خوردنی تیل کی قیمتوں میں استحکام کیلئے ایف بی آر سے مدد طلب

پاک ایشیا ویب چینل کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ ہدایت نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی (ایس پی ایم سی) کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئی کی، اجلاس میں تمام اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔

0 4

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایسی حکمت عملی تیار کرے جس سے مقامی مارکیٹ میں گھی/خوردنی تیل کی قیمتوں میں واضح اثرات کو یقینی بنایا جاسکے۔

پاک ایشیا ویب چینل کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ ہدایت نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی (ایس پی ایم سی) کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئی کی، اجلاس میں تمام اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔

سرکاری بیان میں کہا گیا کہ عالمی مارکیٹ میں خوردنی تیل کی قیمت غیر مستحکم ہونے کے باعث ملک میں مقامی سطح پر قیمت بڑھی ہے۔

وزیر خزانہ نے مقامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو عالمی مارکیٹ سے جوڑنے کے لیے ایک سلائیڈنگ اسکیل کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے فوڈ سیکیورٹی جمشید چیمہ نے اجلاس کو بتایا کہ پہلے کمیٹی کے روبرو اور اشیائے خور ونوش کے ذخائر قائم کرنے کے لیے حکمت عملی پیش کی جائے گی تاکہ روزہ مرہ کی ضروریات کی چیزوں کی قیمت کو مستحکم کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ حکمت عملی میں زرعی بازاروں، ذخیرے کی سہولیات اور اجناس کے گوداموں سمیت انفرا اسٹرکچر کو فعال کرنا شامل ہوگا۔

معاون خصوصی نے پاسکو اور محکمہ خوراک کے ذریعے کسانوں سے دالیں خریدنے کے منصوبے کے حوالے سے بھی آگاہ کیا تاکہ یہ دالیں یوٹیلی اسٹورز اور بچت بازاروں کے ذریعے کم قیمت پر صارفین کو فراہم کی جاسکیں۔

اس کے علاوہ جمشید چیمہ نے میٹھے چقندر کی اضافی فصل اگنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ سال بھر مناسب قیمت پر چینی کی مستحکم سپلائی کویقینی بنایا جاسکے۔

این پی ایم سی نے صوبائی چیف سیکریٹریز کو ہدایت دی کہ وہ ملک بھر میں گندم کی رسد کو سستے داموں اور ہموار انداز میں یقییی بنانے کے لیے وفاقی حکومت کی مقرر کردہ قیمت پر روزانہ گندم کی فراہمی دوبارہ بحال کریں۔

گندم کی فراہمی کے لیے مقرر کردہ قیمت ایک ہزار 950 روپے فی 40 کلوگرام ہے۔

وزارتِ صنعت و پیداوار کے نمائندے نے مقررہ وقت پر چینی کی درآمد کے لیے کیے گئے انتظامات کے حوالے سے کمیٹی کو بریفنگ دی۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Privacy & Cookies Policy