پاکستان سیاست

وفاقی کابینہ کا نیب قوانین میں ترامیم کا فیصلہ

پی ٹی آئی کی مرکزی حکومت نے نیب قوانین میں ترمیم، نیشنل بینک کے صدر کو ہٹانے کی منظوری اور جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی۔

اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جہاں پی ٹی آئی کے منشور پر عمل کرنے کے حوالے سے فیصلے کیے گئے۔

وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کابینہ اجلاس کے بعد مشیر ماحولیات امین اسلم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نیب کے قانون کو موثر بنانے کے لیے ترامیم کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلاامتیاز احتساب پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور نیب قوانین میں ترامیم کے لیے وزیرقانون کی سربراہی میں ایک ٹاسک فورس بنا دی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ چیئرمین نیشنل بینک کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے تاہم کسی بھی کنٹریکٹ ملازم کو برطرف نہیں کیا جائے گا اس لیے بیوروکریسی میں موجود ایمان دار افسروں کو ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام کے لیے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اورخسروبختیار پر مشتمل کمیٹی بنا دی گئی ہے جو پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطے کرے گی کیونکہ صوبے کے قیام کے لیے 2 تہائی اکثریت کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھروں کے لیے ٹاسک فورس بنا دی ہے اور وزیراعظم ہر 15دن میں اس ٹاسک فورس کا جائزہ لیں گے۔

وفاقی وزیراطلاعات نے مزید کہا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ میں بھی ترامیم لائی جائیں گی۔

مشیر ماحولیات امین اسلم نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت ماحولیات کے حوالے سے اقدامات کرے گی اور 2 ستمبر سے باقاعدہ اس مہم کا آغاز ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ 2 ستمبر کو پورے پاکستان میں 15 لاکھ پودے لگائے جائیں گے اور عوام کو مفت پودے فراہم کیے جائیں گے۔

امین اسلم کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اس مہم کا افتتاح اسلام آباد میں کریں گے اور وزرا اعلیٰ اپنے صوبوں میں اس مہم کو جاری رکھیں گے۔

ایک سوال پر وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان وزیر اعظم ہیں پی ٹی آئی کے چیئرمین نہیں ہیں اس لیے انھیں سیکیورٹی کی ضرورت ہے اور اگر وہ ہفتہ وار چھٹیوں کے دوران بنی گالا گاڑی میں جائیں گے تو عوام کو تکلیف کا سامنا ہوگا اس لیے وہ ہیلی کاپٹر میں جارہے ہیں۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہیلی کاپٹر کا استعمال وی آئی پی کلچر نہیں ہے بلکہ وی آئی پی کلچر اور سیکیورٹی میں فرق کرنا چاہیے۔


اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں
WordPress Video Lightbox Plugin