سائنو ویک ویکسین کی تیسری خوراک ڈیلٹا کے خلاف مدافعتی نظام زیادہ طاقتور بنائے

تحقیق میں بتایا گیا کہ سائنو ویک کی کووڈ ویکسین کی تیسری خوراک وائرس ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز کی تعداد میں نمایاں حد تک اضافہ کردیتی ہے۔

0 9

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

سائنو ویک ویکسین کی تیسری خوراک کورونا وائرس کی زیادہ متعدی قسم ڈیلٹا کے خلاف اینٹی باڈیز کی سطح میں کمی کو ریورس کرسکتی ہے۔

یہ بات چین میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی جس سے عندیہ ملتا ہے کہ سائنو ویک کی ویکسین کورونا ویک کی تیسری خوراک کورونا کی زیادہ متعدی قسم کے خلاف طویل المعیاد مدافعتی ردعمل کے حصول میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ سائنو ویک کی کووڈ ویکسین کی تیسری خوراک وائرس ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز کی تعداد میں نمایاں حد تک اضافہ کردیتی ہے۔

نئی تحقیق کے نتائج اس وقت سامنے آئے ہیں جب کورونا کی قسم ڈیلٹا دنیا بھر میں دیگر اقسام کو پیچھے چھوڑ چکی ہے اور ان ممالک میں بھی کیسز کا باعث بن رہی ہے جہاں ویکسینیشن کی شرح بہت زیادہ ہے۔

متعدد ممالک میں سائنو ویک ویکسین پر بہت زیادہ انحصار کیا ہے اور ان میں سے کچھ میں کورونا ویک استعمال کرنے والے افراد کو فائزر ویکسین کا بوسٹر ڈوز دینے پر غور کیا جارہا ہے۔

چائنیز اکیڈمی آف سائنسز، فیورن یونیورسٹی، سائنو ویک اور دیگر چینی اداروں کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ سائنو ویک کی 2 خوراکیں استعمال کرنے والے افراد کے نمونوں میں ڈیلٹا کے خلاف وائرس کو ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈی سرگرمیوں کو دریافت نہیں کیا جاسکا۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ جن افراد کو ویکسین کی تیسری خوراک استعمال کرائی گئی ان میں 4 ہفتوں بعد دوسری خوراک استعمال کرنے کے 4 ہفتوں کے بعد کے مقابلے میں ڈیلٹا کے خلاف وائرس ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز میں ڈھائی گنا اضافہ ہوا۔

تحقیق میں یہ وضاحت نہیں کی گئی اینٹی باڈی سرگرمیاں بڑھنے سے ڈیلٹا سے بیمار ہونے سے لوگوں کو کس حد تک تحفظ ملتا ہے۔

اس لیبارٹری تحقیق میں 66 رضاکاروں کے نمونوں کی جانچ پڑتال کی گئی تھی جن میں سے 38 افراد کو ویکسین کی 2 یا 3 خوراکیں استعمال کرائی گئی تھیں۔

اس تحقیق کے نتائج ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے بلکہ پری پرنٹ سرور پر جاری کیے گئے۔

اس سے قبل اگست 2021 کے شروع میں بھی کمپنی کی جانب سے تیسری خوراک کے اثرات کے حوالے سے ایک تحقیق کے نتائج جاری کیے تھے۔

اس تحقیق میں معمر افراد کو ویکسین کی دوسری خوراک ک استعمال کے 8 ماہ بعد بوسٹر ڈوز دیا گیا، جس سے ان میں وائرس کو ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز میں نمایاں حد تک اضافہ ہوا۔

اس نئی تحقیق کے کلینکل ٹرائل کے پہلے مرحلے میں 60 سال یا اس سے زائد عمر کے 303 صحت مند افراد کو شامل کیا گیا تھا۔

تحقیق کے مطابق معمر افراد میں سائنو ویک ویکسین کی 2 خوراکیں استعمال کرنے کے 6 ماہ بعد وائرس ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز کی سطح میں نمایاں کمی آئی۔

ٹرائل میں ان افراد کو 4 گروپس میں تقسیم کیا گیا، 3 گروپس کو ویکسنیشن کے 8 ماہ بعد ویکسین کی تیسری خوراک مختلف مقدار (1.5ug، 3ug اور 6ug) میں دی گئی جبکہ ایک گروپ کو پلیسبو استعمال کرایا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ویکسین گروپس میں مقدار مختلف ہونے کے باوجود تیسری ڈوز کے استعمال کے ایک ہفتے بعد وائرس ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز کی سطح میں نمایاں حد تک اضافہ ہوگیا۔

جس گروپ کو 3ug مقدار میں بوسٹر ڈوز دیا گیا، ان میں 7 دن بعد وائرس ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز میں دوسری خوراک کے 28 دن کے مقابلے میں 7 گنا اضافہ ہوا۔

تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا کہ گروپس میں ویکسین کی تیسری خوراک کے بعد کوئی سنگین مضر اثر دیکھنے میں نہیں آیا، سب سے عام اثر انجیکشن کے مقام پر تکلیف کا تھا۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Privacy & Cookies Policy