پاکستان سیاست

وزیر اطلاعات پنجاب کے نا زیبا الفاظ سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں

وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے سینما گھروں پر لگے فلمی پوسٹرز اور اداکارہ نرگس سے متعلق نامناسب الفاظ ادا کیے جن پر انہیں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

فیاض الحسن چوہان نے احکامات جاری کیے ہیں کہ سینما گھروں کے باہر موجود ’فحش‘ اور ’نازیبا‘ فلمی پوسٹرز ہٹا دیے جائیں، تاہم اس حوالے سے انہوں نے کچھ نازیبا الفاظ بھی ادا کیے جن کے باعث وہ سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں آگئے۔

فیاض الحسن چوہان نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک آفیشل نوٹیفیکیشن شیئر کی، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ’پنجاب موشن پکچرز کے آرڈیننس 1979 کے تحت اور 1993 ایکٹ کے مطابق ایسے فحش اور نازیبا فلمی پوسٹرز لگانا ممنوع ہے جنہیں ہٹانے کا فوری ایکشن لیا جائے‘۔

فیاض الحسن چوہان کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں وہ اس معاملے پر بات کرتے نظر آئے۔

ویڈیو میں فیاض الحسن چوہان نے لوگوں کے سامنے اردو اور پنجابی میں تقریر کرتے ہوئے میڈیا انڈسٹری کے خلاف بات نازیبا الفاظ استعمال کیے۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر کوئی بھی فحش پوسٹر پنجاب کے کسی سینما گھر کے باہر لگایا گیا تو پہلے انہیں جرمانہ دینا ہوگا، جبکہ اگر دوبارہ ایسا کیا گیا تو اس سینما کو بند کردیا جائے گا‘

انہوں نے عید الاضحیٰ پر ریلیز ہونے والی فلم ’جوانی پھر نہیں آنی-2‘ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یعنی یہ کیا کوئی وکھری(weird) جوانی ہے جو سینما گھروں پر آئی ہوئی ہے، کیا یہ انسانیت ہے؟ آدھی ننگی عورتوں کی تصاویر پرنٹ کرکے سینما گھروں کے باہر لگادی ہیں، ایسے لوگوں کے لیے وہ ٹوٹے(porn) موجود ہیں جو وہ دیکھ لیتے ہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’میری کوشش تھی کہ یہ معاملہ میری وزارتی حدود میں آتا، تو پھر میں نرگس کو حاجی نرگس نہ بناتا اور پھر وہ سال کے 3 نہیں 300 روزے نہ رکھتی تو آپ مجھے کہتے‘۔

تاہم سوشل میڈیا پر صارفین نے فیاض الحسن کے اس انداز کو پسند نہ کرتے ہوئے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔

ایک صارف نے کہا کہ فیاض الحسن یہ نہ بھولیں کہ وہ وزیر ہیں، انہیں کچھ بھی بولنے سے پہلے سوچنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں اپنی زبان شائستہ رکھنی چاہیے۔

خیال رہے کہ فیاض الحسن چوہان پنجاب کی صوبائی حلقے پی کے 17 راولپنڈی سے 25 جولائی 2018 کو ہونے والے انتخابات میں رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

اس سے قبل فیاض الحسن چوہان 2002 سے 2007 تک متحدہ مجلس عمل کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔

انہوں نے رواں ماہ 15 اگست کو رکن اسمبلی کا حلف اٹھایا، بعدازاں وہ پنجاب کابینہ کے رکن منتخب ہوئے۔


اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں

WordPress Video Lightbox Plugin