fbpx
پاکستان سیاست

لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا

لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو میاں نواز شریف کا نام ای سی ایل سے خارج کرنے کا حکم دیتے ہوئے سابق وزیراعظم کو علاج کے لیے 7 ارب روپے کے بونڈ کی شرط کے بغیر 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی۔

لاہور ہائی کورٹ  نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے اور غیر مشروط طور پر باہر جانے کے لیے دی گئی درخواست پر ان کے حق میں فیصلہ سنادیا۔

عدالت نے وفاقی حکومت کی جانب سے لگائے گئے 7 ارب روپے کے بونڈز کی شرط کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جب ہائی کورٹ نے ضمانت دی ہے تو اس شرط کا کوئی جواز نہیں بنتا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے حکم میں کہا کہ نواز شریف  علاج کی خاطر 4 ہفتوں کے لیے ملک سے باہر جاسکتے ہیں اور علاج کے لیے مزید وقت درکا ہوا تو درخواست گزار عدالت سے دوبارہ رجوع کرسکتا ہے اور میڈیکل رپورٹس کی روشنی میں توسیع دی جاسکتی ہے۔

اس موقع پر شہباز شریف کا  میڈیا سے گفتگو   کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عدالت نے حکومت کی جانب سے عائد کی گئی غیر قانونی شرط کو مسترد کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم کو علاج کے لیے باہر جانے کی اجازت دی ہے۔

انہوں نے وکلا اور قوم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی صحت یابی کے لیے دعا کریں۔

قبل ازیں صبح جب عدالت نے سماعت شروع کی تو اس میں ابتدائی دلائل کے بعد متعدد مرتبہ سماعت ملتوی کی گئی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکلانے کی درخواست منظور کی تھی جس پر باقاعدہ سماعت کا آغاز آج صبح 11 بجے شروع ہونے تھی۔

تاہم سماعت کا آغاز تقریباً 30 منٹ تاخیر سے ہوا۔

سماعت کے آغاز پر  شہباز شریف بھی عدالت میں پیش ہوئے، علاوہ ازیں پرویز رشید اور احسن قبال بھی لاہور ہائی کورٹ پہنچ گئے۔

شہباز شریف کی قانونی ٹیم عدالت پہنچی اور نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے اپنے دلائل پیش کیے۔

جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے مسلم لیگ (ن) کے صدر کی درخواست پر سماعت کی۔

علاوہ ازیں حکومت کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل  چوہدری اشتیاق اے خان جبکہ نیب کی جانب سے عدالت میں فیصل بخاری اور چوہدری خلیق الرحمٰن پیش ہوئے۔

دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ کیا حکومتی میمورینڈم انسانی بنیادوں پر جاری کیا گیا؟ جس پر وفاقی حکومت کے وکیل نے جواب دیا کہ حکومت کے علم میں ہے نواز شریف کی صحت تشویشناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر نواز شریف حکومت کو بانڈز جمع نہیں کرانا چاہتے تو عدالت میں جمع کرا دیں۔

جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ نواز شریف کے وکیل بتائیں کہ کیا نواز ضمانت کے طور پر کچھ دینا چاہتے ہیں یا نہیں؟

عدالت نے شہباز شریف کی قانونی ٹیم کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ نواز شریف سے ہدایات لے کر عدالت کو آگاہ کیا جا سکتا ہے۔

بعدازاں درخواست گزار کی قانونی ٹیم نے اس معاملے پر مشورہ لینے کے لیے 15 منٹ کی مہلت مانگی۔

جس پر عدالت سماعت تقریباً ساڑھے بارہ بجے سماعت 15 منٹ تک ملتوی کردی۔

لاہور ہائی کورٹ میں سماعت کا دوبارہ آغاز تقریباً 12 بج کر 45 منٹ پر شروع ہوا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ای سی ایل سے نام نکالنے کے لیے شرائط لگائی جا سکتی ہیں؟ اور اگر ضمانت کے بعد ایسی شرائط لاگو ہوں تو، کیا اس سے عدالتی فیصلے کو تقویت ملے گی یا نہیں؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم نے عدالت کی رٹ قائم کرنے کے لیے شرائط لاگو کی ہیں، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا حکومت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنا چاہتی ہے یا نہیں؟

حکومتی وکیل نے کہا کہ ہم نے شرائط اس لیے لاگو کیں تاکہ نواز شریف واپس آ کر پیش ہوں۔

انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اگر نواز شریف بیرون ملک علاج کروانا چاہتے ہیں تو کروا سکتے ہیں مگر سابق وزیر اعظم عدالت کو مطمئن کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر عدالت مطمئن ہو تو ہمیں نواز شریف کے بیرون ملک جانے پر اعتراض نہیں۔

شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جب معاملہ عدالت میں ہو تو حکومت مداخلت نہیں کرسکتی اور ہم نواز شریف کی جانب سے عدالت کو یقین دہانی کراتے ہیں کہ سابق وزیراعظم جب بھی صحت مند ہوں ملک میں آجائیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم عدالت میں تحریری حلف نامہ دے دیتے ہیں کہ نواز شریف صحت یاب ہوکر پاکستان آئیں گے، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا شہباز شریف یقین دہانی کراتے ہیں کہ وہ نواز شریف کو واپس لائیں گے؟

عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ہم نواز شریف اور شہباز شریف سے تحریری حلف نامہ لے لیتے ہیں وفاق اس دیکھ لے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ ‘یہ تحریری حلف نامہ عدالت میں دیا جائے گا اور اگر حلف نامے پر عمل درآمد نہیں ہوتا تو توہین عدالت کا قانون موجود ہے’۔

اس دوران شہباز شریف نے کہا کہ للہ نواز شریف کو صحت دے اور اللہ تعالی نواز شریف کو واپس لائیں گے۔

عدالت نے حکم دیا کہ نواز شریف اور شہباز شریف واپس آنے سے متعلق لکھ کر دیں، جس کے بعد عدالت نے ایک مرتبہ پھر سماعت تقریباً دوپہر سوا ایک بجے 15 منٹ کے لیے ملتوی کر دی۔

بعدزاں امجد پرویز ایڈووکیٹ نے تقریباً 1 بج کر 45 منٹ پر نواز شریف اور شہباز شریف کی تحریری یقین دہانی کا ڈرافٹ تیار کر کے ججز کے چیمبر میں جمع کرادیا۔

ہاتھ سے لکھا ہوئی تحریری یقین دہانی کا ڈرافٹ دو صفحات پر مشتمل ہے

وکلا کی جانب سے جمع کرائے حلف نامے کے متن میں یقین دہانی کرائی گئی کہ نواز شریف صحت مند ہوتے ہی وطن واپس آئیں گے اور اپنے عدالتی کیسز کا سامنا کریں گے۔

ڈرافٹ میں کہا گیا کہ نواز شریف پاکستان کےڈاکٹروں کی سفارش پر بیرون ملک جا رہے ہیں اور بیرون ملک میں موجود ڈاکٹر جیسے ہی اجازت دیں گے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر نواز شریف واپس آئیں گے۔

عدالت کی جانب سے بیان حلفی کی کاپی تقریباً پونے دو بجے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو فراہم کردی گئی۔

تاہم عدالت نے مقدمے کی سماعت ڈھائی بجے تک ملتوی کردی۔

ساڑھے تین بجے تک شروع ہونے والی سماعت میں شہباز شریف کے وکیل نے نواز شریف کی یقین دہانی کا درافٹ عدالت میں پڑھ کر سنایا۔

وکیل نے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف نے انڈر ٹیکنگ دی ہے کہ جیسے ہی نواز شریف صحت یاب ہوں گے واپس آئیں گے۔

جس پر عدالت نے وفاقی حکومت کے وکیل سے استفسار کیا کہ جی وفاقی حکومت کا کیا موقف ہے؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے ڈرافٹ پر اعتراض اٹھا دیا۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہمیں اس درافٹ پر اعتراض ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ ڈرافٹ میں نہیں لکھا گیا کہ نواز شریف کب جائیں گے کب آئیں گے۔

حکومتی وکیل نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے خاص مدت کے لیے نواز شریف کی ضمانت منظور کی تھی اور25 نومبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں نواز شریف کیس کی مین اپیل بھی مقرر ہے۔

وکیل نے کہا کہ نواز شریف کو عدالت کے سامنے پیش ہونا ہے۔

حکومتی وکیل نے کہا کہ نواز شریف ضمانتی بانڈ جمع کرائیں۔

جس پر جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ ہر کوئی جانتا ہے نواز شریف کی صحت خراب ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے ڈرافت کے جواب میں حکومت نے بھی ایک ڈرافٹ تیار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت جب سمجھے گی کہ نواز شریف کی حالت ٹھیک ہے تو حکومت اپنا بورڈ ملک سے باہر چیک اپ کے لیے بھیج سکتی ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ بورڈ یہ چیک کرے گا کہ نواز شریف سفر کر کہ ملک میں واپس آ سکتے ہیں یا نہیں۔

حکومتی وکیل نے ایک مرتبہ پھر دہرایا کہا کہ اگر حکومت کو اینڈیمنٹی بانڈ جمع نہیں کرائے جاتے تو عدالت میں کرا دیں۔

جس پر جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ یہ عدالت حکومتی شرائط سے متعلق فیصلہ کرے گی۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ ہمارے خیال سے یہ درست نہیں کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ضمانت دی اور حکومت نے شرائط عائد کیں۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر نواز شریف کی صحت ٹھیک ہو جاتی ہے تو وفاقی حکومت کا بورڈ نواز شریف کا معائنہ کر سکتا ہے۔

بعدازاں عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالت اپنا ڈرافٹ تیار کر کے فریقین وکلا کو دے گی اور اس کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے گا۔

لاہور ہائیکورٹ نے تقریباً 4 بجے نواز شریف کا نام ای ایل سی نکالنے پر مشتمل مقدمے کی سماعت ملتوی کردی۔

بعدازاں تقریباً 5 بجے عدالت کی جانب سے مجوزہ ڈرافٹ فریقین وکلا کو فراہم کردیا گیا جس کی تفصیلات تاحال منظر عام پر آنا باقی ہیں۔


About the author

عدیل رحمان (معاون مُدیر)

عدیل رحمان پاک ایشیاء میں بطور معاون مُدیر کے طور پر اپنی خدمات ادا کر رہے ہیں- یہ پاک ایشیاء کے ابتدائی ساتھیوں میں سے ایک ہیں اور انتہائی جانفشانی سے کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں منفرد تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے جس کا اظہار اکثر اُن کی خبروں کی سُرخیوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.




From Google