عام طور پر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)

یوزر جینریٹڈ کانٹینٹ: عام سوال

1۔یوزر جینریٹڈ کانٹینٹ سے پاک ایشیاء کی کیا مراد ہے؟

پچھلے کچھ سالوں میں ڈگیٹل ویڈیو، تصاویر، ایس ایم ایس، بلاگز، آڈیو کلپس اور ای میلز جیسی تکنیکی پیش رفتوں کی وجہ سے قارئین کے ذریعے بھیجے جانے والا مواد اور اس کے استعمال میں بہت تیزی آئی ہے۔

یو جی سی سے مراد ایسا کوئی بھی مواد ہے جو ہمارے پڑھنے یا سننے والوں نے بنایا اور پاک ایشیاء ویب ٹی وی کو براہ راست یا کسی دوسرے ذریعے سے بھیجا ہے۔

2۔ میں پاک ایشیاء ویب ٹی وی کو اپنا مواد استعمال کرنے کے کون سے حقوق دے رہا ہوں؟

آپ پاک ایشیاء ویب ٹی وی کو اپنا مواد استعمال کرنے کی لائسیسنس یا اجازت دے رہے ہیں، تاہم یہ مواد اب بھی آپ کا ہے۔ اس کے علاوہ اگر آپ چاہیں تو اس مواد کا جیسے چاہیں استعمال کر سکتے ہیں اور اسے کسی کے بھی ساتھ شئیر کر سکتے ہیں۔

پاک ایشیاء ویب ٹی وی کے استعمال کے قوائد کے تحت پاک ایشیاء ویب ٹی وی کے پاس قارئین کی طرف سے بھیجے جانے والے مواد کو بنا بنا کسی رقم کی ادایگی کے برطانیہ اور دنیا کے دوسرے حصوں میں استعمال کرنے کی اجازت ہے۔

بظاہر یہ کافی وسیع اختیارات معلوم ہوتے ہیں، تاہم پاک ایشیاء ویب ٹی وی دنیا بھر میں کئی طرح کی سروسز مہیہ کرتا ہے اور یہ پاک ایشیاء ویب ٹی وی کے طے شدہ قوائد ہیں جن کا اطلاق قارئین کی طرف سے بھیجے جانے والے مواد پر ہوتا ہے۔ آپ کی طرف سے بھیجے جانے والے مواد کا استعمال کرنے کے لیے (مثال کے طور پر پاک ایشیاء ویب ٹی وی اردو ڈاٹ کام پر تصویر یا ویڈیو فلم شائع کرنے کے لیے) پاک ایشیاء ویب ٹی وی کے پاس ان اختیارات کا ہونا ضروری ہے۔

ان قوائد کے تحت پاک ایشیاء ویب ٹی وی کے پاس کسی تیسری بھروسہ مند پارٹی، مثال کے طور پر بین الاقوامی میڈیا ادارے یا مقامی انتظامیہ، کو یہ مواد دینے کے اختیارات بھی موجود ہیں۔ اگر پاک ایشیاء ویب ٹی وی ایسا کرتا ہے تو وہ پوری کوشش کرے گا کہ آپ کی طرف سے بھیجے گئے مواد کو کسی بھی صورت میں بدلا نہ جائے اور وہ مقامی میڈیا اور اخباروں تک نہ پہنچے۔ آپ کی طرف سے بھیجے جانے والے مواد کو شائع کرنے سے پہلے پاک ایشیاء ویب ٹی وی پوری کوشش کرے گا کہ آپ کو اس کے استعمال کے بارے میں تفصیلات فراہم کی جائیں۔

ہو سکتا ہے کہ قارئین کی طرف سے بھیجا جانے والا مواد دیگر بین الاقوامی میڈیا اداروں، جن کے لیے پاک ایشیاء ویب ٹی وی مواد فراہم کرتا ہے، پر دکھایا یا شائع کیا جائے۔ اس کے علاوہ پاک ایشیاء ویب ٹی وی ویب سائٹ کے بین الاقوامی قارئین اس سائٹ پر اشتہارات بھی دیکھ سکتے ہیں۔ تاہم پاک ایشیاء ویب ٹی وی قارئین کی طرف سے بھیجے جانے والے کسی بھی قسم کے مواد سے کوئی منافع نہیں کماتا۔

3۔ اگر میں اپنا کام پاک ایشیاء ویب ٹی وی کو بھیجوں، تو میرے اس پر کیا اختیارات باقی رہ جاتے ہیں؟

اگر آپ پاک ایشیاء ویب ٹی وی کو کسی بھی قسم کا مواد بھیجتے ہیں (اس میں تحریر، تصاویر، گرافِکس، ویڈیو اور آڈیو شامل ہے)، اس مواد کا ’کاپی رائٹ‘ آپ ہی کے پاس رہتا ہے۔ آپ پاک ایشیاء ویب ٹی وی کو یہ مواد استعمال اور ممکنہ طور پر آگے تقسیم کرنے کی اجازت دے رہے ہیں، اس حوالے سے آپ اس مواد کے ساتھ کو چاہے کر سکتے ہیں، جسے چاہے دے سکتے ہیں۔

4۔ پاک ایشیاء ویب ٹی وی کو مواد بھیجتے وقت مجھے کیا کیا کرنا ہوگا؟

پاک ایشیاء ویب ٹی وی کو مواد بھیجنے سے پہلے اس بات کا یقین کر لیں کہ یہ مواد آپ کا ہے اور اگر اس میں دوسروں کا کام شامل ہے (مثلاً موسوقی، تصاویر یا ویڈیو) تو آپ پر لازم ہے کہ آپ کے پاس اس کو استعمال کرنے کے حقوق ہوں۔

اگر آپ کے مواد میں واضح طور پر کسی اور کی نشاندہی کی گئی ہے تو پاک ایشیاء ویب ٹی وی کے اتعمال کے لیے آپ کو ان کی رضامندی حاصل کرنی ہوگی۔ اگر آپ کے مواد میں سولہ سال سے کم عمر کے بچوں کی واضح طور پر نشاندہی کی گئی ہو تو آپ کو ان کے والدین کی رضامندی حاصل کرنا ہوگی۔

پاک ایشیاء ویب ٹی وی قوائد کے مطابق آپ ایسا مواد نہیں بھیج سکتے جس سے کسی کی بدنام ہو، کسے کے جذبات مجروح ہوں، یا جو کسی بھی طرح سے غیر قانونی ہو۔ غیر مناسب مواد شائع نہیں کیا جائے گا۔ اگر آپ اس بارے میں مطمئن نہیں، تو اپنا مواد پاک ایشیاء ویب ٹی وی کو نہ بھیجیں۔

5۔ اگر پاک ایشیاء ویب ٹی وی نے میرے مواد کا استعمال کیا تو کیا وہ اسے میرے نام کے ساتھ شائع کرے گا؟

پاک ایشیاء ویب ٹی وی کوشش کرے گا کہ پماری پڑھنے اور سننے والوں کی طرف سے بھیجے جانے والے مواد کو جب بھی پاک ایشیاء ویب ٹی وی کی کسی بھی سروس میں استعمال کیا جائے تو بھیجنے والے کو کریڈٹ دیا جائے۔ تاہم تکنیکی مشکلات کی وجہ سے یہ ہمیشہ ممکن نہیں ہوپتا۔ مثلاً کسی ٹی وی پروگرام کے دوران دکھائی گئی تصویر کے کھینچنے والے کا نام دینا ممکن نہیں ہوتا۔

اگر آپ ایسا مواد پاک ایشیاء ویب ٹی وی کو بھیجتہ ہیں جو فلِکر، مائی سپیس یا یو ٹیوب جیسے بیرونی سائٹس پر موجود ہے تو پاک ایشیاء ویب ٹی وی کوشش کرے گا کہ جہاں ممکن ہو وہاں ان سائٹس کو لنک کیا جائے۔

اگر آپ کسی بھی وجہ کی بنا پر چاہتے ہیں کہ پاک ایشیاء ویب ٹی وی آپ کے مواد کے ساتھ آپ کا نام نہ لے تو براہ مہربانی مواد بھیجتے وقت ہمیں اس بارے میں بتا دیں۔

6۔ کیا پاک ایشیاء ویب ٹی وی میری طرف سے بھیجے گئے مواد میں کسی بھی طرح کی ترمیم کرے گا؟

عمومی طور پر پاک ایشیاء ویب ٹی وی قارئین کی طرف سے بھیجے جانے مواد میں کسی طرح کی ترمیم نہیں کرتا۔ تاہم ممکن ہے کہ تکنیکی مشکلات کی وجہ سے پاک ایشیاء ویب ٹی وی کو بھیجے گئے مواد کو استعمال کرنے کے لیے اس میں تھوڑی بہت ترمیم کرنا پڑے، مثلاً بھیجی گئی تصاویر کو چھوٹا کرنا وغیرہ۔ پاک ایشیاء ویب ٹی وی کوشش کرے گا کہ آپ کے مواد میں آپ کی اجازت کے بغیر بڑی نوعیت کی اڈیٹوریل ترمیم نہ کرے۔

اگر پاک ایشیاء ویب ٹی وی آپ کے مواد کو کسی تیسرے ادارے کو دیتا ہے، تو اس صورت میں بھی پاک ایشیاء ویب ٹی وی کی کوشش ہوگی کہ وہ آپ کے مواد میں کوئی ترمیم نہ کریں۔

7۔ پاک ایشیاء ویب ٹی وی میری طرف سے بھیجے گئے مواد کو کب تک اپنے پاس رکھے گا؟

پاک ایشیاء ویب ٹی وی آپ کے مواد کو عموماً اس وقت تک اپنے پاس رکھے گا جب تک وہ اس مقصد کے لیے درکار ہو گا جس کے لیے وہ مواد بھیجا گیا تھا۔

عوامی فنڈ سے چلنے والے ادارہ ہونے کے ناتے پاک ایشیاء ویب ٹی وی کی ذمہ داری ہے کہ وہ تاریخ کے لیے تصویری و تحریری خاکے جمع کرے جن میں قارئین کی جانب سے بھیجا گیا مواد بھی شامل ہو سکتا ہے۔ اس لیے ممکن ہے کہ آپ کی جانب سے پاک ایشیاء ویب ٹی وی کو بھیجا گیا مواد کچھ عرصے کے لیے یا پھر پاک ایشیاء ویب ٹی وی آرکائیو کے استعمال کے حوالے سےغیر معینہ مدت کے لیے رکھ لیا جائے۔

8۔ میرے مواد کے سلسلے میں پاک ایشیاء ویب ٹی وی مجھ سے کب اور کیوں رابطہ کرے گا؟

ہو سکتا ہے کہ آپ کی طرف سے بھیجے گئے مواد کی تصدتق کرنے یا آپ کے کام کے بارے میں مزید تفصیلات اور وضاحت کے لیے پاک ایشیاء ویب ٹی وی آپ سے رابتہ کرے۔ اگر پاک ایشیاء ویب ٹی وی آپ سے رابتہ کرنے میں ناکام ہوتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ آپ کی طرف سے بھیجے گئے مواد کو استعمال نہ کیا جائے۔ اگر کسی بھی وجہ سے پاک ایشیاء ویب ٹی وی آپ کے مواد کو استعمال نہیں کرتا تو ادارہ کوشش کرے گا کہ آپ کو اس حوالے سے مطلع کیا جا سکے۔

کبھی کبھی پاک ایشیاء ویب ٹی وی کسی پروجیکٹ کے سلسلے میں آپ سے رابطہ کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ پاک ایشیاء ویب ٹی وی آپ کی طرف سے بھیجح گئے مواد کا استعمال کسی دوسرے پروجیکٹ کے لیے کرنے سے پہلے بھی آپ سے رابطہ کر سکتا ہے۔ تاہم اگر آپ چاہیں تو اس سے انکار کر سکتے ہیں۔

پاک ایشیاء ویب ٹی وی کی طرف سے رابطے کے بارے میں مزید معلومات کے لیے پاک ایشیاء ویب ٹی وی کی پرائویسی پالیسی دیکھیے۔

9۔ کیا پاک ایشیاء ویب ٹی وی قارئین کی طرف سے بھیجے گئے مواد یا یو جی سی کے لیے پیسے دیتا ہے؟

نہیں پاک ایشیاء ویب ٹی وی کچھ غیر معمولی حالات کو چھوڑ کر، عمومی طور پر یو جی سی کے لیے پیسے نہیں دیتا۔

10۔ کیا پاک ایشیاء ویب ٹی وی میرے مواد کو استعمال کرے گی؟

پاک ایشیاء ویب ٹی وی کو ہر روز اپنے قارئین کی طرف سے بڑی تعداد میں مختلف قسم کا مواد موصول ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے پاک ایشیاء ویب ٹی وی یہ تمام مواد استعمال نہیں کر سکتی۔ اس لیے ہم اس مواد میں سے چنندہ مواد ہی پاک ایشیاء ویب ٹی وی کی سائٹس پر نشر یا شائع کرتے ہیں اور جہاں ممکن ہوتا ہے وہاں آنے والا تمام مواد شائع کر دیا جاتا ہے۔

11۔ اگر پاک ایشیاء ویب ٹی وی میری طرف سے بھیجے گئے مواد کو کسی دوسرے حوالے سے استعمال کرنا چاہے تو کیا ہوگا؟

پاک ایشیاء ویب ٹی وی آپ کے بھیجے گئے مواد کو صرف انہی مخصوص اور ان سے متعلقہ مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی مخلصانہ کوشش کرے گا۔ جس کے لیے وہ بھیجا گیا ہے۔ مثلاً اگر آپ نے ایک تصویر کسی مقابلے کے لیے بھیجی ہے تو پاک ایشیاء ویب ٹی وی اس تصویر کو پاک ایشیاء ویب ٹی وی یا دیگر پاک ایشیاء ویب ٹی وی سروسز پر اس مقامبلے کی تشہیر کے لیے دکھا سکتا ہے۔ اس کے بعد اگر پاک ایشیاء ویب ٹی وی اس تصویر کو اس متعلقہ مقابلے کے علاوہ اپنی ویب سائٹس پر یا کسی عوامی نمائش میں پیش کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو ہم اس حوالے سے آپ سے علیحدہ سے اجازت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

اگر بعد ازاں پاک ایشیاء ویب ٹی وی آپ کے مواود کو کسی ایسے طریقے سے استعمال کرنا چاہے کہ اس میں پاک ایشیاء ویب ٹی وی کی جانب سے باقاعدہ کمیشن کرنے کی ضرورت پڑے تو یہی طریقہ آپ کے مواد کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا اور ہم اس حوالے سے آپ سے رابطہ کریں گے۔

12۔ کیا مواد بھیجنے کے تمام طریقوں پر بنیادی قواعد لاگو ہوتے ہیں؟ مثلاً اگر میں اپنے موبائل یا بذریعہ ڈاک کچھ بھیجوں تو کونسے قواعد لاگو ہوں گے؟

اس چیز سے قطع نظر کہ مواد کیسے بھیجا گیا ہے، قارئین کے مواد کے بھیجے جانے، اس کی قبولیت اور استعمال کے بیشتر معاملات پر پر پاک ایشیاء ویب ٹی وی کے ہی بنیادی قواعد ہی لاگو ہوں گے۔ کچھ مخصوص معاملات میں مخصوص قواعد لاگو ہوث= سکتے ہیں تاہم ایسے قواعد کے بارے میں وضاحت متعلقہ ویب صفحات یا دیگر متعلقہ ذرائع کی مدد سے کی جائے گی۔

پاک ایشیاء ویب ٹی وی کو کسی قسم کا مواد بھیجنے سے قبل تسلی کر لیں کہ آپ متعلقہ قواعد سے آگاہی رکھتے ہیں۔

13۔ اگر میں یو ٹیوب یا فلکر پر پاک ایشیاء ویب ٹی وی کے علاوہ دیگر ذرائع مثلاً مائی سپیس یا کسی سوہنی دھرتی میڈیا گروپ کی مدد سے مواد شیئر کروں تو کیا ہو گا؟

پاک ایشیاء ویب ٹی وی کے علاوہ کسی دیگر ویب سائٹ پر بھیجے جانے مواد پر اس ویب سائٹ کے قواعد لاگو اور پرائیویسی پالیسی ہو گی اور ممکن ہے کہ وہ پالیسی اور قواعد پاک ایشیاء ویب ٹی وی سے مختلف ہوں اس لیے مواد بھیجنے سے قبل احتیاط کریں۔ مثلاً کچھ ویب سائٹس آپ کو یہ موقع دیتی ہیں کہ آپ اس مواد کے جملہ حقوق اس ویب سائٹ کے مالک کو سونپ دیں۔ کچھ بڑی یو جی سی ویب سائٹس امریکہ سے تعلق رکھتی ہیں اور آپ کی ذاتی معلومات یورپی یونین کے دائرۂ کار سے باہر وہاں محفوظ کی جا سکتی ہیں جہاں کا قانون مختلف ہے۔

اگر آپ اپنا مواد دیگر کسی ویب سائٹ پر کسی سوہنی دھرتی گروپ سے شیئر کرتے ہیں یا ہمیں اپنے کسی ایسے مواد کا لنک بھیجتے ہیں کو کسی دیگر جگہ موجود ہے تو آپ پاک ایشیاء ویب ٹی وی کو یہ حق دے رہے ہیں کہ وہ اپنے قواعد کے مطابق اس مواد کو استعمال کر سکتی ہے۔

14۔ اگر میں پاک ایشیاء ویب ٹی وی پر کوئی اشتعال انگیز یا غیر مناسب مواد دیکھوں تو کیا کر سکتا ہوں؟

اگر آپ پاک ایشیاء ویب ٹی وی پر قارئین کی جانب سے بھیجا گیا ایسا مواد دیکھیں جو آپ کی نظر میں کسی بھی طریقے سے اشتعال انگیز، توہین آمیز، غیر قانونی اور غیر مناسب ہے یا کسی کے جملہ حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے تو بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ ہمیں فیڈ بیک فارم کی مدد سے مطلع کریں۔

اگر کسی بھی وجہ سے آپ کے پاس بذریعہ ویب سائٹ ہمیں مطلع کرنے کے ذرائع میسر نہیں یا پاک ایشیاء ویب ٹی وی نے بروقت جواب نہیں دیا ہے تو’شکایتی لنک‘ کی مدد سے ہم سے رابطہ کریں۔’شکایتی لنک‘ پاک ایشیاء ویب ٹی وی کے ہر صفحہ پر موجود ہے تاہم برائِے مہربانی اس لنک کا غلط استعمال نہ کریں۔

اگر آپ کے خیال میں کسی دیگر ویب سائٹ پر موجود پاک ایشیاء ویب ٹی وی میں قارئین کا بھیجا گیا مواد اشتعال انگیز ہے تو اس ویب سائٹ پر موجود شکایتی ذرائع استعمال کریں یا پاک ایشیاء ویب ٹی وی ایڈمنسٹریٹر کو مطلع کریں۔