا بھر میں اربوں مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ایک مہم کی سربراہی کریں گے جس میں مسلمان ریاستوں کے سربراہاں مشترکہ طور پر مغرب پر نبیﷺ کی گستاخی روکنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔

اجلاس میں شریک ایک اور فرد کا کہنا تھا کہ تمام شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ حکومت ٹی ایل پی سے پابندی نہیں ہٹائے گی اور پارٹی کو پابندی ہٹوانے کے لیے عدالت میں درخواست دائر کرنا ہوگی۔

ایک وزیر کو جب یہ یاددہانی کروائی گئی کہ ٹی ایل پی پر پابندی عدالت نے نہیں بلکہ وزارت داخلہ نے لگایئ تھی تو ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم پابندی نہیں ہٹا سکتے کیوں کہ یہ ایک قانونی معاملہ ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگر فرانسیسی سفیر کو واپس بھیجا گیا تو مغرب میں موجود لاکھوں پاکستانی ورکرز کا مستقبل داؤ پر لگ جائے گا، اسی طرح مغربی اور یورپی ممالک کے ساتھ ہماری تجارت بھی متاثر ہوگی۔

اجلاس کے ایک اور شریک فرد کا کہنا تھا کہ پورے اجلاس میں ٹی ایل پی کو ایک کالعدم تنظیم کہا جاتا رہا۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Comment moderation is enabled. Your comment may take some time to appear.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Privacy & Cookies Policy