گلگت-بلتستان اسمبلی میں عبوری صوبائی حیثیت کے مطالبے کے لیے قرارداد متفقہ طور پر منظور

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا ایک عارضی صوبہ قرار دینے کے لیے آئین میں ترمیم کرنے کا بل پارلیمنٹ کے ذریعہ منظور کیا جائے جس سے مسئلہ کشمیر پر ملک کے مؤقف کو کوئی نقصان نہیں پہنچے۔

5

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی نے متفقہ طور پر مشترکہ قرارداد منظور کی جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اور ریاستی ادارے خطے کو عارضی صوبائی حیثیت دے اور اسے پارلیمنٹ اور دیگر آئینی اداروں میں نمائندگی فراہم کی جائے۔

اس قرارداد کو مشترکہ طور پر پی ٹی آئی کی طرف سے گلگت بلتستان کے وزیر اعلی خالد خورشید خان، پیپلز پارٹی کے اپوزیشن کے رہنما امجد حسین ایڈووکیٹ، مسلم لیگ (ن) کے غلام محمد، ایم ڈبلیو ایم کے ممبر محمد کاظم، جے یو آئی (ف) کے رحمت خالق اور گلگت بلتستان کے وزیر راجہ اعظم خان نے مشترکہ طور پر پیش کیا۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا ایک عارضی صوبہ قرار دینے کے لیے آئین میں ترمیم کرنے کا بل پارلیمنٹ کے ذریعہ منظور کیا جائے جس سے مسئلہ کشمیر پر ملک کے مؤقف کو کوئی نقصان نہیں پہنچے۔

اسمبلی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ گلگت بلتستان کے عوام اپنی جدوجہد میں مقبوضہ کشمیر کے عوام کی اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھیں گے۔

قرارداد ایوان نے متفقہ طور پر منظور کی۔

گلگت بلتستان اسمبلی سیکریٹریٹ نے قرارداد کی ایک کاپی وزیر اعظم سیکریٹریٹ کو بھی ارسال کردی۔

جی بی کے وزیر اعلی خالد خورشید خان نے کہا کہ گلگت بلتستان اسمبلی نے خطے کو آئینی حقوق کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے متفقہ طور پر ایک تاریخی قرارداد پاس کی۔

انہوں نے اپوزیشن اور حکومتی ممبران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ‘آئینی حقوق کا مطالبہ جی بی کے لوگوں کا متفقہ مطالبہ ہے، کسی فرد یا جماعت کا نہیں، اس مسئلے پر ہم نے جو اتحاد ظاہر کیا ہے اسے وفاقی سطح پر دوبارہ دہرائے جانے کی ضرورت ہے’۔

اس پیش رفت کو ایک ‘تاریخی دن’ قرار دیتے ہوئے وزیر سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ ‘ان سب کو مبارکباد جنہوں نے یہ ممکن بنایا’۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں وزیر کشمیر و گلگت بلتستان امور علی امین گنڈا پور نے اعلان کیا تھا کہ وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

دسمبر میں وزیر اعظم عمران خان نے اس سلسلے میں سفارشات پیش کرنے کے لیے 12 رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔

علی امین گنڈا پور اس کمیٹی کے سربراہ ہیں جس میں گلگت بلتستان کے وزیر اعلی محمد خالد خورشید، پاکستان کے اٹارنی جنرل، وفاقی سیکرٹری برائے خزانہ، دفاع، خارجہ امور، پارلیمانی امور، گلگت بلتستان کے چیف سکریٹری، جی بی کونسل کے جوائنٹ سکریٹری اور سیکیورٹی ایجنسیز کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تبصرے

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Privacy & Cookies Policy