بلاگز
Trending

کیا میں اپنے باپ یا بھائی سے محبت کا اظہار نہیں کر سکتی؟

ہمیں محبت سے اور اس کے اظہار سے اتنا ڈرا دیا جاتا ہے کہ ہم اپنے سگے رشتوں کو بھی یہ نہیں بتا پاتے کہ وہ ہمیں کس قدر عزیز ہیں؟

Story Highlights
  • سوشل میڈیا پر کچھ دن پہلے کسی نے ایک بات شیئر کی تھی کہ ’ہم ایسے معاشرے میں رہتے ہیں، جہاں شوہر اپنی بیوی کو سرعام تھپڑ تو مار سکتا ہے لیکن پیار نہیں کر سکتا۔‘

یہ پڑھتے ہی ذہن میں بہت سے واقعات، تجربات اور اپنے مشاہدات کا ایک سلسلہ چل نکلا۔ صرف میاں بیوی ہی نہیں ہر رشتے سے متعلق ایسے ہی رویے یاد آ گئے۔ خود میرا ہی حال دیکھ لیں، ماؤں کے عالمی دن پر میں نے اپنی والدہ کو فون کیا اور کہا، ”امی جی ! آج ماؤں کا عالمی دن ہے، اس لیے آپ کو فون کیا۔

 پہلے تو وہ سمجھ نہیں پائیں، پوچھا، کیا ماؤں کا آخری دن ہے؟ وہ کیوں، کیا ہوا؟ لیکن تفصیل بتانے پر ہنسنے لگ گئیں اور جب میں نے ان سے کہا کہ امی جی، میں آپ سے محبت کرتی ہوں! تو وہ ایسے جھینپ سی گئیں کہ ان سے کوئی جواب ہی نہیں بن پایا۔ بس معصومیت سے بولیں کہ اچھا! اللہ تمہیں زندگی صحت دے اور کال بند کر گئیں۔

میں نے زندگی میں پہلی بار بتیس سال کی عمر میں پہنچ کر اپنی سگی ماں سے اپنی محبت کا اظہار کیا۔ یعنی میں ان سے اونچی آواز میں بات تو کر سکتی تھی، ان سے ضد کر سکتی تھی، جھگڑ سکتی تھی لیکن کبھی گلے لگا کر ان سے پیار نہیں ظاہر کر سکتی تھی۔ کیونکہ ہم نے اپنے بچپن سے اب تک کسی کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہی نہیں۔

 پھر ابا کی تو بات ہی مت کریں، بالغ ہونے سے پہلے ڈراؤنے خواب کے خوف سے، جو بچی اپنے باپ سے لپٹ کر سوتی ہو، اسی کو جب یہ کہہ کر باپ بھی اپنی چارپائی پر بیٹھنے کی اجازت نہ دیتا ہو کہ اب تم بڑی ہو گئی ہو، تو وہ یک دم بچی سے لڑکی اور عورت ہونے کے مرحلے کیسے طے کر لیتی ہے؟ اس عدم تحفظ، تبدیلی اور ذمہ داری کے بوجھ کو کس اذیت کے ساتھ قبول کرتی ہےکبھی کوئی نہیں سوچ سکتا۔

سوشل میڈیا پر کچھ دن پہلے کسی نے ایک بات شیئر کی تھی کہ ’ہم ایسے معاشرے میں رہتے ہیں، جہاں شوہر اپنی بیوی کو سرعام تھپڑ تو مار سکتا ہے لیکن پیار نہیں کر سکتا۔‘

 یہی سب کچھ بچے بھی لڑکا اور مرد ہونے کے سفر میں برداشت کر کے یہاں تک پہنچتے ہیں تو اس کا علاج انہیں کہیں نہیں مل پاتا۔ ہمیں محبت سے اور اس کے اظہار سے اتنا ڈرا دیا جاتا ہے کہ ہم اپنے سگے رشتوں کو بھی یہ نہیں بتا پاتے کہ وہ ہمیں کس قدر عزیز ہیں؟

 ہم ماں بہن کی گالی پر اگلے کا سر تو پھاڑ سکتے ہیں لیکن اسی ماں بہن سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے گھبراتے ہیں۔ اگر کوئی بہن اپنے بھائی کو بوسہ دیتے ہوئے کوئی تصویر سوشل میڈیا پر لگا دے تو اسے اخلاقیات اور دینیات کا درس دینے کے لیے صالحین کی ایک جماعت آ دھمکے گی اور اسے نفسیانی خواہشات کے غلبے سے ڈرا ڈرا کر اس کی زندگی جہنم بنا دے گی۔

اگر کوئی باپ بیٹی کو غیرت کے نام پر قتل کر دے تو اسے سراہا جائے گا لیکن وہی باپ اس بیٹی کو سب کے سامنے گلے لگا لے، اس کا ماتھا چوم لے تو فوراً جوان بیٹی اور باپ کے ایک چارپائی پر نہ بیٹھنے کے متعلق مذہبی تاویلات پیش کر کے ایسے ہر قدم کی مذمت فرض سمجھی جائے گی۔

قدم قدم پہ گھٹن سے تنگ ان بچوں میں جب توجہ، محبت اور کسی اپنے کے ساتھ ہونے کی خواہش سر چڑھ کر بولتی ہے تو ہم ان پر بدچلنی اور بدقماشی کا الزام لگا کر انہیں راندہ درگاہ کر دیتے ہیں۔ آگے چل کر یہ ہی گھٹے ہوئے اور شدید ترسے لوگ اگلی نسل پیدا کرتے ہیں اور اپنا غصہ، محرومیاں، نامکمل خواہشیں اور ذمہ داریوں کا بوجھ ان پر لاد کر اپنی ہی فوٹو کاپیاں ذرا سے اپ ڈیٹڈ ورژن کے ساتھ چھاپتے چلے جاتے ہیں۔

ہمیں محبت سے اور اس کے اظہار سے اتنا ڈرا دیا جاتا ہے کہ ہم اپنے سگے رشتوں کو بھی یہ نہیں بتا پاتے کہ وہ ہمیں کس قدر عزیز ہیں؟

اب یہ اپ ڈیٹڈ ورژنز والے ‘متشدد یا جنسی مریض لوگ‘  والدین، اساتذہ، دوست احباب،  پڑوسی یا فیلوز کی صورت میں اپنے سے کمزور لوگوں پر اپنا سکہ ہر جگہ چلاتے نظر آتے ہیں۔ پھر ہم سنتے ہیں کہ فلاں سکول، مدرسے، گاؤں، محلے یا شہر میں بچوں کے ساتھ غلط حرکتیں کرتے ہوئے کوئی پکڑا گیا تو کبھی بچ نکلا۔ بچے، عورتیں، جانور، خواجہ سرا اور قبروں میں دفن مردے بھی اس نفرت، تشدد، خواہش اور خواہش کی تکمیل کے لیے مفعول کا کردار ادا کرتے قربان ہو جاتے ہیں۔

ہرطرف یہ شور ہے کہ تعلیم کی کمی ہے، جو یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ قانون سخت ہونا چاہیے کہ سزاؤں کا ایک باقاعدہ نظام قائم ہونے سے لوگ ڈر جائیں گے اور ایسے جرائم کا ارتکاب بھی کم سے کم ہو گا لیکن کوئی تربیت کی طرف دھیان نہیں دے رہا۔ تربیت کے لیے کسی سکول، کالج اکیڈمی یا ادارے کا ہونا بالکل ضروری نہیں ہے، کسی نصاب یا آوٹ لائن کی بھی ضرورت نہیں پڑتی، صرف بچوں کے سامنے انسانوں کے ساتھ انسانوں جیسا برتاؤ کر لیں۔

محبت کا درس دینے کی بجائے محبت کی عملی شکل دکھانا ضروری ہے۔ انہیں دکھائیں کہ بیوی، بچوں اور اپنے ماتحتوں سے ہمیشہ فرعون کے لہجے میں بات کرنا انسانی اخلاق کی بری ترین سطح ہے۔ انہیں تحفظ اور اپنائیت کا احساس دلائیں تا کہ وہ بھی اپنے دوستوں، بہنوں بھائیوں اور رشتے داروں کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی میں آنے والے ہر انسان کی بلا تفریق عزت کریں۔ کتابیں تو ان نصیحتو ں سے بھری ہوئی ہیں لیکن تشدد نہ کرنے کا درس دینے والا استاد جب سبق یاد نہ ہونے پر بچے کو مارتا ہے تو وہ اپنے ہی الفاظ کے الٹ جا کر ان لفظوں کے اثر کو ضائع کر دیتا ہے۔ جھوٹ نہ بولنے اور چوری نہ کرنے کی نصیحت کرنے والے، ملاوٹ والوں کا گالیاں دینے والے اور رشوت خوروں پر لعنت بھیجنے والے ماں باپ، جب خود یہ ہی کچھ کرتے ہیں تو پھر تعلیم و نصیحت کا کسی پر کیا اثر ہو سکتا ہے۔

سیدھی بات یہ ہے کہ بچہ جتنی گھٹن اور پابندیاں لیے جوان ہو گا، اس سے دگنی اپنے اردگرد پھیلائے گا۔ اپنے گھر سے شروع کریں اور کبھی نہ ختم ہونے والا محبت کا پھیلاؤ دیکھیں!


تحریر: شمائلہ حسین
Source
ڈوئچے ویلے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button