شیخوپورہ میں پولیس مقابلے کے دوران گینگ ریپ کے 2 ملزمان ہلاک

پاک ا یسشیااخبار کی رپورٹ کے مطابق ملزمان نے تقریباً 25 روز قبل ایک 18 سالہ مسیحی لڑکی کا اس کے اہل خانہ کے سامنے مبینہ ریپ کیا تھا، جس کے بعد صدر فاروق آباد پولیس نے ملزمان کو گینگ ریپ کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

0 10

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

شیخوپورہ: پولیس سے مقابلے کے دوران گینگ ریپ کے 2 ملزمان مارے گئے۔

پاک ا یسشیااخبار کی رپورٹ کے مطابق ملزمان نے تقریباً 25 روز قبل ایک 18 سالہ مسیحی لڑکی کا اس کے اہل خانہ کے سامنے مبینہ ریپ کیا تھا، جس کے بعد صدر فاروق آباد پولیس نے ملزمان کو گینگ ریپ کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

بعد ازاں اتوار کو سب انسپکٹر ارشاد کی سربراہی میں ایک پولیس ٹیم ملزمان کو اس مقام پر لے جا رہی تھی جہاں انہوں نے لڑکی کا ریپ کیا تھا تاکہ لوٹا ہوا سامان برآمد کیا جائے۔

تاہم جیسے ہی پولیس وین وہاں پہنچی ملزمان کے ساتھیوں کے ایک گروپ نے پولیس پر فائرنگ کردی اور ریپ ملزمان کو چھڑانے میں کامیاب ہوگئے۔

جس پر ڈسٹرکٹ پولیس افسر مبشر مکن نے پولیس پارٹی کے انچارچ سب انسپکٹر ارشاد اور 4 کانسٹیبل کو معطل کردیا۔

مذکورہ معاملے کے بعد سرچ آپریشن شروع کیا گیا اور صدر فاروق آباد پولیس کو اطلاع موصول ہوئی کہ ملزمان اور ان کے ساتھی اعوان بھٹیاں گاؤں کی طرف گئے ہیں۔

اس پر جب پولیس وہاں پہنچی تو دیکھا کہ ملزمان وہاں لوٹ مار کر رہے ہیں، اسی دوران ریپ کرنے والوں اور ڈاکوؤں نے پولیس کو دیکھتے ہی فائرنگ شروع کرتی جس پر دونوں اطراف سے فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا۔

تاہم فائرنگ کے ختم ہونے پر پولیس کو دونوں ریپسٹ کی لاشیں ملیں جبکہ ان کے ساتھی تاریکی میں فرار ہوگئے۔

خیال رہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ اس طرح کے پولیس مقابلے میں کوئی ملزم ہلاک ہوا ہو بلکہ اس سے قبل نومبر 2020 میں بھی ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ماں اور بیٹی کا ریپ کرنے والا مرکزی ملزم مارا گیا تھا۔

اس حوالے سے سامنے آئی تفصیلات سے یہ پتا لگا تھا کہ سندھ اور بلوچستان کی صوبائی سرحد کے قریب ضلع کشمور کے علاقے آر ڈی 109 میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ماں اور کمسن بچی کا ریپ کرنے والا مرکزی ملزم ملک رفیق ساتھی کی گولی لگنے سے ہلاک ہوا۔

یاد رہے کہ نوکری کا جھانسہ دے کر کراچی سے تعلق رکھنے والی خاتون اور ان کی کم سن بیٹی کو کشمور بلانے کے بعد ریپ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

پولیس نے اس واقعے میں ابتدائی طور پر ایک ملزم کو گرفتار کیا تھا جس کے بعد شریک ملزم کی گرفتاری کے لیے کارروائی کی گئی تھی۔

پولیس ذرائع اور ابتدائی رپورٹ میں بتایا تھا کہ ملک رفیق کو شریک ملزم خیراللہ بگٹی کو گرفتار کرنے کے لیے بلوچستان اور سندھ کے صوبائی سرحد میں بخش پور تھانے کی حدود میں واقع علاقے میں لے جایا گیا تھا۔

پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ پولیس کے پہنچتے ہی خیراللہ بگٹی نے فائرنگ شروع کی، جس کے نتیجے میں ملک رفیق موقع پر ہلاک ہوگیا جبکہ خیراللہ بگٹی کو اسلحے سمیت گرفتار کیا گیا۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Comment moderation is enabled. Your comment may take some time to appear.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Privacy & Cookies Policy