پاکستان عدالت

لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزاوں کو درست قرار دے دیا

سابق وزیراعظم نواز شریف ودیگر کی سزاوں کیخلاف درخواستوں کی سماعت میں لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزاوں کو درست قرار دیدیا۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف ودیگر کی سزاوں کیخلاف درخواستوں پر سماعت لاہور ہائیکورٹ میں ہوئی ۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں جسٹس عاطر محمود اور جسٹس شاہدجمیل خان پر مشتمل تین رکنی فل بینچ نے نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر کی سزاوں کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی۔اس موقع پر درخواست گزار کی جانب سے موقف اپنایاگیا کہ نیب آرڈیننس بننے کے 120 روزبعد غیر موثر ہو گیا تھا۔، تین بار وزیراعظم رہنے والے شخص کواس قانون کے تحت سزادی گئی جو ختم ہوچکاہے۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر کو مردہ قانون کے تحت سزا دی گئی لہٰذا عدالت نیب کے مردہ قانون کے تحت دی سزا کو کالعدم قرار دے۔عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا جو کچھ دیر بعد سنایا گیا۔عدالت نے درخواست گزار کی جانب سے نیب آرڈیننس 1999کو کالعدم قرار دینے اور تینوں شخصیات کی سزاوں کےخلاف درخواستیں خارج کردیں اور نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزاوں کو درست قرار دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ 18ویں ترمیم کے بعد بھی نیب آرڈیننس اپنی جگہ موجود ہے ۔


اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں