سینیٹ انتخابات دیکھیں تو ملک کے مسائل کی وجہ سمجھ آجاتی ہے، وزیر اعظم

وزیر اعظم نے کہا کہ سینیٹ کے انتخابات جس طرح ہوئے ہیں انہی سے ملک کے مسائل کی وجہ سمجھ آجاتی ہے، خیبر پختونخوا میں ہماری پہلی حکومت میں مجھے پتہ چلا کہ سینیٹ کے انتخابات میں پیسہ چلتا ہے اور یہ سلسلہ 30 سے 40 سال سے چل رہا ہے۔

0 5

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

ایوان بالا کے انتخابات میں اسلام آباد کی جنرل نشست پر اپ سیٹ شکست کے بعد وزیر اعظم عمران خان قوم سے خطاب کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ سینیٹ کے انتخابات جس طرح ہوئے ہیں انہی سے ملک کے مسائل کی وجہ سمجھ آجاتی ہے، خیبر پختونخوا میں ہماری پہلی حکومت میں مجھے پتہ چلا کہ سینیٹ کے انتخابات میں پیسہ چلتا ہے اور یہ سلسلہ 30 سے 40 سال سے چل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے انتخابات سے ملک قیادت آتی ہے، جب ایک سینیٹر رشوت دے کر سینیٹر بن رہا ہے اور ارکان پارلیمنٹ پیسے لے کر اپنے ضمیر بیچ رہے ہیں تب سے میں نے اوپن بیلٹ کی مہم چلانا شروع کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پارلیمنٹ میں بھی اوپن بیلٹ کا بل پیش کیا، ہم نے اوپن بیلٹ کے لیے بل پیش کیا تو یہ تمام جماعتیں خفیہ بیلٹ پر اکٹھی ہوئیں، جس کے بعد ہم معاملے کو سپریم کورٹ لے کر گئے، وہاں الیکشن کمیشن نے اس کی مخالفت کی اور عدالت عظمیٰ نے کہا کہ صاف و شفاف انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔

عمران خان نے کہا کہ جب سے ہماری حکومت آئی ہے تب سے پرانی جماعتوں کی کرپٹ قیادت کو خوف آگیا کہ چونکہ میں نے کرپشن کے خلاف ہی مہم چلائی ہے تو کہیں یہ ہم پر ہاتھ نہ ڈال دیں، میں کہہ چکا تھا کہ جب ان پر ہاتھ پڑے گا تو یہ سب اکٹھے ہوجائیں گے اور ایسا ہی ہوا، انہوں نے مجھ پر ہر طرح سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ملک کو فیٹف کی بلیک لسٹ میں ڈلوایا، جب ہم نے گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے قانون سازی کی کوشش کی تو انہوں نے این آر او مانگتے ہوئے اپنے نکات پیش کر دیے اور بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے پوری کوشش کی کہ سینیٹ انتخابات کے لیے ہمارے اراکین توڑیں اور ہماری اکثریت کو ختم کریں، اکثریت ختم کرنا عدم اعتماد کا ووٹ نہیں ہے، ان کا مقصد تھا کہ اعتماد کے ووٹ کی تلوار مجھ پر لٹکائیں اور میں این آر او دوں

ریڈیو پاکستان کے مطابق اپنے خطاب میں وزیراعظم کی جانب سے قوم کو ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر اعتماد میں لیے جانے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ 3 مارچ کو ایوان بالا کی 37 نشستوں میں سب سے زیادہ توجہ کا مرکز رہنے والی نشست اسلام آباد کی جنرل نشست تھی جس پر پاکستان تحریک انصاف و حکمران اتحاد کے اُمیدوار وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ تھے اور ان کے مدمقابل اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے مشترکہ امیدوار سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی تھے۔

حکمران جماعت کو یقین تھا کہ وہ قومی اسمبلی جو اس نشست کے لیے الیکٹورل کالج تھی وہاں اکثریت کی وجہ سے یہ نشست جیت لے گی تاہم نتائج اس کے برعکس آئے اور اپوزیشن امیدوار یوسف رضا گیلانی 169 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ حفیظ شیخ 164 ووٹ حاصل کرسکے اور 7 ووٹ مسترد ہوئے۔

دلچسپ امر یہ رہا کہ اسلام آباد سے ہی خواتین کی نشست پر پاکستان تحریک انصاف کی رہنما 174 ووٹ لے کر کامیاب ہوئیں جبکہ اپوزیشن کی امیدوار کو شکست دیکھنا پڑی۔

اس اپ سیٹ شکست کے بعد جہاں حکومت کی جانب سے اعتراض اٹھایا گیا وہیں اپوزیشن نے اس پر فتح منائی اور وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔

جس کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی و دیگر وزرا نے ایک پریس بریفنگ دی اور بتایا کہ وزیراعظم نے ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Privacy & Cookies Policy