fbpx
تاریخ مزید مطالعہ

افغان صدر حفیظ اللہ امین کی ہلاکت کو 40 سال بیت گئے: صدر کو ’سوپ میں زہر پلایا گیا‘

ہماری ٹیم کا حصہ بنیں

اگر آپ پاک اشیا ویب ٹی-وی کے رپورٹر بن کر ویب چینل پر آنا چاہتے ہیں تو ابھی ہماری ٹیم کا حصہ بنیں اور معمولی سی فیس ادا کر کے اپنے کام کا آغاز کریں




27 دسمبر 1979 کو سوویت یونین کی افواج نے افغانستان پر زمینی اور فضائی راستوں سے حملہ کیا اور اسی دن کابل میں قصر تاج بیگ میں موجود اُس وقت کے افغان صدر حفیظ اللہ امین کو زہر دینے کے بعد قتل کیا گیا۔

بعض مورخین کے مطابق سوویت افواج 24 دسمبر کی رات کو افغانستان میں داخل ہو چکی تھیں، لیکن اُنھوں نے تاج بیگ پر حملہ 27 دسمبر کی شام کو کیا۔

یہ وہ وقت تھا جب افغانستان میں صدر محمد داؤد خان کی حکومت کا تختہ اُلٹے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا تھا۔

انقلاب ثور (یا اپریل کا انقلاب) کے بعد بننے والی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ’خلق‘ دھڑے کی حکومت تھی، جس کے پہلے صدر نور محمد ترہ کئی کو اُنہی کی پارٹی کے حفیظ اللہ امین نے مارا اور پھر خود اقتدار پر قابض ہوئے تھے۔

اُس وقت افغانستان کے وزیر داخلہ فقیر محمد فقیر تھے۔ وہ آج بھی سمجھتے ہیں کہ افغان صدر حفیظ اللہ امین کی ہلاکت زہر سے نہیں ہوئی، بلکہ روسی فوج نے اُنھیں اپنے سفارت خانے یا پھر روس لے گئے اور بعد میں ان کو ہلاک کیا گیا۔ بعض مورخین کے مطابق حفیظ اللہ امین کو ان کے اہلِ خانہ کے سامنے روسی فوجیوں نے گولیاں مار کر ہلاک کیا تھا۔

فقیر محمد فقیر کہتے ہیں: ’حفیظ اللہ امین سوپ بڑے شوق سے پیتے تھے اور اُنھیں زہر بھی سوپ میں ملا کر دیا گیا تھا۔‘

Taj Baig Palace, West Kabul - PAKasia
مغربی کابل میں تاج بیگ پیلس جہاں اس وقت کے صدر حفیظ اللہ کا قتل ہوا

فقیر محمد فقیر کے مطابق اُس دن سہ پہر تین بجے اُنھوں نے افغان صدر کی کچھ قبائلی نوابوں کے ساتھ ملاقات طے کی تھی، لیکن جب وہ قصر تاج بیگ گئے تو اُنھیں بتایا گیا کہ یہ ملاقات نہیں ہوسکتی کیونکہ صدر بیمار ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فقیر محمد بتاتے ہیں: ’میں جونہی تیسری منزل میں صدر کے بیڈروم میں گیا تو میں نے دیکھا کہ صدر کے ناک میں پائپ لگے ہوئے ہیں اور دو روسی ڈاکٹر وہاں صدر کے معدے کی صفائی میں مصروف ہیں۔ جب اُن کے معدے کو واش کیا گیا تو وہ اُنھیں واش روم لیکر گئے، جہاں دس سے 20 منٹس تک اُنھیں ٹھنڈے پانی سے نہلایا گیا۔ تب اُنھیں ہوش آیا۔‘

فقیر محمد بتاتے ہیں کہ افغان صدر حفیط اللہ امین نے اُنھیں مخاطب کر کے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ زہر کی وجہ سے اُن کی دماغ پر کوئی اثر ہوا ہو، اسی لیے اُن کی جگہ وہ سیکریٹریٹ میں بیٹھ جائیں۔

’میں جب نیچے آفس میں پہنچا تو چیف آف آرمی سٹاف یعقوب خان نے مجھے وزارتِ دفاع میں کھانے کے لیے بلایا۔ میں وزارتِ دفاع کی دوسری منزل پر ان سے ملنے گیا تو وہاں چھ یا سات روسی بھی موجود تھے۔ میرا تعارف کروایا گیا اور میں اُن سے ہاتھ ملائے۔ اُسی وقت فائرنگ شروع ہوئی۔‘

Soviet War - PAKasia
سوویت یونین کی ساتھ ہونے والی جنگ نے افغانستان پر کئی زخم چھوڑے ہیں

سابق افغان وزیر داخلہ کے مطابق فائرنگ اتنی زیادہ تھی کہ وہ کچھ نہیں سُن سکتے تھے۔

بعض مورخین کے مطابق تاج بیگ محل پر روسی افواج کا آپریشن شام سات بجکر پندرہ منٹ پر شروع ہوا اور اگلے دن کی صبح تک مکمل ہوا، جس میں افغان صدر حفیظ اللہ امین مارے گئے اور اہم سرکاری عمارتوں پر روسی افواج نے قبضہ کر لیا۔

’سوویت یونین ہمارا دوست تھا، دشمن نہیں‘

فقیر محمد فقیر کے مطابق اُنھوں نے صدر حفیظ اللہ امین سے کبھی بھی سوویت یونین کے خلاف کوئی بھی بات نہیں سُنی تھی اور نہ ہی اُن کی حکومت سوویت یونین کے خلاف تھی۔

وہ کہتے ہیں: ’روسی افواج نے ہمیں بتایا کہ آپ کے لیے اسلحہ لارہے ہیں اور اسی بہانے اُن کی افواج فضائی اور زمینی راستوں سے افغانستان میں داخل ہوئیں۔‘

’روسیوں پر ہمارا اتنا اعتماد تھا کہ اگر وہ مجھے مارتے بھی تو میں یہ تسلیم نہیں کرتا کہ یہ روسی مجھے مار رہا ہے۔‘

Afghani - PAKasia
ببرک کرمل نے افغان ریڈیو پر حفیظ اللہ کے دور کو فاشسٹ دور قرار دیا اور لوگوں کو ان کی حکومت کے تخت الٹنے پر مبارکباد دی

افغانستان پر حملے کے بعد سوویت یونین کی فوجیں لگ بھگ نو سال افغانستان میں رہیں جہاں مجاہدین اُن کے خلاف غیر روایتی جنگ لڑتے رہے۔

صدر حفیظ اللہ امین کی ہلاکت کے بعد سوویت یونین کی حمایت سے اُس وقت کے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ’پرچم‘ دھڑے کے ببرک کارمل کو اقتدار سونپا گیا اور پھر افغان حکومت اور سوویت یونین ایک طرف ہوگئیں جبکہ مجاہدین اُن کے خلاف غیر روایتی جنگ لڑتے رہے۔

امریکہ، سعودی عرب، پاکستان اور کئی دیگر مغربی ممالک آخری دم تک افغان مجاہدین کی پشت پناہی کرتے رہی۔