مسجد اقصیٰ میں فلسطینیوں، اسرائیلی پولیس کے درمیان جھڑپ میں سیکڑوں افراد زخمی

یہ ایک ایسا علاقہ ہے جہاں ایک طویل عرصے سے جاری قانونی کیس میں متعدد فلسطینی خاندان کو بے دخل کیا گیا ہے۔

0 44

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

یہودی آباد کاروں کی طرف سے فلسطینیوں کو گھروں سے بے دخل کرنے پر غم و غصے میں اضافے کے پیش نظر مسجد اقصیٰ کے باہر ہونے والے احتجاج میں اسرائیلی پولیس نے فلسطینی نوجوانوں کی طرف ربڑ کی گولیاں چلائیں اور اسٹن گرینیڈ فائر کیا جبکہ فلسطینی نوجوانوں نے اسرائیلی پولیس پر پتھراؤ کیے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق دین اسلام کی تیسرے سب سے مقدس ترین مقام اور مشرقی یروشلم میں رات کے وقت ہونے والی جھڑپ میں اسرائیلی پولیس اور فلسطینی صحت ورکرز نے بتایا کہ کم از کم 205 فلسطینی اور 17 اسرائیلی پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

رمضان کے مقدس مہینے کے دوران یروشلم اور مقبوضہ مغربی کنارے میں کشیدگی پھیل رہی ہے، مشرقی یروشلم کے علاقے شیخ جراح میں رات کے وقت جھڑپیں ہوئیں۔

یہ ایک ایسا علاقہ ہے جہاں ایک طویل عرصے سے جاری قانونی کیس میں متعدد فلسطینی خاندان کو بے دخل کیا گیا ہے۔

امریکا اور اقوام متحدہ کی طرف سے تشدد میں کمی کا مطالبہ سامنے آیا جبکہ یورپی یونین اور اردن سمیت دیگر نے ممکنہ بے دخلی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

جمعے کے روز سینکڑوں فلسطینی مسجد اقصیٰ کے ارد گرد پہاڑی کے احاطے میں نماز جمعہ کے لیے اکٹھے ہوئے جس کے بعد بہت سے لوگ شہر میں بے دخلی کے خلاف احتجاج کے لیے وہیں موجود رہے۔

لیکن شام کے وقت افظار کے بعد مسجد اقصیٰ میں اور شیخ جراح کے قریب چھوٹی چھوٹی جھڑپیں شروع ہوگئیں جو قدیم شہر کے مشہور دمشق گیٹ کے قریب ہے۔

پولیس نے بکتر بند گاڑیوں پر نصب واٹر کینن کا استعمال کئی سو مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کیا جو ممکنہ بے دخلی کا سامنا کرنے والے خاندانوں کے گھروں کے قریب جمع تھے۔

مظاہرے میں شامل 23 سالہ بشار محمود کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم یہاں ان لوگوں کے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے تو (بے دخلی) میرے گھر، اس کے گھر، اس کے گھر اور یہاں رہنے والے ہر فلسطینی کے گھر آئے گی۔

فوٹو:رائٹرز

‘پرسکون ہو جاؤ اور خاموش رہو’

فوٹو:رائٹرز
فوٹو:رائٹرز

مسجد اقصیٰ کے ایک اہلکار نے مسجد کے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے کمپاؤنڈ میں لوگوں کو پرسکون ہونے کی اپیل کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘پولیس کو فوری طور پر نمازیوں پر اسٹن گرینیڈ فائر کرنے بند کرنا چاہیے اور نوجوانوں کو پرسکون ہوکر خاموش ہونا چاہیے’۔

پیر کے روز جہاں اسرائیل کی یہودی آبادی یوم یروشلم منارہی ہوگی وہیں اسرائیل کی سپریم کورٹ شیخ جراح کی بے دخلیوں پر سماعت کرے گی۔

فلسطین کی ہلال احمر ایمبولینس سروس نے بتایا کہ زخمی ہونے والے 108 فلسطینیوں کو اسپتال لے جایا گیا، متعدد افراد کو اسٹیل پر ربڑ چڑھی گولیوں سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

ہلال احمر کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے ایک کی آنکھ ضائع ہوئی، دو کو سر پر شدید زخم آئے اور دو کے جبڑے ٹوٹ گئے۔

دوسری جانب اسرائیلی پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ فلسطینیوں نے پتھراؤ، آتش بازی اور دیگر سامان افسران کی طرف پھینکا جس سے 17 کے قریب نصف زخمی ہوئے جنہیں ہسپتال میں طبی امداد کی ضرورت ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ‘ہم اپنے افسران کو نقصان پہنچانے والے ہنگامہ آرائی کرنے والوں کو آڑھے ہاتھوں لیں گے اور اور ذمہ داروں کو ڈھونڈنے کے بعد اہلکاروں کو انصاف دلانے کے لیے کام کریں گے’۔

فلسطین کے صدر محمود عباس نے ‘اسرائیل کو مقدس شہر میں ہونے والی خطرناک واقعے اور گنہگار حملوں کا ذمہ دار ٹھہرایا’ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اس مسئلے پر فوری اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا۔

پولیس نے بتایا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی تشدد میں اضافہ ہوا ہے جہاں گزشتہ روز اسرائیلی اڈے پر فائرنگ کے بعد دو فلسطینی ہلاک اور تیسرا شدید زخمی ہوگیا۔

اس واقعے کے بعد اسرائیل کی فوج کا کہنا تھا کہ وہ مغربی کنارے میں اضافی جنگی فوج بھیجے گی۔

‘اسرائیل آگ سے کھیل رہا ہے’

شیخ جراح کے رہائشی بھاری اکثریت سے فلسطینی ہیں تاہم اس کے پڑوس میں ایک مقام موجود ہے جس کے بارے میں یہودیوں کا ماننا ہے کہ یہاں ایک قدیم اعلی کاہن سائمن جسٹ کی قبر موجود ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے ترجمان نے کہا ہے کہ ‘اگر حکم دیا گیا اور اس پر عمل درآمد کیا گیا تو بین الاقوامی قوانین کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہوگی’۔

ترجمان رابرٹ کولویلے نے کہا کہ ‘ہم اسرائیل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تمام جبری بے دخلیاں فوری طور پر رکوائے جن میں شیخ جراح بھی شامل ہے، اور ایسی کسی بھی سرگرمی کو روکے جس سے مزید پیچیدہ ماحول پیدا ہو اور زبردستی منتقلی کا خطرہ ہو’۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان جیلیانا پورٹر نے کہا کہ ‘واشنگٹن کو یروشلم میں بڑھتی کشیدگی پر سخت تشویش ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہم آنے والے دنوں میں ایک حساس دور کی طرف جارہے ہیں، یہ فریقین کے لیے ضروری ہے کہ وہ امن کو یقینی بنائیں اور تناؤ میں اضافے اور پرتشدد تصادم سے بچنے کے لیے ذمہ داری کے ساتھ کام کریں’۔

یورپی یونین، اردن اور 6 رکنی خلیجی تعاون کونسل نے ممکنہ بے دخلی پر تشویش کا اظہار کیا۔

اردن کے وزیر خارجہ ایمن صفادی نے کہا کہ اردن نے فلسطینی اتھارٹی کو یہ دستاویزات دی تھیں کہ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ شیخ جراح کے فلسطینی اپنے گھروں کے ‘جائز مالک’ ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘مقبوضہ بیت المقدس میں اشتعال انگیز اقدامات اور فلسطینیوں کے حقوق کی خلاف ورزی، بشمول شیخ جراح کے لوگوں کے گھروں کے حقوق مجروح کرکے اسرائیل آگ سے کھیل رہا ہے’۔

اسرائیل کی وزارت خارجہ نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ فلسطینی ‘بیت المقدس میں تشدد کو ہوا دینے کے لیے نجی جماعتوں کے درمیان ایک غیر منقولہ جائیداد کے تنازع کو قوم کا تنازع بنا کر پیش کررہے ہیں’۔

فلسطینیوں نے اس الزام کو مسترد کردیا۔

پاکستان کا اظہار مذمت

ادھر دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان ‘اسرائیلی قابض فورسز کی جانب سے مسجد اقصی میں معصوم نمازیوں پر حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے’۔

کہا گیا کہ اس طرح کے حملے، خاص طور پر رمضان المبارک کے مقدس مہینہ کے دوران، تمام انسانی اقدار اور انسانی حقوق کے قوانین کے منافی ہیں۔

دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ‘ہم زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہیں اور ہم فلسطینی مقصد کے لیے اپنی مستقل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں اور عالمی برادری سے ایک بار پھر مطالبہ کرتے ہیں کہ فلسطینی عوام کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات اٹھائے’۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے ہم ایک بار پھر 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے ساتھ اقوام متحدہ اور او آئی سی کی قراردادوں کے مطابق دو ریاستوں کے حل کی ضرورت پر زور دیتے ہیں اور القدس الشریف آزاد اور متصل فلسطینی ریاست کا قابل عمل دارالحکومت ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Privacy & Cookies Policy