پاکستان سیاست

ڈی پی او پاکپتن کا تبادلہ، چیف جسٹس ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لے لیا

چیف جسٹس آف پاکستان نے ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل اور خاور مانیکا کے معاملے اور بعد ازاں ان کے تبادلے کا از خود نوٹس لے لیا ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے معاملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب، ایڈیشنل آئی جی، آر پی او ساہیوال اور ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کو کل طلب کر لیا ہے۔

خیال رہے کہ ڈی پی او پاکپتن رضوان کو مبینہ طور پر پیشہ وارانہ غلط بیانی کی وجہ سے او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے اور واقعہ کی انکوائری تاحال جاری ہے۔

 خاور مانیکا اور ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کے درمیان دو مرتبہ تلخ جملوں کا تبادلہ اور جھگڑا ہوا تھا۔ پہلا واقعہ اس وقت پیش آیا جب 5 اگست کو وزیرِاعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی بیٹی اور بیٹا مزار پر حاضری کیلئے لاہور سے پاکپتن کیلئے پیدل چلے۔

مبشرہ اور ابراہیم کے مطابق انہیں پاکپتن پہنچنے پر 2 مرتبہ ناکے پر روکا گیا اور بدتمیزی کی گئی۔ ابراہیم نے اپنے والد خاور مانیکا کو فون کیا جس پر وہ موقع پر پہنچ گئے۔ معاملہ ڈی پی او رضوان گوندل تک پہنچا تو انہوں نے اہلکاروں کو ہدایت کی کہ ان کو جانے دو اور معاملہ رفع دفع ہو گیا۔

دوسرا واقعہ 23 اگست کو پیش آیا جب خاور مانیکا کو ناکے پر روک کر چیک کیا گیا۔ پولیس اہلکاروں اور خاور مانیکا کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جس پر ڈی پی او کو فوری لاہور طلب کیا گیا اور خاور مانیکا سے معافی مانگنے کا کہا گیا۔

گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو میں صوبائی وزیرِ قانون فیاض الحسن چوہان نے کہا تھا کہ ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) پاکپتن رضوان گوندل کی جانب سے بشریٰ بی بی کے سابقہ شوہر خاور مانیکا کو روکے جانے کے بعد ان کیخلاف انتقامی کارروائی کی خبروں کی تحقیقات ہو رہی ہیں۔

فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ ڈی پی او پاکپتن کا معاملہ پولیس کا محکمانہ ایشو ہے، وہ شہریوں سے بدتمیزی کرتے ہیں اور اس وجہ سے اُن کے معاملات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ادھر پولیس ذرائع کے مطابق سابق ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل نے انکوائری کمیٹی کو اپنا تحریری بیان بھی جمع کروا دیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ میں نے کوئی غیر قانونی اقدام نہیں کیا، وزیرِاعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے سی ایم ہاؤس میں میٹنگ بلائی جس میں ایک غیر متعلقہ شخص بھی تھا جس نے سوالات کئے، خط میں اسی معاملے پر آر پی او کے ساتھ سی ایم ہاؤس میں ہونے والی تکرار کا ذکر کیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق تحریری بیان میں کہا گیا کہ سی ایم ہاؤس میں متعدد بار ڈیرے پر جا کر معافی مانگنے کا اصرار کیا جاتا رہا، ڈیرے پر معافی نہ مانگنے پر سی ایم ہاؤس میں ڈی پی او کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا تھا۔ اگلے روز آئی جی دفتر سے پہلے وزیرِاعلیٰ پنجاب کے پرسنل سیکٹری نے فوری چارج چھوڑنے کا ڈی پی او کو فون پر آگاہ کیا، 20 منٹ بعد ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز نے چارج چھوڑنے کا حکم جاری کیا۔

سابق ڈی پی او نے مانیکا فیملی کی طرف سے پولیس کے لئے استعمال کئے گئے غلیظ الفاظ کو بھی انکوائری کا حصہ بنانے کی درخواست کی ہے۔

ذرائع کے مطابق ماریہ محمود کو ڈی پی او پاکپتن تعینات کر دیا گیا ہے، ماریہ محمود ایس ایس پی انویسٹی گیشن راولپنڈی تعینات تھیں۔


اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں