پاکستان عدالت

اے آر وائی اینکرارشد شریف کو اظہار وجوہ کا نوٹس

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے اے آر وائے نیوز کے میزبان ارشد شریف کو اپنے پروگرام ‘پاور پلے’ میں عدالت میں زیر سماعت مقدمے کو زیر بحث لانے پر اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کردیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے 28 اگست کو نشر ہونے والے پروگرام پر لیے گئے از خود نوٹس کی سماعت کی، جس میں سابق صدر آصف علی زرداری کی جانب سے جمع کروائے گئے بیانِ حلفی پر گفتگو کی گئی تھی۔

پروگرام میں گفتگو کے دوران پوچھے جانے والے متعدد سوالات میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ’کیا آصف علی زرداری نے این آر او میں جھوٹا بیانِ حلفی جمع کروایا ہے؟‘

عدالت میں ہونے والی سماعت کے دوران پروگرام کے میزبان ارشد شریف اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

جس پر چیف جسٹس نے ارشد شریف سے استفسار کیا کہ عدالتوں میں زیرالتوا مقدمات پر آپ کیسے گفتگوکرسکتے ہیں؟ ہم نے نیب کو لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے سے منع کیا ہے، میڈیا کس طرح لوگوں کی پگڑیاں اچھال سکتا ہے؟

دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس طرح کے تبصرے عدالتی کاروائی پر اثرانداز ہوتے ہیں، جس پر میں آپ کے خلاف کاروائی کرسکتا ہوں، انہوں نے میزبان سے استفسار کیا کہ کیا آپ کا پروگرام اسپانسرڈ تھا؟ کس کے کہنے پر آپ نے پروگرام کیا؟

اس موقع پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ یہ تو سیدھا سیدھا میڈیا ٹرائل ہورہا ہے۔

بعدازاں تمام دلائل سننے کے بعد چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسو سی ایشن (پی بی اے) اور تمام میڈیا ہاؤسز کو نوٹسز جاری کردیتے ہیں اور پوچھ لیتے ہیں میڈیا کا ضابطہ اخلاق کیا ہے۔

چیف جسٹس نے اس طرح کے تبصروں کو عدالتی امور میں مداخلت قرار دیتے ہوئے اے آر وائے نیوز کے میزبان ارشد شریف کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کردیا۔

اس کے ساتھ پی بی اے، پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی( پیمرا ) اور اٹارنی جنرل کو بھی نوٹسز جاری کردیے۔

علاوہ ازیں پیمرا کو مذکورہ پروگرام کے کلپ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے از خود نوٹس کی سماعت 12 ستمبر تک ملتوی کردی۔

این آر او کیس کی سماعت

دوسری جانب سپریم کورٹ نے سابق صدر آصف علی زرداری کے بیان حلفی کو مسترد کرتے ہوئے دس سالہ ملکی و غیر ملکی جائیدادوں اور بنک اکاؤنٹس کے بارے میں نیا بیانِ حلفی طلب کر لیا۔

عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف اور سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم کو بھی 3 ہفتوں میں 10 سالہ تفصیلات پر مبنی بیان حلفی جمع کروانے کی ہدایت کر دی۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں3رکنی بینچ نے قومی مصالحتی آرڈیننس (این آر او) سے متعلق کیس کی سماعت کی، جس میں درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ عدالت نے فریقین سے غیر ملکی اثاثوں کی تفصیل مانگی تھی۔

سماعت کے دوران پرویز مشرف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پرویز مشرف کے پاس دبئی میں اپارٹمنٹ ہے اورایک اکاونٹ میں 92 ہزار درہم جبکہ ایک جیپ اور مرسڈیز سمیت تین گاڑیاں ہیں۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا پرویز مشرف ساری زندگی کی تنخواہ سے بھی فلیٹ لے سکتے تھے پرویز مشرف سے کہیں عدالت آ کر خود وضاحت دیں۔

جس پر وکیل نے بتایا کہ پرویز مشرف کے غیر ملکی اثاثے صدارت چھوڑنے کے بعد کے ہیں، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا لیکچر دینے کے اتنے پیسے ملتے ہیں کیوں نہ میں بھی ریٹائرمنٹ کے بعد لیکچر دوں؟

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ چک شہزاد فارم ہاؤس کس کا ہے؟ جس پر وکیل نے انہیں بتایا کہ وہ پرویز مشرف کا ہے، ہم عدالت سے کچھ نہیں چھپائیں گے۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت آپ کو کچھ چھپانے بھی نہیں دے گی اس کے ساتھ وکیل کو ہدایت کی کہ پرویز مشرف کے پاکستان میں موجود اثاثوں اور اہلیہ کے اثاثوں کی تفصیلات عدالت میں جمع کروائیں۔

دوسری جانب سپریم کورٹ نے ساب صدر آصف علی زرداری کا بیانِ حلفی مسترد کرتے ہوئے نیا بیانِ حلفی طلب کرلیا۔

آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں کہا کہ آصف زرداری 9 سال جیل میں رہے کچھ ثابت نہیں ہوا 9 سال قید کا کچھ صلہ تو ملنا چاہیے۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے کلئیرنس کی صورت میں ہی صلہ مل سکتا ہے، قومی سطح کے رہنماؤں کے اثاثے ظاہر ہونے چاہیے، کیا 9 سال جیل میں رہ کر اثاثے ڈکلئیر نہیں کیے جا سکتے۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہا آصف زرداری کی غلطی ہے کہ وہ سیاست دان ہیں جس پر عدالت نے کہا کہ لیڈروں کو اپنے اوپر لگے داغ دور کرنے چاہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آصف زرداری کاسوئیٹزرلینڈ میں اکاؤنٹ تھا یا بے نظیر بھٹو شہید اور بچوں کے نام پر کوئی اکاؤنٹ تھا ؟ جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اس کا جواب آصف زرداری سے معلوم کر کے دوں گا۔ 

چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ آصف علی زرداری 2007 کے بعد سے اب تک اپنے ملکی و غیر ملکی اثاثوں کی تفصیلات دیں اگروہ کسی ٹرسٹ کے مالک یا بینفشل اونر ہیں یا بالواسطہ بلاواسطہ کسی اکاؤنٹ کے مالک یا شراکت دار ہیں تو عدالت کو آگاہ کریں۔

بعد ازاں عدالت نےسابق صدور پرویز مشرف ، آصف علی زرداری اور سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم سے بھی 10 سالہ جائیدادوں اور بنک اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کر تے ہوئے3 ہفتوں میں بیان حلفی جمع کروانے کی ہدایت کر دی۔


اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں