نئے برطانوی وزیر صحت ساجد جاوید کون ہیں؟

برطانوی وزیر صحت میٹ ہینکاک کی جانب سے مستعفی ہو جانے کے بعد پاکستانی نژاد سیاست دان ساجد جاوید کو وزیر صحت مقرر کیا گیا ہے۔

0 0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

برطانوی وزیر صحت میٹ ہینکاک کی جانب سے مستعفی ہو جانے کے بعد پاکستانی نژاد سیاست دان ساجد جاوید کو وزیر صحت مقرر کیا گیا ہے۔

میٹ ہینکاک کے مستعفی ہونے نے بعد وزیر اعظم بورس جانسن نے اپنی کابینہ کے رکن ساجد جاوید کو نیا وزیر صحت نامزد کیا ہے۔

اس پیش رفت کے بعد ساجد جاوید نے ایک ٹویٹ میں اس ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا۔

انہوں نے لکھا: ’اس نازک وقت میں مجھے  صحت اور سوشل کیئر کے سیکرٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے لیے کہا گیا ہے۔ میں اس (کرونا) وبا کے خلاف لڑائی میں حصہ لینے اور کابینہ شامل ہو کر ایک بار پھر اپنے ملک کی خدمت کرنے کا منتظر ہوں۔‘

https://twitter.com/sajidjavid/status/1408899703316566026?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1408899703316566026%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Fwww.independenturdu.com%2Fnode%2F71486

ساجد جاوید کون ہیں؟

برطانیہ کی سرکاری ویب سائیٹ کے مطابق سال 2019 میں بطور وزیر داخلہ کام کرنے والے ساجد جاوید کو بورس جانسن کی کابینہ میں اب وزیر صحت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

2014 میں وزیرِ ثقافت منتخب ہونے والے ساجد جاوید کنزرویٹو جماعت میں اہم رہنما جاتے ہیں۔ 2010 کے عام انتخابات میں وہ بروموسگرو سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔

خاندانی پس منظر

50 سالہ ساجد جاوید  نے 2012 میں برطانوی جریدے ’ایوننگ سٹینڈرڈ‘ کو اپنے خاندان کی جدوجہد کے بارے میں بتایا: ’میرے والد کا تعلق پاکستان کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے تھا اور جب وہ 17 سال کے تھے تو کام کی تلاش میں برطانیہ آئے تھے۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’برطانیہ ہجرت کے بعد وہ روچڈیل میں رہائش پزیر ہوئے اور ایک کاٹن مِل میں بطور مزدور کام کرنے لگے۔ لیکن وہ کافی پرجوش انسان تھے اور جب انہوں نے دیکھا کہ برطانیہ میں بس ڈرائیوروں کو زیادہ معاوضہ ملتا ہے تو انہوں نے یہ پیشہ اختیار کر لیا۔ دن رات محنت کی وجہ سے انہیں ’مسٹر نائٹ اینڈ ڈے‘ کا نام دیا گیا تھا کیونکہ وہ ہر وقت کام میں مصروف رہتے تھے۔‘

ساجد جاوید نے برسٹل میں ابتدائی تعلیم حاصل کی، ان کے والدین نے وہاں لیڈیز ویئر شاپ کا کام شروع کیا۔ یہ کنبہ دکان کے اوپر دو بیڈ روم والے فلیٹ میں رہ رہا تھا۔

ساجد جاوید نے 2014 میں ڈیلی میل کو بتایا کہ ’سکول جانا مجھے مشکل لگتا تھا، میں شرارتی لڑکا تھا، ہوم ورک سے زیادہ گریج ہل کو دیکھنے میں زیادہ دلچسپی لیتا تھا۔‘
ان کی ابتدا ہی سے سٹاک مارکیٹ میں بھی دلچسپی پیدا ہو گئی تھی۔ 14 سال کی عمر میں وہ اپنے والد کے بینک منیجر سے ملنے گئے اور حصص  رقم لگانے کے لئے  500 پاؤنڈ کا قرض حاصل کرنے کا انتظام کیا۔ اس کے بعد سے وہ مستقل ’فنانشل ٹائمز‘ کا مطالعہ کرنے لگے۔

ریاضی میں او لیول کو پاس کرنے کے بعد انہوں نے کالج اور پھر ایکسیٹر یونیورسٹی کا رخ کیا جہاں انہوں نے معاشیات اور سیاست کی تعلیم حاصل کی جس سے ان کے مستقبل کے کیریئر کی سمت کا تعین بھی ہو گیا۔

کمرشل یونین میں ملازمت کرتے ہوئے ان کی ملاقات ’لارا‘ سے ہوئی جن سے انہوں نے بعد میں شادی کر لی۔ 

پیشہ ورانہ کامیابیاں

 24 سال کی عمر میں ساجد جاوید نیویارک میں واقع مین ہٹن بینک کے نائب صدر تعینات ہوئے۔ 1997 میں وہ لندن منتقل ہوئے، ڈوئچے بینک میں ڈائریکٹر کی پوزیشن سنبھالی اور چار سال میں ہی اس کے منیجنگ ڈائریکٹر کے عہدے تک جا پہنچے۔

سیاسی سفر

 2012 میں وزیرِ معیشت مقرر ہونے سے پہلے وہ وزارت محنت میں دو مختلف وزرا کے پارلیمانی پرائیویٹ سیکرٹری رہے۔

ساجد جاوید 30 اپریل 2018 کو وزیر داخلہ مقرر کیے گئے۔ وہ برطانیہ کے وزیر خارجہ بننے والے پہلے شخص تھے جو سفید فام نہیں تھے۔ اس سے پہلے وہ وزیرِ ہاؤسنگ اور مقامی حکومتوں کے وزیر رہے۔

میٹ ہینکوک استعفے کا پس منظر

میٹ ہینکوک نے ہفتے کو اس انکشاف کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا کہ انہوں نے قریبی ساتھی کے ساتھ معاشقے کے دوران حکومت کی اپنی کرونا وائرس سے متعلق پابندیوں کی خلاف ورزی کی۔

اس وبا کے خلاف برطانیہ کے فرنٹ مین، خاص طور پر ویکسین لگانے کی مہم میں پیش پیش ہینکوک نے وزیر اعظم بورس جانسن کو لکھے ایک خط میں اپنی معذرت کا اعادہ کرتے ہوئے عہدہ چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔

انہوں نے لکھا کہ ’ہم ان لوگوں کے مقروض ہیں جنہوں نے اس وبا کے خلاف بہت قربانیاں دی ہیں جب ہم نے پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیں نیچا دکھایا ہے۔‘

اس سے قبل وزیر اعظم بورس جانسن کی جانب سے اس معاملہ کو ’ختم‘ قرار دینے کے بعد سے برطانیہ میں وزیر صحت کے معاشقے کی تحقیقات کے لیے دباؤ بڑھ رہا تھا۔ وزیر اعظم کے بیان کو اپنے سیکرٹری کو بچانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔

سکیورٹی کیمرے سے یہ تصاویر چھ مئی کو لی گئیں تھیں۔ تاہم ذرائع نے اخبار کو بتایا کہ یہ جوڑا کرونا کی وبا کے دوران بھی دیگر کئی مواقعے پر گلے لگتے دیکھا گیا ہے۔

ہینکاک نے جمعے کو کہا کہ وہ سماجی فاصلے کی ہدایات کی خلاف ورزی پر ’معذرت خواہ ہیں‘ مگر ایک بیان میں واضح کیا کہ ان کا استعفیٰ دینے کا ارادہ نہیں۔

وزیر صحت نے اپنے خاندان کے لیے پرائیوسی کی اپیل کی اور کہا کہ ان کا دھیان ’ملک کو وبا سے نکالنے‘ پر مرکوز ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ تصویر وائٹ ہال میں ان کے محکمے کے اندر لی گئی تھی اور اس وقت کام کی جگہوں پر دو میٹر کا سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کا قانون نافذ تھا۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Privacy & Cookies Policy