بدعنوانی کا معاشرے میں قابل قبول ہونا سب سے بڑا نقصان ہے، وزیراعظم

وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکمران اشرافیہ، صاحب اقتدار یعنی غریب ممالک کے نواز شریف اور زرداری کو اپنے ملک سے چوری کا پیسہ باہر بھیجنا ہوتا ہے کیوں کہ ملک میں وہ پیسہ نظر آجاتا ہے۔

0 6

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بدعنوانی عام ہونے سے سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس قوم کی اخلاقی قدر ختم ہوجاتی ہے، بدعنوانی قابل قبول ہوجاتی ہے اسے برا تک نہیں سمجھا جاتا اور پھر ‘اگر کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے یا ایک زرداری سب پر بھاری’ جیسا مرحلہ آجاتا ہے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکمران اشرافیہ، صاحب اقتدار یعنی غریب ممالک کے نواز شریف اور زرداری کو اپنے ملک سے چوری کا پیسہ باہر بھیجنا ہوتا ہے کیوں کہ ملک میں وہ پیسہ نظر آجاتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ چنانچہ جب وہ ملک سے پیسہ باہر بھیجتے ہیں تو وہ پہلے ان تمام اداروں کو کمزور کرتے ہیں جنہیں منی لانڈرنگ یا غیر قانونی طور پر رقم کی منتقلی کی نگرانی کرنی چاہیے۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ادارے کمزور کرنے کے ساتھ اس قسم کے منصوبے کے کر آتے ہیں کہ جن کی ملک کو ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اس میں بھاری رشوت ہوتی، میگا پروجیکٹس میں میگا کک بیکس اور پھر یہ رشوت کا پیسہ باہر لے جاتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس طرح لوگوں کو مقروض کردیا جاتا ہے، عوام پر قرضوں کا بوجھ پڑتا ہے جس کی قیمت وہ مہنگائی کے ذریعے ادا کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوسری چیز یہ کہ یہ لوگ جب پیسہ باہر لے کر جاتے ہیں تو اس بدعنوانی کو معاشرے میں قابل قبول بناتے ہیں جس کے لیے میڈیا کو استعمال کرتے ہیں۔

وزیراعظم کے مطابق چونکہ ان لوگوں کے پاس کرپشن کا اتنا زیادہ پیسہ آجاتا ہے پھر وہ اداروں میں بھی چلایا جاتا ہے، ہر ادارے میں لوگوں کو خریدا جاتا ہے، میڈیا ہاؤسز میں وہ پیسہ چلتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس قوم کی اخلاقی قدر ختم ہوجاتی ہے، بدعنوانی قابل قبول ہوجاتی ہے اسے برا تک نہیں سمجھا جاتا اور پھر ‘اگر کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے یا ایک زرداری سب پر بھاری’ جیسا مرحلہ آجاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک آدمی کرپشن کے پیسے سے لوگوں کو خریدتا ہے اور اس کی چالاکی، ذہانت اور سیاسی بصیرت کی بات کی جاتی ہے یعنی سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ بدعنوانی قابل قبول کروادی جاتی ہے جس سے قوم کی اخلاقیات کو نقصان پہنچتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب کسی ملک کی اخلاقیات ختم ہوتی ہے تو وہ ملک انصاف نہیں کرسکتا، جس قوم میں اخلاقی قدر نہیں ہوتی پھر وہاں طاقتور کے لیے ایک قانون آجاتا ہے اور کمزور کے دوسرا قانون ہوتا ہے۔

اسی طرح طاقتور کو این آر اوز دے دیتے اور ڈیل کرتے ہیں جبکہ صرف غریب لوگ جیلوں میں جاتے ہیں، یوں حقیقتاً ایک قوم اس وقت تباہ ہوجاتی ہے جب اس میں انصاف کرنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا مفہوم ہے کہ تم سے پہلے کی اقوام اسی لیے تباہ ہوئیں کہ وہاں امیر اور غریب کے لیے الگ الگ قانون تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ جو پیسہ غریب ممالک سے باہر جاتا ہے یہ جاتا ہی اس لیے ہے کہ تمام چیکس اینڈ بیلنسز ختم کردیے جاتے ہیں، قوم کی اخلاقی قدر ختم کردی جاتی ہے، جس کے بعد طاقتور کے ساتھ کھڑے ہو کر ان کے ساتھ سمجھوتے کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا دوسری جنگ عظیم میں جرمنی اور جاپان تباہ ہوگئے تھے لیکن وہ پھر سے اٹھ کھڑے ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ الیکشن میں سب کو پتا ہے، کھلے عام پیسہ چلا ہے جب اسے قوم قبول کرلیتی ہے تو سب سے بڑی تباہی اس وقت آتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ٹیکس ہیونز کہلائے جانے والے ممالک میں غریب ملکوں سے چوری شدہ 7 ہزار ارب ڈالر کی رقم موجود ہے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے تشکیل دیے گئے پینل ‘فنانشل اکاؤنٹیبیلیٹی ٹرانسپیرنسی اینڈ انٹیگریٹی’ (فیکٹ آئی) کی رپورٹ کے مطابق ہر سال ایک ہزار ارب ڈالر غیر قانونی طور غریب ممالک سے منی لانڈرنگ کے ذریعے امیر ممالک اور ٹیکس ہیونز کے آفشور اکاؤنٹس میں جاتا ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Privacy & Cookies Policy