fbpx
تحقیق و تجزئیات سیاست مزید

ایم کیو ایم کے لئے بلاول بھٹو کی پیشکش قبول کرنا آسان نہیں ہوگا:تجزیہ کار

کراچی — پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے متحدہ قومی موومنٹ کو پیشکش کی ہے کہ وفاقی حکومت کے ساتھ اپنا اتحاد ختم کرکے صوبائی حکومت میں شامل ہوجائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان تحریک انصاف کا ساتھ چھوڑ دے تو پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کو صوبائی حکومت میں نمائندگی دینے کو تیار ہے ۔

بلاول نے اس موقعے پر کہا، ‘گرا دو، گرادو، عمران کی حکومت کو۔ جتنی وزارتیں ایم کیو ایم کے پاس وفاق میں ہیں، اتنی ہم انہیں دینے کے لئے تیار ہیں․۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ حکومت کی تمام اتحادی جماعتوں کو آج نہیں تو کل یہ فیصلہ کرنا ہی پڑے گا کہ ملک کی بقاء کو ممکن بنایا جاسکے

اگرچہ ایم کیو ایم جانب سے اس تجویز پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، لیکن ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ امیدیں پوری ہوتی نظر نہیں آرہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران تحریک انصاف کی کارکردگی خراب رہی ہے اور کراچی میں وفاقی حکومت نے ترقیاتی کام کرانے میں کوئی خاص دلچسپی ظاہر نہیں کی ۔

تاہم تجزیہ کاروں کی رائے میں اب تک ایسے کوئی آثار نظر نہیں آتے کہ ایم کیو ایم جانب سے اس پیشکش کا مثبت جواب دیا جائے۔

جامعہ کراچی میں اردو کے استاد اور معروف تجزیہ کار ڈاکٹر توصیف احمد کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی میں گزشتہ چند سالوں میں خلیج اس قدر بڑھی ہے کہ ان کے لئے فی الحال وفاق کی حمایت چھوڑ کر پیپلز پارٹی کا حامی بننا آسان نہیں ہوگا۔

توصیف احمد کے بقول، ایم کیو ایم اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم ہے ۔ اس کا سارا انحصار راولپنڈی سے آنے والی پالیسیوں پر ہے۔ اسی پالیسی کی بنیاد پر وہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا حصہ بنی۔ اگرچہ کہ پچھلے الیکشن میں ایم کیو ایم نے سب سے زیادہ نقصان ایم کیو ایم کو ہی پہنچایا۔ توصیف احمد کے بقول،’مجھے نہیں لگتا کہ بلاول بھٹو کی اس پیشکش کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد ہوگا۔ ایم کیو ایم تحریک انصاف کی اتحادی ہے ۔ وہ اتحادی رہے گی’۔

ماضی میں بھی متحدہ قومی موومنٹ اور پاکستان پیپلزپارٹی کئی بار اتحادی جماعت بن کر حکومت کا حصہ رہی ہیں, تاہم پیپلز پارٹی کی جانب سے ایم کیو ایم پر بلیک میلنگ کا الزام عائد کیا جاتا رہا وہیں ایم کیو ایم پیپلز پارٹی پر کرپشن کے الزامات بھی عائد کرتی رہی ہیں جبکہ ایم کیو ایم کی جانب سے یہ مطالبہ شدت سے کیا جاتا ہے کہ کراچی کے مسائل کے حل کے لیے سندھ کے جنوبی حصوں پر مشتمل ایک الگ صوبہ بنایا جائے جس سے پیپلزپارٹی ہمیشہ انکار کرتی رہی ہے۔ اور اس مطالبے کی شدید مذمت کرتی آئی ہے۔


اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں
لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی“ کے آپشن یا یہاں کلک کریں

About the author

ویب ڈیسک

ہمارا ویب ڈیسک پاکستان اور ایشیاء سمیت دُنیا بھر میں رُونما ہونے والے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتا ہے اور آپ کو باخبر رکھنے کے لیے خبروں کا انتخاب کر کے انہیں موزوں پیرائے اور اسلوب میں ڈھال کر آپ کے پیشِ نظر کرتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

ہماری ٹیم کا حصہ بنیں

اگر آپ پاک اشیا ویب ٹی-وی کے رپورٹر بن کر ویب چینل پر آنا چاہتے ہیں تو ابھی ہماری ٹیم کا حصہ بنیں اور معمولی سی فیس ادا کر کے اپنے کام کا آغاز کریں