‘ٹی ایل پی’ کے خلاف ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے پر کارروائی کی، وزیر اعظم

وزیر اعظم نے کہا کہ ہم ان انتہا پسندوں سے معافی کا مطالبہ کرتے ہیں

0 29

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

(ویب ڈیسک) — وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ نپاکستان میں کوئی بھی قانون سے بالا تر نہیں ہے۔ تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے خلاف ریاست کی عملداری کو چیلنج کرنے پر انسداد دہشت گردی قانون کے تحت کارروائی کی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں وزیر اعظم نے کہا کہ ‘میں اندرون اور بیرون ملک لوگوں کو واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہماری حکومت نے تحریک لبیک پاکستان کے خلاف انسداد دہشت گردی قانون کے تحت اس وقت کارروائی کی جب انہوں نے ریاست کی عملداری کو چیلنج کیا اور پرتشدد راستہ اختیار کرتے ہوئے عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کیے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘کوئی بھی قانون اور آئین سے بالاتر نہیں ہے’۔

وزیر اعظم نے اسلاموفوبیا اور نسلی تعصب کے ذریعے دنیا بھر کے ایک ارب 30 کروڑ مسلمانوں کو دکھ اور تکلیف پہنچانے والے بیرون ملکی انتہا پسندوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ‘ہم مسلمان نبی کریم ﷺ سے سب سے زیادہ محبت اور احترام کرتے ہیں جو ہمارے دلوں میں بستے ہیں، ہم ان کی شان میں کسی قسم کی گستاخی برداشت نہیں کر سکتے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘مغرب میں دائیں بازوں کے سیاست دانوں سمیت آزادی اظہار کی آڑ میں مذہبی منافرت پھیلانے والے انتہا پسندوں میں اپنے اس رویے پر ایک ارب 30 کروڑ مسلمانوں سے معافی مانگنے کی جرات ہونی چاہیے، ہم ان انتہا پسندوں سے معافی کا مطالبہ کرتے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میں مغربی حکومتوں، جنہوں نے ہولوکاسٹ پر منفی تبصروں کو غیر قانونی دیا گیا ہے، سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اسی معیار کو اپناتے ہوئے ان انتہا پسندوں کو سزا دے جو جان بوجھ کر نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرکے مسلمانوں سے اپنی نفرت کا پیغام پھیلا رہے ہیں’۔

ٹی ایل پی پر پابندی

گزشتہ روز حکومتِ پاکستان نے تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم قرار دے دیا اور وزارت داخلہ نے تنظیم پر پابندی کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا تھا۔

وزارت داخلہ سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق وفاقی حکومت کے پاس یہ ماننے کے لیے مناسب وجہ موجود ہیں کہ تحریک لبیک پاکستان دہشت گردی میں ملوث ہے اور انہوں نے ایسے کام انجام دیے جس سے ملک کے امن اور سیکیورٹی کو خطرات لاحق ہو گئے۔

نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ انہوں نے عوام کو اشتعال دلاتے ہوئے ملک میں افراتفری کی صورتحال پیدا کی جس کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نقصان پہنچا اور کچھ کی موت واقع ہوئی۔

اعلامیے کے مطابق مشتعل افراد نے معصوم عوام کو بھی نقصان پہنچایا، بڑے پمانے پر رکاوٹیں کھڑی کیں، دھمکی آمیز رویہ اپنایا اور نفرت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ گاڑیوں سمیت سرکاری اور عوامی املاک کو نقصان پہنچایا۔

وزارت داخلہ کے مطابق مشتعل افراد نے ہسپتال کو ضروری اشیا کی ترسیل بھی روک دی اور عوام اور حکومت کو دھمکیاں دیں جس سے معاشرے میں خوف و ہراس اور عدم استحکام کی فضا پیدا ہو گئی۔

بعد ازاں انسداد دہشت گردی کے قومی ادارے (نیکٹا) نے ٹی ایل پی کو کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کردیا تھا جس کے بعد اس فہرست میں کالعدم تنظیموں کی تعداد 79 ہوگئی ہے۔

اس حوالے سے علما کو اعتماد میں لینے کی کوشش کے طور پر وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے مذہبی اسکالرز کے اعزاز میں افطار ڈنر کا بھی اہتمام کیا تھا، جس میں وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے انہیں ٹی ایل پی پر پابندی کی وجوہات سے آگاہ کیا تھا۔

گزشتہ روز احتجاج کے خدشات پر امن و امان برقرار رکھنے اور عوام کے تحفظ کے پیش نظر وزارت داخلہ کی ہدایت پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک بھر میں دن 11 سے سہ پہر 3 بجے تک سوشل میڈیا پر پابندی بھی لگا دی تھی۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Privacy & Cookies Policy