fbpx
پاکستان کرائم سٹوری

کراچی :ایک اور بے گناہ پولیس مقابلے کی نظر

کراچی کے ضلع ملیر میں سپر ہائی وے پر پولیس اور مبینہ منشیات فروشوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہونے والا نوجوان پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق بے گناہ ثابت ہوگیا۔

ایس ایس پی ملیر شیراز نذیر نے بتایا کہ انہوں نے ملیر میں سپر ہائی وے سے متصل علاقے خلجی گوٹھ میں منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا۔

ایس ایس پی ملیر کے مطابق منشیات فروشوں نے پولیس کی نفری پر فائنرنگ شروع کردی، تاہم ان سے نمٹنے کے لیے پولیس کی مزید نفری طلب کی گئی۔

پولیس اور منشیات فرشوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کچھ دیر تک جاری رہا جس میں ایک شخص ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوگیا تھا جن کے حوالے سے ابتدا میں پولیس کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ منشیات فروش گروہ کا حصہ ہیں۔

بعدِ ازاں ہلاک ہونے والے شخص کے اہلِ خانہ اور علاقہ مکین گھروں سے نکل آئے اور انہوں نے پولیس کے خلاف سپر ہائی پر احتجاج کیا اور الزام عائد کیا کہ پولیس نے بے گناہ شخص کو قتل کردیا جبکہ اس کا منشیات فروشوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

پولیس اور مظاہرین کے درمیان معاملہ شدت اختیار کرگیا اور مشتعل مظاہرین نے سپر ہائی کو بلاک کردیا، تاہم پولیس کی جانب سے مظاہرین پر شیلنگ بھی کی گئی۔

واقعے کی ابتدائی تحقیقات میں ایس ایچ او گڈاپ نے بتایا کہ جاں بحق نواجوان منشیات فروش نہیں تھا۔

اے آئی جی پولیس امیر شیخ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ایسٹ عامر فاروقی کو مبینہ پولیس مقابلے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔

ایڈیشنل آئی جی امیر شیخ نے کہا کہ اس واقعے میں جو بھی عناصر ملوث ہوں گے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔


اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں

WordPress Video Lightbox Plugin