fbpx
پاکستان عدالت

میں نے ہسپتال نہیں، سب جیل پر چھاپہ مارا تھا، چیف جسٹس

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے نجی ہسپتال میں ان کے چھاپے پر سیاسی جماعتوں کی تنقید پر کہا ہے کہ میں نے ہسپتال نہیں بلکہ سب جیل پر چھاپہ مارا تھا۔

انہوں نے یہ رد عمل صحافیوں کی جانب سے کیے جانے والے سوال پر دیا، جس میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ ہسپتال میں چھاپے کے حوالے سے سیاسی جماعتیں آپ پر تنقید کر رہی ہیں۔

علاوہ ازیں صحافیوں نے چیف جسٹس سے سوال کیا کہ کراچی آکر آپ کو کیسا لگا، جس پر انہوں نے کہا کہ مجھے کراچی آکر پہلے سے صاف لگا۔

جس کے بعد چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اپنے ریسٹ ہاؤس پہنچے، جہاں انہوں کچھ دیر قیام کیا اور بعد ازاں وہ اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گے۔

گزشتہ روز چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی جانب سے نجی ہسپتال کے دورے کے دوران سابق صوبائی وزیر اطلاعات اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے زیر علاج رہنما شرجیل انعام میمن کے کمرے سے شراب کی بوتلیں برآمد ہونے کے بعد پولیس نے ہسپتال کے کمرے کو سیل کرتے ہوئے شرجیل میمن کو جیل منتقل کردیا تھا۔

چیف جسٹس کے دورے اور شرجیل میمن کے کمرے سے شراب کی بوتلیں برآمد ہونے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے شرجیل میمن کے ڈرائیور محمد جان سمیت 2 افراد کو گرفتار کرلیا تھا۔

ڈی آئی جی جیل ناصر آفتاب نے بتایا تھا کہ 2 افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ سیکیورٹی پر تعینات اہلکاروں سے بھی پوچھ گچھ کی جائے گی۔

بعد ازاں بوٹ بیسن پولیس نے شرجیل میمن اور ان کے تین ملازمین کے خلاف معاملے کا مقدمہ درج کیا۔


 اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں
WordPress Video Lightbox Plugin