fbpx
پاکستان تازہ خبر

پانی کا مسلہ، پاک بھارت مزاکرات کا آغاز

نیسپاک میں پاک-بھارت آبی تنازع سے متعلق انڈس کمیشن کے تحت 2 روزہ مذاکرات کا آغاز ہو گیا جس میں آبی منصوبوں پاکلِ دَل اور لوئرکَلنَئی پر تحفظات دہرائے جائیں گے۔

اس حوالےسے بتایا گیا کہ پاکستان دریائے چناب پر لوئر کالنائی میں 48 میگاواٹ اور پکادل میں 1000 میگاواٹ کے ہائیڈروالیکٹرک پروجیکٹس کی تعمیر پر اپنے تحفظات کا اظہار کرے گا۔

خیال رہے کہ 28 اگست کو انڈین واٹرکمشنر پی کے سیکسینا کی سربراہی میں بھارتی وفد براستہ واہگہ بارڈر لاہور پہنچا تھا۔

پاکستان واٹر کمشنر سید مہرعلی شاہ نے 9 رکنی بھارتی وفد کا استقبال کیا جو مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔

اس سے قبل پاکستان نے ان دونوں منصوبوں کے ڈیزائن پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور بھارت سے توقع ظاہر کی تھی کہ وہ یا تو اس کے ڈیزائن کو 1960 سندھ طاس معاہدے کے مطابق بنائے یا پھر پاکستان کو اطمینان بخش جواب دینے تک اس کی تعمیر روک دی جائے۔

دونوں ممالک کے وفود مستقبل میں ہونے والے مذاکرات اور واٹر کمشنر کے دوروں کا شیڈول بھی ترتیب دیں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے واٹر کمشنر کو سال میں دو مرتبہ ملاقات اور منصوبوں کی جگہوں پر ٹیکنیکل دوروں کے انتظامات کرنا ضروری ہیں لیکن پاکستان کو وقت پر اجلاس اور دوروں کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

مذاکرات میں منصوبوں کے حوالے سے دستاویزات کے تبادلے اور دریاؤں کے پانی کی منصفانہ تقسیم پر بھی گفتگو کی توقع کی جارہی ہے۔

خیال رہے کہ پاکل دل اور لوئر کلنائی دونوں منصوبے دریائے چناب کے 2 مختلف حصوں پر ہیں اور بھارت کی جانب سے گزشتہ برس مارچ میں وعدہ کیا گیا تھا کہ وہ ان منصوبوں کے ڈیزائن میں رد وبدل کرکے پاکستان کے تحفظات دور کرے گا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

یہاں تک کے اسلام آباد کے تحفظات کے باوجود رواں سال مئی میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک ہزار میگا واٹ کے پاکل دل منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔


اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں




From Google