آن لائن ہراساں کرنے کی شکایات میں 70فیصد اضافہ، رپورٹ

اس رپورٹ کے مطابق مردانگی کے اندرونی کردار کی وجہ سے مرد اپنے کنبے یا ساتھیوں کے ساتھ نفسیاتی امور کے بارے میں بات نہیں کرتے جو جذبات سے نمٹنے کے وقت مدد یا معاونت کی درخواست کے تصور سے متصادم ہیں۔

0 4

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اسلام آباد: 2020 کے دوران ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن (ڈی آر ایف) کی سائبر ہراساں کرنے والی ہیلپ لائن پر شکایات میں 70 فیصد سے زیادہ اضافے کی اطلاع ملی ہے جس میں لاک ڈاؤن کے دوران آن لائن بلیک میلنگ، بھتہ خوری اور ہیکنگ سے متعلق بہت سارے معاملات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

پاک ا یشیا کی رپورٹ کے مطابق بدھ کو جاری کی گئی ڈی آر ایف سائبر ہراساں کرنے کی ہیلپ لائن رپورٹ 2020 میں کہا گیا کہ ہیلپ لائن پر آن لائن ہراساں کرنے کے 3ہزار 298 مقدمات درج کیے گئے تھے، خواتین کی طرف سے تقریباً 66فیصد شکایات درج کرائی گئیں جبکہ مردوں کے ذریعہ 34فیصد شکایات درج کی گئیں، 1فیصد شکایات مخنث برادری اور مذہبی اقلیتوں کی طرف سے کی گئیں۔

اس رپورٹ کے مطابق مردانگی کے اندرونی کردار کی وجہ سے مرد اپنے کنبے یا ساتھیوں کے ساتھ نفسیاتی امور کے بارے میں بات نہیں کرتے جو جذبات سے نمٹنے کے وقت مدد یا معاونت کی درخواست کے تصور سے متصادم ہیں۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس طرح مردوں کے اپنے حمایتی حلقوں سے باہر مدد کے لیے پہنچنے کا زیادہ امکان ہے، ہیلپ لائن کے سپورٹ اسٹاف کو خاص طور پر تربیت فی گئی ہے تاکہ وہ کال کرنے والوں کو نفسیاتی مدد کی پیش کش کر سکیں۔

پسماندہ گروہوں کے 21 شکایات کنندہ کو آن لائن خطرے کا سامنا کرنا پڑا اور ان میں سے کچھ فون کرنے والوں کو ذاتی طور پر ذاتی وجوہات کی بنا پر نشانہ بنایا گیا جبکہ دیگر کو آن لائن اور آف لائن صرف ان کی جنس یا جنسییت کے خلاف تعصب کی بنا پر ہراساں کیا گیا جبکہ ان میں سے کچھ نفرت انگیز جرائم کا نشانہ بھی بنے۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایسے معاملات کی اطلاع دینا مشکل محسوس ہوتا ہے کیونکہ ان اداروں میں حساسیت کا فقدان ہے۔

پنجاب سے تقریباً 52 فیصد شکایات درج کی گئیں، اس کے بعد سندھ سے 11 فیصد، خیبر پختونخوا سے 4 فیصد، بلوچستان سے 2 فیصد، کشمیر سے 1 فیصد اور اسلام آباد سے 4 فیصد شکایات درج کی گئیں۔

ڈی آر ایف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نگہت داد نے کہا کہ 2020 ناصرف لاک ڈاؤن کی وجہ سے بلکہ آن لائن تشدد اور ہراساں کرنے کے معاملات میں اضافے کی وجہ سے ہیلپ لائن کے لیے ایک انتہائی چیلنج کا حامل سال ثابت ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ تاہم ہم نے کام جاری رکھنے کے لیے نئے اور جدید طریقے ڈھونڈ لیے، خاص کر جب ہمیں یہ احساس ہوا کہ جیسے جیسے لاک ڈاؤن ڈاؤن بڑھتا گیا، اس کے ساتھ ساتھ سائبر ہراساں کے واقعات بھی بڑھتے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ جن لوگوں نے شکایات درج کیں انہوں نے بات کرتے ہوئے بہادری کا مظاہرہ کیا اور امید ہے کہ ان کی کوششیں پاکستان میں آن لائن ہراساں کرنے کے عمل کو توڑنے میں معاون ثابت ہوں گی، رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس میں سے 33 فیصد مقدمات بلیک میلنگ اور بھتہ خوری سے متعلق ہیں جس میں اکثر فرد کی ذاتی حیثیت کا استعمال ہوتا ہے، دھمکیوں اور مطالبات کے لیے معلومات، تصاویر یا نفسیاتی ہیرا پھیری کا استعمال کیا جاتا ہے۔

اس تعداد کے بعد معاشی دھوکا دہی کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا اور واٹس ایپ اکاؤنٹس کی ہیکنگ سے متعلق 23 فیصد معاملات ہوئے، ڈی آر ایف پچھلے 4سالوں سے اس ہیلپ لائن کو چلا رہا ہے جو اپنے فون کرنے والوں کو قانونی امداد، ڈیجیٹل سیفٹی امداد اور دماغی صحت سے متعلق صلاح مشورے فراہم کرتا ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Comment moderation is enabled. Your comment may take some time to appear.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Privacy & Cookies Policy