fbpx
پاکستان تحقیق و تجزئیات سیاست مزید

‘سب جماعتوں کا ابو ایک ہی ہے’

ہماری ٹیم کا حصہ بنیں

اگر آپ پاک اشیا ویب ٹی-وی کے رپورٹر بن کر ویب چینل پر آنا چاہتے ہیں تو ابھی ہماری ٹیم کا حصہ بنیں اور معمولی سی فیس ادا کر کے اپنے کام کا آغاز کریں




واشنگٹن — سوشل میڈیا نے عوام کو آواز اٹھانے کی جرات دی ہے اس لیے سیاسی رہنماؤں کی غیر مشروط حمایت کرنے والے بھی ان کے بعض فیصلوں سے اختلاف کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ایسا ایک فیصلہ فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے سیاسی جماعتوں کی حمایت کا ہے۔ پاکستان میں سوشل میڈیا پر ایک نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ صحافیوں، تجزیہ کاروں اور سیاسی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد بڑی سیاسی جماعتوں کے فیصلے سے خفا ہے۔

عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان نے تبصرہ کیا، ان لوگوں کے ہاتھوں جمہوریت کی موت، جن کے بارے میں ہم سمجھتے تھے کہ وہ ہماری قسمت بدل سکتے ہیں۔ کھڑے ہوں اور اپنی نمائندگی خود کریں۔ پارلیمان میں ہر شخص صرف اپنے مفاد کا اسیر ہے۔

سیاسی تجزیہ کار مرتضیٰ سولنگی نے لکھا، آج میرے ملک کے سیاست دانوں نے بیس کروڑ پاکستانیوں کی جمہوری امیدوں کا قتل کیا ہے۔ اب شاہراہ دستور پر واقع عمارت کی کوئی وقعت اور عزت نہیں رہی۔

اسلام آباد کے رپورٹر اعزاز سید نے یک سطری طنز کیا، ثابت ہوا کہ سب جماعتوں کا ابو ایک ہی ہے۔ اینکر پرسن ضرار کھوڑو نے لکھا، ووٹ کو ایکسٹینشن دو۔ تجزیہ کار مطیع اللہ جان نے کہا، ووٹ کو عزت دو سے شروع ہونے والا سفر چیف کو ایکسٹینشن دو پر ختم ہو گیا۔ پہنچی وہی پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔

اینکر پرسن سلیم صافی نے ٹوئٹ کیا، اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ مسلم لیگ ن کے قائدین مریم نواز کی قیادت میں چودھری نثار کے گھر جا کر ان سے معافی مانگیں۔ ان کی بات مانی جاتی تو نہ حکومت جاتی، نہ جیلیں دیکھنی پڑتیں اور نہ بعد از خرابی بسیار تابع داری کی وہ سیاست کرنی پڑتی جو اب ن لیگ کرنے لگی ہے۔

بلاگر اور استاد سلمان حیدر نے فیس بک پر تبصرہ کیا، یہ پلیٹ لیٹس گر گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا۔

سینئر صحافی انصار عباسی نے ٹی وی ٹاک شو میں خواجہ آصف کے الفاظ دوہرائے، کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے۔ لیکن سینئر رپورٹر طارق بٹ نے اسے پلٹ کر اس طرح ٹوئٹ کیا، کوئی شرم نہیں ہوتی، کوئی حیا نہیں ہوتی۔

صحافی اور استاد رضا احمد رومی نے لکھا کہ پنجاب کی پارٹی اسٹیبلشمنٹ سے زیادہ دیر جھگڑا نہیں کر سکتی۔ رپورٹر عمر چیمہ نے شعر ٹوئٹ کیا، شہر والوں کی محبت کا میں قائل ہوں مگر، میں نے جس ہاتھ کو چوما وہی خنجر نکلا۔

دانشور فرخ سہیل گوئندی نے فیس بک پر لکھا، وہ بوٹ لکھتے رہے۔ ہم ووٹ سنتے رہے۔

پیپلز پارٹی کے دیرینہ کارکن اورنگزیب ظفر خان نے فیس بک پر تحریر کیا، پیپلز پارٹی کے کارکن آرمی ایکٹ بل کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں۔ نامنظور، نامنظور، نامنظور۔

ایک نوجوان محمد فیضان خان نے ٹوئٹ کیا، کسی نے ٹھیک کہا ہے کہ اچھے وقت میں گریبان اور مشکل وقت میں پاؤں پکڑ لیتے ہیں۔ اینکر پرسن رؤف کلاسرا نے بتایا کہ یہ پیر صاحب پگارا کا جملہ ہے۔

لیکن سب سے سخت تبصرہ اینکرپرسن طلعت حسین نے کیا۔ انھوں نے ٹوئٹ کیا، شہباز شریف اور نواز شریف نے آرمی ایکٹ کی ترامیم پر پی ٹی آئی کا تھوکا چاٹ کر آج ووٹ اور ووٹر کو تاریخی عزت دی ہے۔


اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں
لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی“ کے آپشن یا یہاں کلک کریں